Column

اعتدال، بھوک اور صحت کا فلسفہ

اعتدال، بھوک اور صحت کا فلسفہ

صفدر علی حیدری

انسانی جسم قدرت کا وہ شاہکار ہے جس کی پیچیدگی اور نظم و ضبط دیکھ کر عقل انسانی دنگ رہ جاتی ہے۔ یہ محض گوشت پوست کا لوتھڑا نہیں، بلکہ ایک ایسا خودکار اور مربوط نظام ہے جہاں ہر خلیہ، ہر بافت (Tissue)اور ہر عضو ایک عالمگیر قانونِ توازن کے تحت متحرک ہے۔ کائنات کا سارا حسن ‘اعتدال’ میں ہے، اور یہی اصول انسانی جسم پر بھی صادق آتا ہے۔ جب اس نظام میں اعتدال کا دامن چھوٹتا ہے، تو جسمانی، ذہنی اور روحانی اکھاڑ پچھاڑ شروع ہو جاتی ہے۔ اس پورے حیاتیاتی ڈھانچے میں ‘معدہ’ وہ مرکزی نقطہ ہے جسے انسانی صحت کا ‘امام’ کہا جا سکتا ہے۔ معدہ محض ہاضمے کی ایک مشین نہیں بلکہ یہ انسانی توانائی کا وہ پاور ہاس ہے جہاں سے زندگی کی لہریں پورے بدن میں دوڑتی ہیں۔ اگر یہ مرکز درست ہے تو پورا نظامِ وجود رقصِ بسمل کی طرح متحرک رہتا ہے، اور اگر یہاں خرابی پیدا ہو جائے تو انسان بیماریوں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔
معدہ: بیماریوں کا دروازہ اور صحت کا ضامن
حکما اور اطباء قدیم زمانے سے معدے کو بیماریوں کا گھر (Gateway of Diseases)قرار دیتے آئے ہیں۔ جدید سائنس بھی اب اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ انسانی مدافعتی نظام (Immune System)کا ایک بڑا حصہ معدے اور آنتوں کی صحت سے جڑا ہوا ہے۔ معدہ نہ صرف خوراک کو توانائی میں تبدیل کرتا ہے بلکہ یہ انسانی وقار اور شخصیت کا عکاس بھی ہے۔ جب انسان اپنی اشتہا پر قابو نہیں پاتا اور معدے کو ایک ‘ڈسٹ بن’ کی طرح استعمال کرنا شروع کر دیتا ہی، تو وہ دراصل اپنی موت کے پروانے پر خود دستخط کر رہا ہوتا ہے۔ پر خوری یا بسیار خوری (Overeating) وہ خاموش قاتل ہے جو انسان کو بتدریج جسمانی طور پر معذور، ذہنی طور پر مفلوج اور روحانی طور پر بنجر بنا دیتی ہے۔
تاریخِ طب کے عظیم نام، بو علی سینا کا وہ قول آج بھی علمِ طب کی بنیاد سمجھا جاتا ہے کہ: "اتنے لوگ میدانِ جنگ میں تلواروں سے نہیں مرے، جتنے اپنی خوراک کی زیادتی کی وجہ سے بسترِ مرگ پر پہنچے”۔ یہ جملہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ اگر ہم عالمی شماریات پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں بھوک ( قحط) سے مرنے والوں کی تعداد کے مقابلے میں ان لوگوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے جو ذیابیطس، بلڈ پریشر، امراضِ قلب اور موٹاپے کا شکار ہو کر لقمہ اجل بنے، اور ان تمام امراض کی جڑ ‘پر خوری’ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، اگر فاقہ کشی سے ایک انسان مرتا ہے تو بسیار خوری سی چار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یہ تناسب ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو کس ڈھب پر گزار رہے ہیں۔
پر خوری صرف ایک انفرادی برائی نہیں بلکہ یہ ایک سماجی روگ بھی ہے۔ وہ معاشرے جہاں کھانے پینے کی ریل پیل ہو اور لوگ اعتدال کا راستہ چھوڑ دیں، وہاں ہڈ حرامی، سستی اور ذہنی پس ماندگی جڑ پکڑ لیتی ہے۔ انسانی جسم اس لیے تخلیق نہیں کیا گیا کہ وہ ہر وقت غذا کو ہضم کرنے کے عمل میں مصروف رہے، بلکہ اسے حرکت، مشقت اور تخلیقی کاموں کے لیے بنایا گیا ہے۔ جب معدہ ہر وقت بھرا رہتا ہے، تو جسم کی تمام تر توانائی ہاضمے کے عمل پر صرف ہونے لگتی ہے، جس کے نتیجے میں دماغ کو خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ کھانے والے لوگ اکثر ذہنی طور پر سست اور تخلیقی صلاحیتوں سے عاری پائے جاتے ہیں۔ ان کی روحانی بالیدگی ختم ہو جاتی ہے اور وہ محض حیوانی جبلتوں کے اسیر بن کر رہ جاتے ہیں۔
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال کا درس دیتا ہے۔ قرآنِ کریم کا واضح حکم ہے: "کھائو اور پیو، مگر اسراف نہ کرو” ۔ یہاں اسراف سے مراد صرف ضیاع نہیں بلکہ ضرورت سے زیادہ کھانا بھی ہے۔ حضور نبی کریمؐ کا ارشادِ گرامی ہے: "مومن ایک آنت سے کھاتا ہے، جبکہ کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے”۔ اس حدیثِ مبارکہ میں ایک مومن کے لیے مکمل طبی راہنمائی موجود ہے۔ ایک مومن کی پہچان یہ ہے کہ وہ کھانے کے لیے نہیں جیتا، بلکہ جینے کے لیے کھاتا ہے۔ وہ اپنی بھوک کا صرف ایک تہائی حصہ کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی کے لیے اور ایک تہائی سانس ( ہوا) کے لیے خالی چھوڑتا ہے۔ یہی وہ زریں اصول ہے جو انسان کو تمام عمر طبیبوں سے بے نیاز کر سکتا ہے۔
بھوک دراصل قدرت کا وہ پیغام ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ جسم کو اب توانائی کی ضرورت ہے۔ اگر ہم اس الارم کی آواز سنے بغیر محض ذائقے کی لذت کے لیے کھاتے چلے جائیں، تو معدے کی قدرتی ریگولیشن ختم ہو جاتی ہے۔ بھوک کی حالت میں کھانا کھانے سے معدے کے غدود (Glands)وہ مخصوص انزائمز خارج کرتے ہیں جو غذا کو بہترین طریقے سے ہضم کر کے اسے جزوِ بدن بناتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب معدہ پہلے سے بھرا ہو اور اوپر سے مزید کھانا ڈال دیا جائے، تو وہ کھانا ہضم ہونے کے بجائے معدے میں سڑنا شروع کر دیتا ہے، جس سے زہریلے مادے (Toxins)پیدا ہوتے ہیں۔ یہ ٹاکسنز خون میں شامل ہو کر چہرے کی رنگت خراب کرتے ہیں، جوڑوں میں درد پیدا کرتے ہیں اور کینسر جیسے موذی امراض کی بنیاد بنتے ہیں۔
صحت کے اس فلسفے میں روزے کا کردار کسی ‘معجزے’ سے کم نہیں۔ جدید میڈیکل سائنس اب ‘آٹو فیجی’ (Autophagy) کے تصور کو پیش کر رہی ہے، جس کے مطابق جب انسان طویل وقت تک بھوکا رہتا ہے تو اس کے جسم کے صحت مند خلیے بیمار اور ناکارہ خلیوں کو کھانا شروع کر دیتے ہیں، جس سے جسم کے اندر صفائی کا ایک خودکار نظام متحرک ہو جاتا ہے۔ روزہ دراصل معدے کو وہ ضروری آرام (Rest)فراہم کرتا ہے جو اسے سال بھر میسر نہیں آتا۔ ہفتے میں ایک یا دو دن کا فاقہ یا روزہ انسانی آنتوں کی سوزش کو ختم کرتا ہے، انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتا ہے اور عمر میں اضافے (Anti-aging)کے عمل کو سست کر دیتا ہے۔ روحانی طور پر روزہ انسان میں صبر، شکر گزاری اور ضبطِ نفس پیدا کرتا ہے، جو اسے ایک باشعور انسان بننے میں مدد دیتے ہیں۔
ہم اکثر صحت کا تذکرہ کرتے ہوئے صرف خوراک پر توجہ دیتے ہیں، جب کہ پانی اور ہوا اس مثلث کے باقی دو اہم ضلعے ہیں۔ انسانی جسم کا ستر فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ اعتدال کے ساتھ پانی کا استعمال نہ صرف خون کی گردش کو برقرار رکھتا ہے بلکہ گردوں کے ذریعے جسم سے زہریلے فضلات کو خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح، سانس لینے کا درست طریقہ اور آکسیجن کی وافر مقدار دماغی خلیوں کو زندہ رکھتی ہے۔ روزہ ہمیں پانی کی قدر اور سانس کے نظم و ضبط کی بھی تربیت دیتا ہے۔ کم پانی پینا جس طرح نقصان دہ ہے، ضرورت سے زیادہ پانی پینا بھی معدے کے انزائمز کو پتلا کر کے ہاضمے کو متاثر کرتا ہے۔ لہٰذا یہاں بھی اعتدال ہی کامیابی کی کنجی ہے۔
اگر ہم ماضی کے عظیم مسلمان حکمرانوں، صوفیاء اور علماء ربانیین کی زندگیوں کا مطالعہ کریں، تو ان کی طویل عمری اور غیر معمولی ذہنی صلاحیتوں کا راز ان کی کم خوری میں پوشیدہ ملتا ہے۔ وہ لوگ مہینے کے ایامِ بیض (13، 14، 15 تاریخ) کی روزے رکھتے تھے اور ان کا دسترخوان نہایت سادہ ہوتا تھا۔ انہوں نے کبھی معدے کو بوجھل نہیں ہونے دیا، اسی لیے وہ راتوں کو قیام کرنے اور دنوں کو فتوحات حاصل کرنے کے قابل تھے۔ آج ہم انواع و اقسام کے کھانوں میں گھرے ہونے کے باوجود نقاہت اور بیماریوں کا شکار ہیں، کیونکہ ہم نے اسلاف کے اس ‘فلسفہِ اعتدال’ کو فراموش کر دیا ہے۔
خلاصہِ کلام اور حاصلِ مطالعہ
مذکورہ بالا تمام بحث سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ انسانی صحت، ذہانت اور روحانی سکون کا دارومدار معدے کے توازن پر ہے۔ معدہ وہ ترازو ہے جس کا پلڑا اگر جھک جائے تو زندگی کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ پر خوری ایک ایسی لعنت ہے جو انسان کو زندہ درگور کر دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی خوراک میں اعتدال لائیں، بھوک لگنے پر کھائیں اور پیٹ بھرنے سے پہلے ہاتھ روک لیں۔ ہفتے میں کم از کم ایک بار معدے کو آرام دے کر روزے کی برکات سمیٹیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے پروردگار کو بھرا ہوا پیٹ سخت ناپسند ہے ۔
تحریر کا اختتام اس دانش مندانہ نصیحت پر کرنا ضروری ہے جو دورِ جدید کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے:”اپنی غذا کو دوا کی طرح کھائو، تاکہ تمہیں اپنی دوائوں کو غذا کی طرح نہ کھانا پڑے”۔
اگر ہم آج اس فلسفے کو اپنا لیں، تو نہ صرف ہسپتالوں کی بھیڑ کم ہو جائے گی بلکہ ایک صحت مند، توانا اور روشن دماغ معاشرہ جنم لے گا، جو ‘شہرِ خواب’ کی حقیقت بن سکے گا۔

جواب دیں

Back to top button