انتخابات میں دھاندلی کے خلاف آج ملک گیر احتجاج

انتخابات میں دھاندلی کے خلاف آج ملک گیر احتجاج
امتیاز عاصی
پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہوتا ہے اگر وہ کسی مسئلے پر احتجاج کریں تو انہیں روکا نہیں جا سکتا۔ ہماری سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے سیاسی جماعتیں پرامن احتجاج کی آڑ میں توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کرتیں۔ ملک میں جب تک طلبہ تنظیموں کو سرگرمیوں کی اجازت تھی احتجاج کی آڑ میں سرکاری املاک محفوظ نہیں رہتی تھیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ ہو یا پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن یا پھر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن ماضی میں احتجاج کی آڑ میں طلبہ تنظیموں نے سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سے گریز نہیں کیا۔ ہمیں یاد ہے ایوبی دور میں کالجوں کے طلبہ کا ڈبل ڈیکر بسوں اور بینکوں کو نذر آتش کرنا معمول تھا۔ یہ تو جنرل ضیاء الحق کا بھلا ہو جس نے طلبہ تنظیموں پر ایسی پابندی لگائی کوئی حکومت یہ پابندی اٹھا نہیں سکی۔ آج اتوار کو پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین اور جے یو آئی علیحدہ علیحدہ انتخابات میں ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کریں گی۔ پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین کا احتجاج مشترکہ طور پر ہوگا جبکہ جے یو آئی اپنے طور ریلیاں نکالے گی۔ پی ٹی آئی نے شٹر ڈائون اور پہیہ جام کی کال دے رکھی ہے، ویسے تو اتوار کو سڑکوں پر ٹریفک بہت کم ہوتی ہے جس کی وجہ تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر میں چھٹی ہوتی ہے۔ اس لئے سڑکوں پر ٹریفک کی وہ گہماگہمی دیکھنے میں نہیں آئے گی جیسا کہ روزمرہ میں ہوتی ہے۔ خبروں کے مطابق پی ٹی آئی 8فروری کے بعد کسی قسم کے احتجاج سے گریز کرے گی بلکہ اس کا فوکس بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج معالجے پر ہوگا۔ پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ نے جمعہ کے روز اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار کوایک یادداشت بھی پیش کی جس کا مقصد بانی پی ٹی آئی کے علاج معالجہ سے متعلق ہے۔ جہاں تک ملک گیر احتجاج کا تعلق ہے ہم پہلے کے پی کے کی بات کریں گے جہاں پی ٹی آئی کی اپنی حکومت ہے اس لئے اس بات کا قومی امکان ہے۔ سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگی اور کاروبار بھی بند ہوگا لیکن جہاں تک پنجاب کی بات ہے وہاں وزیراعلیٰ نے عوام کو بسنت کی اجازت دے رکھی ہے۔ کاروباری طبقہ شائد کاروبار بند نہ کرے کیونکہ ٹریڈرز کی ہمدردیاں مسلم لیگ نون کے ساتھ ہیں اور مسلم لیگ نون کے رہنمائوں کا تعلق بھی کاروباری طبقے سے ہے، لہذا پنجاب میں شٹر ڈائون کا بہت کم امکان ہے۔ اگر ہم سندھ کی بات کریں تو کراچی کے عوام پیپلز پارٹی سے ویسے بھی نالاں ہیں۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی وہاں کا دورہ کرکے پارٹی رہنمائوں کو آٹھ فروری کے لئے متحرک کر چکے ہیں، لہذا اس بات کا زیادہ امکان ہے کراچی میں شٹر ڈائون اور ٹریفک بند رہے گی۔ کچھ ٹریفک بند رہنے کی وجہ پہلے ہم بیان کر چکے ہیں، سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں چھٹی ہونے سے ویسے بھی سڑکوں پر ٹریفک بہت کم ہوگی۔ اگر ہم بلوچستان کی بات کریں تو وہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن بلوچستان جو برسوں سے دہشت گردی میں گھیرا ہوا ہے وہاں کے عوام یوں بھی گھروں سے بہت کم باہر نکل رہے ہیں، لہذا بلوچستان میں اس بات کا قومی امکان ہے ٹریفک اور کاروبار بند رہے گا۔ اگر چاروں صوبوں میں ایسا ممکن ہوا تو پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین کی یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ ویسے بھی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات اور آنے والے دنوں میں تحریک تحفظ آئین کے رہنمائوں سے وزیراعظم کی متوقع ملاقات سے یہ کہنا غلط نہیں ہوگا اب معاملات افہام و تفہیم کی طرف چل پڑے ہیں۔ گو حکومت طاقتور حلقوں کی منشاء کے بغیر کوئی قدم آگے بڑھا نہیں سکتی مگر ملک میں سیاسی عدم استحکام کے باعث معاشی حالات کی خرابی اور سرمایہ کاری کا رک جانا اس بات کا متقاضی ہے حکومت اور اپوزیشن کے مابین بات چیت کا سلسلہ جاری رہنے سے ملکی حالات بہتری کی طرف جا سکتے ہیں۔ گو بانی پی ٹی آئی سے ان کے اہل خانہ سے ملاقاتوں پر قدغن ہے لیکن اگر حکومت اور پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین کے درمیان بات چیت مثبت سمت چل پڑے تو بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمات کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔ بانی پی ٹی آئی کے بہنوں کو بھی اس بات کا ادراک ہونا چاہیے سیاسی میدان میں سیاست دانوں کو جیلوں میں رہنا پڑتا ہے۔ اگر بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں سیاست دانوں کا ملک و قوم کے مفاد میں جیلوں میں رہنا پڑتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے جن جن رہنمائوں نے جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں بالاآخر عوام انہیں اقتدار پر لے آئے۔ سیاست دانوں کی جدوجہد کا زیادہ تر مقصد اقتدار کا حصول ہوتا ہے۔ اگرچہ بانی پی ٹی آئی ملک کے عوام کو غلامی سے نجات دلانے کی جدوجہد میں ہیں۔ ان کی جدوجہد کا مقصد شفاف انتخابات اور آزاد الیکشن کمیشن کا قیام ہے، لیکن بانی پی ٹی آئی کو یہ بات بھی مدنظر رکھنا ہوگی ملک میں اقتدار کا حصول طاقتور حلقوں کی رضامندی کے بغیر ممکن ممکن نہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ذوالفقار علی بھٹو سے نواز شریف، عمران خان اور شہباز شریف کا اقتدار طاقتور حلقوں کا مرہون منت ہے۔ ہاں البتہ یہ بات اظہر من التمش ہے بانی پی ٹی آئی نے ملک کے عوام کو باشعور کرنے میں اہم کردار ادا کیا انہیں اچھے اور برے سیاست دانوں سے متعارف کرایا ہے۔ الیکشن مہم میں بانی پی ٹی آئی نے عوام سے ملک و قوم کو لوٹنے والوں کا احتساب کرنے کا وعدہ کیا جو وہ پورا نہیں کر سکے۔ اقتدار سے ہٹانے جانے کے بعد عمران خان کا ایک نجی چینل پر یہ کہنا انہیں احتساب کرنے سے روکا گیا۔ اے کاش وہ اقتدار میں رہتے ہوئے احتساب سے روکنے والوں کو نام لے کر قوم کو بتانے کو ان کا قد کاٹھ اور بڑھ سکتا تھا۔ بہرکیف بانی پی ٹی آئی نے جیل میں رہتے ہوئے کسی قسم کی ڈیل سے انکار کرکے نئی تاریخ رقم کی ہے۔ عوام کو آج کے دن کا انتظار کرنا چاہیے، آیا پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین کی احتجاج کی کال کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے یا نہیں۔






