لہو میں ڈوبی عبادت گاہیں
لہو میں ڈوبی عبادت گاہیں
شہر خواب ۔۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔۔
اسلام آباد کی فضا ایک بار پھر لہو سے رنگ دی گئی۔ نمازِ جمعہ کے لیے سجدے میں جھکتے ہوئے معصوم انسانوں کو نشانہ بنایا گیا، وہ جو امن کے طالب تھے، جو رب کے حضور حاضر تھے۔ یہ صرف ایک دھماکہ نہیں تھا، یہ انسانیت کے وجود پر ایک کاری ضرب تھی۔ وہ پیشانیاں جو سجدے میں جھکی تھیں، امن کی گواہی دے رہی تھیں، مگر سفاکیت نے انہیں لہو میں نہلا دیا۔ عبادت گاہیں، جو ہمیشہ سے پناہ اور سکون کی علامت رہی ہیں، آج ایک بار پھر دہشت کی کہانی سنا رہی ہیں۔ یہ سانحہ صرف شہداء کے گھروں کا غم نہیں، بلکہ پوری قوم کے دل کا زخم ہے۔ ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر دل بوجھل ہے، اور ہر روح سوال کر رہی ہے کہ آخر کب تک؟
کائنات کا وجود امن، محبت اور ہم آہنگی کے ستونوں پر قائم ہے، اور عبادت گاہیں اس امن کے وہ مراکز ہیں جہاں انسان اپنے خالق سے لو لگا کر داخلی سکون تلاش کرتا ہے۔ لیکن جب ان مقدس پناہ گاہوں کو لہو سے رنگ دیا جائے، تو یہ صرف چند افراد کا قتل نہیں ہوتا، بلکہ اس تہذیب اور اخلاقیات کا قتل ہوتا ہے جسے انسان نے صدیوں کی ریاضت سے پروان چڑھایا تھا۔ اسلام آباد، جو امن اور سکون کا استعارہ سمجھا جاتا ہے، آج ایک بار پھر دہشت کی لپیٹ میں ہے، اور یہ سطور اسی کرب، اس کے اسباب اور اس کے تدارک کے علمی و سماجی تجزیے پر مبنی ہیں۔
تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ جنگوں کے بدترین ایام میں بھی عبادت گاہوں کو جائے امان سمجھا گیا ہے۔ چاہے وہ مسجد ہو، کلیسا ہو یا مندر، یہ مقامات انسانی روح کی تسکین کے ضامن ہیں۔ اسلام نے تو میدانِ جنگ میں بھی بوڑھوں، بچوں، عورتوں اور عبادت گاہوں میں پناہ لینے والوں کو گزند پہنچانے سے سختی سے منع کیا ہے۔ اسلام آباد کے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب ہوتا ہے نہ کوئی عقیدہ۔ جب ایک نمازی سجدے کی حالت میں اپنے رب کے حضور سرنگوں ہوتا ہے، تو وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر امن کی انتہا پر ہوتا ہے۔ اس لمحے اسے نشانہ بنانا دراصل خالق اور مخلوق کے درمیان اس مقدس رشتے پر حملہ ہے جو کائنات کی اساس ہے۔
پاکستان پچھلی کئی دہائیوں سے اس آگ میں جل رہا ہے۔ ہم نے آرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں سے لے کر داتا دربار اور کرسچن کالونیوں تک، ہر جگہ جنازے اٹھائے ہیں۔ اسلام آباد، جو ریاست کی علامت ہے، وہاں ایسے واقعات کا ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دشمن ہمارے اعصاب اور ہماری بقا پر وار کرنا چاہتا ہے۔ ایک ماہرِ تعلیم اور ادیب کے طور پر، جب ہم معاشرے کا مشاہدہ کرتے ہیں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ یہ صرف بارود کا دھماکہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس نظریاتی انتہا پسندی کا نتیجہ ہے جو ہمارے تعلیمی اور سماجی ڈھانچے میں سرایت کر چکی ہے۔ایسے واقعات کے بعد معاشرے میں جو نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے، اس کا ازالہ نسلوں تک نہیں ہو پاتا۔ جب انسان اپنی سب سے محفوظ جگہ ( مسجد) میں بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کرے، تو وہ ریاست اور سماج سے بدظن ہونے لگتا ہے۔ ایک فرد کا قتل صرف ایک جان کا جانا نہیں، بلکہ ایک پورے خاندان کے مستقبل کا اندھیرا ہو جانا ہے۔ یتیم بچوں اور بیوہ عورتوں کی آہیں وہ قرض ہیں جو یہ معاشرہ کبھی نہیں اتار پائے گا۔ دہشت گردی کا اصل مقصد ہی معاشرے کو تقسیم کرنا اور بھائی چارے کی فضا کو آلودہ کرنا ہے۔
پاکستان کی جیو پولیٹیکل (Geopolitical)اہمیت ہمیشہ سے اسے بین الاقوامی قوتوں کی توجہ کا مرکز بنائے رکھتی ہے۔ اسلام آباد، جو کہ پاکستان کا انتظامی اور سفارتی قلب ہے، وہاں دہشت گردی کی حالیہ لہر کو محض مقامی سطح پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے دشمن قوتیں ہمیشہ سے ایسے ’’ نرم اہداف‘‘ (Soft Targets)تلاش کرتی ہیں جہاں حملہ کر کے ملک کی عالمی ساکھ کو متاثر کیا جا سکے افغانستان کے بدلتے ہوئے حالات اور ہمسایہ ممالک کی سرد جنگ نے پاکستان کو ایک ایسی فرنٹ لائن پر کھڑا کر دیا ہے جہاں امن کی قیمت ہمیں اپنے لہو سے چکانی پڑ رہی ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم صرف بیرونی سازشوں کا رونا رو کر اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ بیرونی دشمن تبھی کامیاب ہوتا ہے جب داخلی طور پر ہم نظریاتی اور سماجی طور پر کمزور ہوں۔
ادب کا کام صرف تفریح نہیں بلکہ سماج کی جراحی کرنا ہے۔ ہمیں اپنی تحریروں کے ذریعے نوجوانوں کو یہ بتانا ہے کہ ’’ سجدوں میں قتل‘‘ کرنے والے کسی بھی صورت جنت کے حقدار نہیں ہو سکتے۔ ایک ادیب ہونے کے ناطے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں ایسا ادب تخلیق کرنے کی ضرورت ہے جو نفرت کے سوداگروں کے سامنے امن کا پرچم بلند کرے۔ ہماری تحریروں کو نوجوان نسل کی فکری آبیاری کرنی چاہیے تاکہ وہ انتہا پسندی کے چنگل میں نہ پھنسیں۔ عصرِ حاضر میں میڈیا چوتھا ستون ہے، لیکن دہشت گردی کے تناظر میں اس کا کردار دو دھاری تلوار جیسا رہا ہے۔ ریٹنگ کی دوڑ میں بعض اوقات میڈیا ایسے مناظر اور چیخ و پکار دکھاتا ہے جو دہشت گردوں کے مقصد ( خوف پھیلانا) کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ بار بار کے خونی مناظر انسانی حس کو مردہ کر دیتے ہیں اور معاشرہ ان المیوں کا ’’ عادی‘‘ ہونے لگتا ہے، جو کہ ایک خطرناک علامت ہے۔ تاہم، میڈیا نے دہشت گردوں کے بیانیے کو رد کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ شہداء کی قربانیوں کو اجاگر کرنا اور قوم کو متحد کرنا میڈیا کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسلام آباد کی فضائوں میں بارود کی بو کا آنا سیکیورٹی کے ڈھانچے پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جب تک انٹیلی جنس کی سطح پر ہم اپنے نیٹ ورک کو اتنا مضبوط نہیں کرتے کہ دشمن کے وار کو اس کے ارادے کی سطح پر ہی کچل دیا جائے، تب تک ایسے واقعات کا سدِ باب مشکل ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر اس پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد وقت کی ضرورت ہے۔ دہشت گردوں کو قرار واقعی سزا ملنے تک معاشرے میں انصاف کا بول بالا نہیں ہو سکتا۔ اسلام آباد جیسے شہروں میں ہونے والے واقعات یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہماری تعلیم میں کہاں کمی رہ گئی ہے۔ صرف ڈگریاں بانٹنا کافی نہیں، بلکہ طلبا میں ’’ تنقیدی شعور‘‘ (Critical Thinking)پیدا کرنا ضروری ہے۔ جب تک ایک طالب علم سوال کرنا نہیں سیکھے گا، وہ انتہا پسندوں کے پروپیگنڈے کا آسان شکار بنتا رہے گا۔ استاد صرف کتابی سبق نہیں پڑھاتا، وہ کردار سازی کرتا ہے۔ آپ جیسے اساتذہ جو ادب اور سماج دونوں پر گہری نظر رکھتے ہیں، وہ نسلِ نو کو نفرت کے اندھیروں سے نکال کر انسانیت کی وسیع شاہراہ پر لا سکتے ہیں۔
پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے جہاں مذہب زندگی کا محور ہے۔ ایسے میں علمائے کرام کی ذمہ داری دوچند ہو جاتی ہے۔ مساجد سے صرف فرقہ وارانہ بحثیں نہیں، بلکہ انسانی جان کی حرمت پر خطبات ہونے چاہئیں۔ ’’ پیغامِ پاکستان‘‘ جیسے بیانیے کو گلی محلوں کی سطح پر عام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی مذہب کا نام استعمال کر کے معصوموں کا خون نہ بہا سکے۔ جب تک ہم ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم نہیں کریں گے، دشمن ہماری صفوں میں موجود دراڑوں سے فائدہ اٹھاتا رہے گا۔
دہشت گردی کے واقعات کے بعد زخمیوں کی جسمانی صحت یابی تو ہو جاتی ہے، لیکن روح پر لگے زخم بھرنے میں عرصہ لگتا ہے۔ ریاست اور سماج کو مل کر ایک ایسا نظام بنانا چاہیے جو شہداء کے بچوں کی تعلیم اور کفالت کی ذمہ داری اٹھائے، تاکہ وہ محرومی کا شکار ہو کر دوبارہ کسی منفی راستے پر نہ چل پڑیں۔ ایسے کڑے وقت میں سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر ایک قوم بننا ہی دشمن کی سب سے بڑی شکست ہے۔ اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے صرف ہتھیار کافی نہیں، بلکہ ہمیں ’’ بیانیے کی جنگ‘‘ جیتنی ہوگی۔ ہمیں اپنے نصاب میں رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کو بنیادی اہمیت دینی ہوگی۔ ریاست کو بلا تفریق ان عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کرنا ہوگا جو امن کے دشمن ہیں۔
آخر میں ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اسلام آباد کا المیہ صرف ایک جغرافیائی واقعہ نہیں، بلکہ یہ ہماری قومی غیرت اور بقا کا امتحان ہے۔ لہو سے رنگی یہ فضا ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اب خاموشی کا وقت ختم ہو چکا۔ خون کے ان دھبوں کو ہم صرف آنسوں سے نہیں دھو سکتے، بلکہ ہمیں علم، عمل اور محبت کا وہ طوفان برپا کرنا ہوگا جو نفرت کی ہر دیوار کو گرا دے۔ اللہ اس وطن کو امن عطا کرے، اور ہمیں نفرت کے اس اندھیرے سے نکال کر روشنی، رحم اور انسانیت کے راستے پر قائم رکھے۔ ہمیں یقین ہے کہ قلم کی حرمت اور سجدے کا تقدس کبھی پامال نہیں ہوگا، کیونلں کہ حق کو مٹانے والے خود مٹ جاتے ہیں، مگر سچائی کی قندیلیں ہمیشہ روشن رہتی ہیں
نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا







