ٹرمپ کی دبائو پالیسی اور بھارت کی پسپائی

ٹرمپ کی دبائو پالیسی اور بھارت کی پسپائی
تحریر : رفیع صحرائی
جہاں سال 2025ء بھارت کی پاکستان کے ساتھ جنگ میں شکست کے بعد عالمی سطح پر ہونے والی ذلت و رسوائی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا وہیں پر سال 2026ء کا آغاز ہی اسے مزید ذلیل و رسوا کر گیا ہے۔ بھارت کا امریکہ کے ساتھ ہونے والا حالیہ تجارتی اور اسٹریٹجک معاہدہ بھارت کی خودمختاری پر ایسی کاری ضرب ہے جس کا زخم وہ مدتوں چاٹتا رہے گا۔
بین الاقوامی سیاست کسی مدرسے کی اخلاقیات کی کتاب نہیں ہوتی۔ یہ طاقت، مفاد اور وقت کی دھونس کا کھیل ہے۔ یہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصول پر چلتی ہے۔ یہاں دوستی بھی نرخ پر ملتی ہے اور خودمختاری بھی قسطوں میں بیچی جاتی ہے۔ بھارت جو کل تک خود کو خطے کا چودھری، دنیا کا گرو اور ایشیا کا شیر سمجھتا تھا، آج وہ ایک فون کال، چند دھمکیوں اور کچھ سفارتی گُھرکیوں کے بعد ایسے بیٹھ گیا ہے جیسے استاد کے سامنے پکڑا گیا شرارتی طالب علم۔
امریکہ اور بھارت کے درمیان حالیہ تجارتی و اسٹریٹجک معاہدہ دراصل کوئی معاہدہ نہیں بلکہ یہ ایک سفارتی ’’ صلح نامہ‘‘ ہے جس پر دستخط کسی فاتح اور کسی مغلوب کے درمیان ہوتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مخصوص جارحانہ، بے لگام اور’’ میں ہی قانون ہوں‘‘ والی سفارتی حکمتِ عملی کے تحت بھارت پر ایسا دبائو ڈالا کہ نئی دہلی کی ساری اکڑ، سارا غرور اور ساری’’ اسٹریٹجک خودمختاری‘‘ چند دنوں میں ہوا ہو گئی۔ ٹرمپ کے بیانات، سخت تنبیہات، اور پاکستان کی طرف سے بھارت کے جہاز گرانے جیسے سخت جملوں نے وہ کام کر دکھایا جو شاید برسوں کی سفارت کاری نہ کر پاتی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی ذلت آمیز شکست کو ٹرمپ نے خوب کیش کروایا ہے۔ اس نے ہر فورم پر وزیرِ اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا والہانہ استقبال کر کے اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کو اپنا پسندیدہ جنرل قرار دے کر مودی کا اس طرح تمسخر اڑایا کہ وہ دنیا بھر میں رسوا ہو گیا۔ اور پھر وہ ہوا جو شاید مودی سرکار کے خواب میں بھی نہ تھا۔ بھارت، جو کل تک روس کے ساتھ دوستی کے راگ الاپ رہا تھا، فوراً روسی تیل سے دور ہونے پر آمادہ ہو گیا۔ نہ صرف روسی تیل سے دور ہوا بلکہ وینزویلا کے مبینہ’’ چوری شدہ‘‘ تیل کی خریداری بھی امریکہ کی اجازت سے کرنے لگا۔ گویا اب نئی دہلی کی خارجہ پالیسی کا نقشہ وائٹ ہاس میں بنے گا اور دستخط سائوتھ بلاک میں ہوں گے۔ مزید ستم یہ کہ بھارت نے اپنے اوپر 18 فیصد ٹیرف بھی قبول کر لیا جبکہ اسے امریکہ پر جوابی ٹیرف صفر فیصد رکھنا پڑا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی دکاندار خریدار کو کہے: ’’ آپ میرے مال کی قیمت بھی خود لگائیں، مال بھی خود اٹھائیں اور آپ جو قیمت لگائیں گے اس کی رسید ہم کاٹ دیں گے!‘‘
صرف یہی نہیں بھارت نے امریکہ سے 500ارب ڈالر کی امریکی مصنوعات خریدنے کا وعدہ بھی کر لیا ہے۔ یہ معاہدہ کم اور امریکی معیشت کے لیے بیل آئوٹ پیکیج زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ بھارت نے یہ سب کیوں مانا۔ سوال یہ ہے کہ جس ملک کو’’ ابھرتی عالمی طاقت‘‘ کہا جا رہا تھا، وہ اتنی جلدی کیسے جھک گیا؟
جو ملک دنیا کو جمہوریت، خودداری اور خودمختاری کا سبق پڑھا رہا تھا، وہ خود ایک عالمی طاقت کے سامنے ایسے بیٹھ گیا جیسے والد کے سامنے ڈانٹ کھاتا بچہ چپ سادھ لیتا ہے۔ یہ ٹرمپ کی’’ ڈیل میکنگ‘‘ نہیں، بلکہ’’ ڈیل ڈکٹیشن ‘‘ ہے اور بھارت نے اسے خاموشی سے سنا بھی اور مان بھی لیا۔
بھارت کی معیشت مہنگائی، بیروزگاری، تجارتی خسارے اور توانائی کی شدید ضرورت کے بوجھ تلے پہلے ہی دبی ہوئی تھی۔ ٹرمپ نے بھارت کی ٹھیک وہی دُکھتی ہوئی رگ دبائی جہاں سے درد اٹھتا ہے۔ اس نے بھارت کی معاشی کمزوری کو سفارتی ہتھیار بنایا اور اس کا وار سیدھا نشانے پر لگا۔ یہ معاہدہ بھارت کے اس دعوے پر ایک طنزیہ قہقہہ ہے جس کے تحت وہ خود کو’’ آزاد عالمی کھلاڑی‘‘ کہتا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ بھارت نے روس سے کتنا تعلق رکھنا ہے، وینزویلا سے کیا خریدنا ہے، اور کس سے کیا نہیں خریدنا، یہ سب امریکہ طے کرے گا۔
دلچسپ ترین بات تو یہ ہے کہ جو بھارت کل تک پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے دعوے کرتا تھا، آج خود ایک بڑی طاقت کے سامنے بے بس کھڑا ہے۔ یہ منظر خطے کی سیاست کے لیے نہایت معنی خیز ہے۔ یہاں نعروں سے طاقت ثابت نہیں ہوتی، نہ ٹی وی سکرینوں پر بلند آواز بیانات سے خودمختاری آتی ہے۔(باقی صفحہ5پرملاحظہ کیجئے )
اصل طاقت مضبوط معیشت، متوازن خارجہ پالیسی اور خودداری سے آتی ہے۔
ٹرمپ کو اگر’’ ڈیل کا بادشاہ‘‘ کہا جائے تو شاید کم ہو۔ اس نے بغیر جنگ، بغیر گولی، بغیر فوجی کارروائی کے ایک بڑے ملک کو ایسا معاہدہ قبول کروا لیا جو عموماً جنگ کے بعد شکست خوردہ ممالک کے حصے میں آتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے، جو قومیں وقتی فائدے کے لیے اپنی سفارتی خودداری گروی رکھ دیتی ہیں وہ طویل مدت میں سیاسی، معاشی اور سفارتی کمزوری کا شکار ہو جاتی ہیں۔ بھارت کے لیے یہ معاہدہ وقتی ریلیف ہو سکتا ہے مگر اس کی قیمت اس کی سٹریٹجک خودمختاری، عالمی وقار اور سفارتی آزادی کی صورت میں ادا کی جائے گی۔ شاید آنے والے دنوں میں نئی دہلی کو یہ احساس ہو کہ کچھ معاہدے جیت نہیں، خاموش ہار ہوتے ہیں، جن پر دستخط تو مسکراتے ہوئے کیے جاتے ہیں مگر تاریخ انہیں جھکی ہوئی گردن کے کے طور پر یاد رکھتی ہے۔
رفیع صحرائی






