لو پھر بسنت آئی

لو پھر بسنت آئی
تحریر : روشن لعل
بسنت کے لغوی معنی بہار کے ہیں اور اصطلاحاً اس کی پہچان پتنگ بازی کا تہوار ہے۔ بسنت، لکھنو کی نفیس اردو میں مذکر جبکہ دہلی کی ٹکسالی زبان میں مونث ہے۔ بسنت کے حصے میں صرف تذکیر و تانیث کا فرق ہی نہیں آیا بلکہ اس کا تہوار کے طور پر منایا جانا بھی تضادات سے بھر پور ہے۔ عوام کی اکثریت بسنت کا تہوار، بہار کی آمد کی خوشی میں مناتی رہی جبکہ کچھ لوگوں نے اسے Blasphemeکے کسی من گھڑت واقعہ سے جوڑنے کی کوشش بھی کی۔ مستند تاریخی حوالوں میں بسنت کے ساتھ نہ Blasphemeکے کسی واقعہ کا کوئی ذکر ملتا ہے اور نہ ہی اس بات کے شواہد ہیں کہ بسنت تہوار کیسے شروع ہوا اور کب پتنگ بازی اس کا حصہ بنی ۔ بسنت کے حوالے سے یہ بات طے ہے کہ اس کا کسی بھی مذہب کی موافقت یا مخالفت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ گذرے وقتوں میں مختلف مذاہب اور ان کے ماننے والے تو پورے ہندوستان میں موجود تھے لیکن بسنت خاص طور پر لاہور اور اس کے گردونواح میں منایا جانے والا علاقائی تہوار بنا۔
بسنت اور پتنگ بازی کے بارے میں ایک خیال یہ بھی ہے کہ یہ تہوار سردی کی روانگی اور بہار کی آمد کی خوشی میں منعقدہ تقریبات میں سے برآمد ہوا۔ موسمی بدلائو کی اس رت میں ہوا کا چلن عام دنوں سے مختلف ہوتا ہے سردیوں کے خاتمے کے ان دنوں میں ہوا خنک ہونے کے باوجود اپنے اندر ایک خوشگوار احساس لیے ہوتی ہے۔ ان دنوں چلنے والی ہوا کو پتنگ بازی کے لیے موزوں ترین تصور کیا جاتا ہے شاید اسی وجہ سے بسنت رت کے استقبال کا تہوار پتنگ بازی سے جڑ گیا۔
تاریخی حوالوں کے مطابق، پتنگ بازی کا آغاز تقریباً تین ہزار سال قبل چین میں ہوا۔ زمانہ قدیم میں پتنگ کا فریم تو بانس ہی سے بنایا جاتا تھا لیکن اس فریم میں کاغذ کی بجائے سلک کا کپڑا استعمال ہوتا تھا ۔ اس طرح سے تیار کی گئی پتنگ کو اڑانے کے لیے پھر سلک کے دھاگے کو ہی ڈور کے طورپر استعمال کیا جاتا تھا ۔ چین کے بعد پتنگ بازی کا شوق پہلے ایشیا میں پھیلا اور پھر یورپ تک پہنچا ۔ پرانے زمانے میں انتہائی قیمتی ہونے کی وجہ سے سلک کیونکہ عام لوگوں کی پہنچ سے دور تھی اس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ ان دنوں پتنگ بازی کا شوق پالنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہوگا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یقیناً، ہندوستان میں پتنگوں کی موجودہ شکل میں تیاری اور اڑان انگریزوں کی آمد کے بعد ہی ہوئی ہو گی کیونکہ سادہ کاغذ اور خصوصاً پتنگ سازی میں استعمال ہونے والا کاغذ یہاں انگریزوں کی آمد کے بعد دستیاب ہو نا شروع ہوا تھا۔
انسانوں کو رنگوں کا ذوق یقیناً رنگ برنگے پھولوں سے ملا ہے۔ لاہور کو ہمیشہ باغوں کا شہر کہا گیا۔ بسنت رت میں ، لاہور کے باغوں اور سبزہ زاروں میں جب رنگ برنگے پھول کھلتے ہوں گے تو غالباً زمین کی اسی رنگینی سے متاثر ہوکر لاہوریوں نے آسمان کو رنگ برنگی پتنگوں سے سجانے کی سعی کی ہوگی۔ شاید فضاکو بسنتی رنگ میں رنگنے کی یہی کوشش اور مسابقت بسنت تہوار کے ارتقاء کا باعث بنی ہوگی۔
چین سے شروع ہو کر پتنگ بازی صرف ایشیا اور یورپ تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ امریکہ ، افریقہ اور آسٹریلیا تک بھی پہنچی لیکن پاک و ہند اور خصوصاً لاہور میں ہونے والی پتنگ بازی کی مثال دنیا کے کسی اور علاقے میں نہیں ملتی۔ پتنگ بازی اور پتنگیں چاہے جس بھی قسم کی ہوں، انہیں کسی نہ کسی مقابلہکے دوران اڑایا جاتاہے۔ لاہوری قسم کی پتنگ بازی میں مقابلہ صرف پتنگ کاٹنے کا ہوتا ہے جبکہ یورپ اور امریکہ میں مسابقت پتنگیں اڑانے تک محدود رہتی ہے ۔ ہمارے ہاں جس کی پتنگ کٹ جائے وہ ہار جاتا ہے اور کاٹنے والا جیت جاتاہے۔ جبکہ دیگر جگہوں پر سب سے اونچی پتنگ اڑانے والا کامیاب ماناجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ وہاں پتنگ بازی کے دیگر زمرے بھی ہیں۔ مثال کے طور پر سب سے خوبصورت پتنگ، سب سے بڑی پتنگ اور ایک وقت میں ایک سے زیادہ پتنگیں اڑانے وغیرہ کا مقابلہ ۔
یورپ اور امریکہ میں اڑائی جانے والی مختلف قسم کی پتنگوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک گروپ کی پتنگوں کو Stunt kiteاور دوسرے کوPower kiteکہا جاتا ہے۔ Stunt kiteکو اڑانا نسبتاً آسان سمجھا جاتاہے۔ اس طرح کی پتنگیں اڑانے کو Sports kite flyingبھی کہا جاتا ہے جبکہ Power kiteگروپ کی پتنگیں اڑانے کو زیادہ مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ اس گروپ کی پتنگیں زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ ان پتنگوں کی مضبوط بناتے ہوئے خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ یہ ساحل سمندر کی منہ زور ہوائوں کا مقابلہ کر سکیں۔ ایسی پتنگوں کو اڑانے والے شخص کا اتنا ماہر اور طاقتور ہونا ضروری ہوتا ہے کہ وہ انہیں ساحل سمندر پر اونچا اڑا نے کے بعد پھر نیچے بھی اتار سکے۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز نے تو ایک عرصہ بعد بسنت اور پتنگ بازی بحال کر کے لاہوریوں کو روایتی تفریح کا موقع فراہم کر دیا ، اب کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے شہر میں ساحل سمندر پر یورپ اور امریکی طرز کی پتنگیں اڑانے کامیلہ سجا کر شہریوں کے لیے بین الاقوامی تفریح کا سامان پیدا کریں۔
یورپ اور امریکہ میں پتنگیں اڑانے کو صرف سپورٹس کے طور پر نہیں لیا گیا بلکہ وہاں پتنگ بازی کے حوالے سائنس کے مختلف شعبوں میں بھی ملتے ہیں۔ امریکن ڈپلومیٹ اور سائنسدان بینجمن فرینکلن نے پتنگ کی مدد سے تجربہ کرتے ہوئے دریافت کیا کہ آسمانی بجلی کو اگر اس کے گرنے والی جگہ سے سیدھا زمین میں جانے کا واسطہ مل جائے تو وہ جانی و مالی نقصان کا باعث نہیں بنتی۔ پتنگ بازی کے ذریعے کی گئی اس دریافت کی وجہ سے ہی آج تمام دنیا میں بجلی کی گھریلو استعمال کی چیزوں کو شارٹ سرکٹ کے نقصانات سے بچایا جارہا ہے۔ ٹیلی فون کے موجد گراہم بیل کا شمار بھی پتنگ بازی کے ذریعے تجربے کرنے والے سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ انیسویں صدی کے اختتام تک موسمی حالات ماپنے والے آلات پتنگوں کے ذریعے فضا میں بھیجے جاتے تھے۔ انیسویں صدی میں ہی ایک سائنسدان لارن ہر گولیو نے ہنگامی صورتحال میں پتنگ کے ذریعے سامان کی فضائی نقل و حمل کا تصور پیش کیا تھا۔ بیسویں صدی کے آغاز میں سیموئیل فرینکلن نے پتنگ کے ذریعے surfingکرتے ہوئے رود باد انگلستان کو عبور کیا۔
ہمارے ہاں، پتنگ بازی اور پتنگیں اڑانے والوں کا سائنس کی تحقیق سے دور دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ یہاں اس تفریح کوBlasphemeکے من گھڑت واقعہ سے جوڑنے کی ناکام کوشش کے بعد اس میں سے لوگوں کے گلے کاٹنے کا راستہ نکال لیا گیا۔ سپریم کورٹ میں دائر جس درخواست کے بعد عدالت نے پتنگ بازی پر پابندی عائد کی اس میں یہ اعداد و شمار پیش کیے گئے تھے کہ سال 2000ء سے2006ء کے شروع تک پتنگ بازی کی وجہ سے825افراد جاں بحق ہوئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پھر سے بسنت کا احیا کیا ہے، دعا ہے کہ اب کی بار پتنگ بازی سے کسی معصوم کے گلے سے نکلنے والا خون نہیں بلکہ صرف خوشیاں کشید ہوں۔






