سال 2026ء کا یوم یکجہتی کشمیر سیدہ آسیہ اندرابی

سال 2026ء کا یوم یکجہتی کشمیر سیدہ آسیہ اندرابی کے نام
تحریر : محمد ساجد قریشی الہاشمی
اہل ِ پاکستان ہر سال5فروری کا دن اپنے کشمیر ی بھائیوں کے ساتھ اس عزم کے ساتھ یکجہتی مناتے ہیں کہ پوری پاکستانی قوم مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے ناجائز تسلط کے خلاف برسر پیکار اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے اور اس وقت تک ان کے ساتھ ر ہے گی جب تک اہلیان ِ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اپنا جائز اور تسلیم شدہ حق، حق خود ارادیت حاصل نہیں کر لیتے۔
5فروری مسئلہ کشمیر کے بارے میں اجتماعی شعور اجاگر کرنے اور کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی میں لازوال قربانیوں کو خراج ِ تحسین پیش کرنے کا دن ہے اور یہ ایک تاریخ ساز دن ہوتا ہے جب پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں کے ہاتھوں میں ہاتھ دے کر اُس عظیم مذہبی ، سیاسی، تہذیبی ، ثقافتی اور اقتصادی رشتے کی تجدید کرتی ہے جس کی بنیاد قدرت نے صدیوں پہلے رکھ دی تھی اور قائداعظم محمد علی جناح ؒکے فرمان ’’ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ‘‘ کے لازوال رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے اور کشمیریوں کے دلوں کی آواز ، ’’ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کو حقیقت کا روپ دینے کی امنگ اور خواہش کو ایک نئی جہت عطا کرتی ہے۔ یہ ریاست جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، وعدہ خلافیوں اور ناانصافیوں کے بارے میں عالمی برادری کو اس کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کروانے کا بھی دن ہوتا ہے۔ یہ ان کشمیریوں جو جبرو تشدد ، اپنے پیاروں کی گمشدگیوں، جائیدادوں کی قرقیوں اور ماورائے عدالت قتل کا سامنا کر رہے ہیں ان کے ساتھ محبت و اخوت اور اتحاد و یگانگت میں کھڑے ہونے اور ان کے جائز پیدائشی حق کی حمایت کا اعادہ کرنے کا بھی دن ہے۔
ریاست جموں و کشمیر ہمالیہ کے پہاڑوں میں گھری ہوئی، قدرتی وسائل اور دلکش مناظر سے مالا مال ایک خوبصورت سرزمین ہے جس کی برف کے سفید گالوں سے اٹی پہاڑی چوٹیاں، مہکتے چہکتے زعفرانی خوشبو بکھیرتے سبزہ زار اور اس کی سرسبزوشاداب وادیاں، سروروسازسے مزین نغمے بکھیرتے جھرنے، بل کھاتی لہلہاتی گنگناتی ندیاں اور آنکھوں کو خیر ہ اور ذہن کو مسحور کردینے والے قدرتی حسن سے مزین فردوس بریں میں آج ہر طرف موت کارقص اور ظلم وبربریت کے بادل چھائے ہوئے ہیں جہاں ہنستی مسکراتی معصوم کلیوں ، تنومند جوانیوں اور سفیدی کی چادر اوڑھے بڑھاپوں کو گھٹاٹوپ اندھیری اور تاریک راہوں میں گم کردیاگیاہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ریاست جموں وکشمیر پاکستان کا قدرتی حصہ ہے اور اس کے باسی پاکستان کے اپنے بھائیوں کے ساتھ ایک انمٹ رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے افغان درانیوں ، سکھوں ، ڈوگروں کے جبروتشدد کے باعث جائے سکونت اور ہجرت کا رخ انہی علاقوں کی طر ف ہواکرتاتھا جو آج پاکستان میں شامل ہیں اور جن کی نشانیاں ہرطرف قائم کشمیریوں کی ڈھوکیں، گائوں اور محلوں کی صورت میں موجود ہیں اور وہ یہاں مقامی آبادیوں اور ان کے درمیان باہمی محبت ، اخوت ، رواداری اور یگانگت کے انمٹ رشتے قائم ہوئے جو اس بات کی غماضی کرتے ہیں کہ نہ کشمیر پاکستان سے الگ ہے اورنہ پاکستان کشمیرسے اور یہی وجہ ہے کہ جب بھارت نے جبراً قبضہ کرنے کے لیے اپنی فوجیں ریاست میں اتاریں اور کشمیری ان کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملانے کے لیے میدان ِ عمل میں برسرپیکار ہوئے تو یہ پاکستانی قوم ہی
تھی جو اپنی بے سروسامانی کے باوجود ان کی مدد ونصرت کے لیے نکل کھڑی ہوئی۔ کشمیری عوام نے اسی رشتے کو دوام بخشنے کے لیے3جون1947ء کے تقسیم ِ ہند کے منصوبے میں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کے حق کے تحت اپنی مرضی اور امنگوں کے مطابق پاکستان کے ساتھ اپنی قسمت وابستہ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن ایک سہ فریقی سازش کے تحت ان کا یہ حق غصب کرلیا گیا لیکن کشمیریوں نے ڈوگرہ طاغوت سے نکل کر ہندو شکنجے میں آنے سے انکار کر دیا جس کی پاداش میں ان کے جوانوں کے سینے گولیوں اور پیلٹ گنوں سے چھلنی کر دئیے گئے، ان کی عفت مآب بیٹیوں کی عزتیں پامال کردی گئیں اور ان کی جائیددیں ضبط کرکے ان کے سروں سے چھت بھی چھین لی گئی۔ پوری ریاست اس وقت سراپا احتجاج ہے اورغیر قانونی اور ناجائز بھارتی تسلط سے آزادی کی صدائوں سے گونج رہی ہے اور بھارتی قابض انتظامیہ اسے دنیا کاسب سے بڑا فوجی موجودگی والا علاقہ بناکر انتہائی ڈھٹائی سے ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم کر رہی ہے۔ پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی بے مثال لگن اور محبت کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے شہدا کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر بڑے بڑے جلوسوں کی صورت میں آخری منزل تک پہنچاتے ہیں اورا س جان لیوا اور صبر آزما آزمائش میں پاکستانی قوم نے کبھی بھی اپنے کشمیری بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑا جس کی گواہی مقبوضہ ریاست میں سبزپرچموں میں لپٹی پاکستانی مائوں کے جگرگوشوں کی قبریں دے رہی ہیں ۔ریاست جمو ں وکشمیرکے باشندوں کا حق ، ’’ حق خودارادیت‘‘ کا حصول اور اس کاپاکستان سے الحاق برصغیر کی تقسیم کا نامکمل کاروائی نامہ ہے کشمیریوں کی یہ لازوال جدوجہد درحقیقت تکمیل ِ پاکستان کی جدوجہد ہے جس کے لیے وہ اپنی جان ومال قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کررہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی حمایت اور ان کے وکیل کی حیثیت سے برملا ان کے مؤقف کی ترجمانی کررہاہے اوراس یوم یکجہتی کے موقع پرپوری پاکستانی قوم ریاست میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں، ناجائز حراستوں اور قانونی عمل کے مغائر ہلاکتوں، گمنام قبروں کی نشاندہی اور حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد میں مقبوضہ ریاست اور بھارت کی دوردراز کی جیلوںمیں قید پوری کشمیری قیادت بشمول شاہ فیصل، میاں عبدالقیوم، نعیم احمد خان، مسرت عالم بٹ، یسین ملک اور شبیراحمدشاہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے خاص طورپہ دختران ملت کشمیر کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی جو ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کے ساتھ گزشتہ15سال سے کالے قوانین کے تحت نئی دہلی کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں غیر قانونی اور غیر اخلاقی طورپر قید کاٹ رہی ہیں جن کا قصورمظلوم کشمیری خواتین کی تعلیم ، انہیں بااختیار بنانا ، جنسی تشدداور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف آواز اٹھاناہے اور جنہیں مناسب قانونی اور عدالتی سہولیات نہ دے کر بھارتی قابض انتظامیہ نے بدنیتی سے من گھڑت اورجھوٹ میں ملفوف الزامات کے تحت مقدمات قائم کرکے ان کی زندگی سے کھیلنے کی ناپاک سازش تیارکرلی ہے جو کہ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں اوربنیادی انسانی حقوق کے منشورکی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ سیدہ آسیہ اندرابی نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں انتہائی دلیری اور بہادری سے یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان کا قومی پرچم لہرایا اور قومی ترانہ ببانگ دہل پڑھا جس کی پاداش میں وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے موت و حیات کی جنگ لڑ رہی ہیں اور ان کے شوہر سید عاشق حسین قاسم فکتو بھی گزشتہ30سال سے جیل میں بند عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ ان کے دو بیٹے اپنے ماں باپ کو دیکھے بغیر ہی جوان ہوگئے ہیں ۔
سال 2026ء کے یوم یکجہتی کے موقع پر پوری پاکستانی قوم اپنی عظیم مجاہدہ سیدہ آسیہ اندرابی کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کر کے ان کی عظمت کو بھی سلام پیش کرتی ہے۔
بقول، حفیظ الرحمان احسن:
ہم اہل ِ جنوں سے مت الجھو، یہ شورِدار و گیر ہے کیا
ٹھوکر پہ ہے اپنی تاج ِ شہی، یہ قید ہے کیا زنجیر ہی کیا
سر اپنے سلامت ہیں جب تک، جھک جائیں کبھی یہ ناممکن
یہ طوق وسلا سل چیز ہے کیا، یہ تیر ہے کیا، شمشیر ہے کیا
ساجد قریشی الہاشمی







