انصاف کی تاخیر، امن کی محرومی کشمیر

کشمیر، انصاف کی تاخیر، امن کی محرومی
تحریر : محمد محسن اقبال
انسانی معاشروں کے درمیان تنازعات کی تاریخ خود تہذیب جتنی قدیم ہے۔ عقیدے، سرزمین، طاقت اور زاویہ نظر کے اختلافات نے بارہا اقوام اور برادریوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے تنازعات عموماً چند ہی تسلیم شدہ طریقوں سے حل ہوتے ہیں: طاقت کے استعمال کے ذریعے، باہمی رضامندی سے مفاہمت کے ذریعے، یا قانون اور اخلاقی اختیار کی پشت پناہی سے غیرجانبدار ثالثی کے ذریعے۔ جہاں ان میں سے کسی راستے کو خلوص کے ساتھ اختیار نہیں کیا جاتا، وہاں تنازعات وقت کے ساتھ سخت ہوتے چلے جاتے ہیں، اجتماعی یادداشت میں پیوست ہو جاتے ہیں اور ایک نسل سے دوسری نسل تک بغیر حل کے منتقل ہوتے رہتے ہیں۔ بیسویں صدی کے وسط کے بعد دنیا نے چند ہی ایسے طویل تنازعات دیکھے ہیں، جن میں جزیرہ نما کوریا کی تقسیم، عرب۔ اسرائیل تنازع اور پاکستان و بھارت کے درمیان جموں و کشمیر کا حل طلب مسئلہ نمایاں ہیں۔ ان سب میں کشمیر اخلاقی اعتبار سے سب سے زیادہ پریشان کن معاملہ ہے، کیونکہ اس کی بنیاد واضح بین الاقوامی وعدوں پر ہے جو سات دہائیوں سے زائد عرصے سے پورے نہیں کیے جا سکے۔
کشمیر تنازع کی قانونی اور اخلاقی بنیاد اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے بھارت و پاکستان کی 1948ء اور 1949ء کی قراردادوں میں پیوست ہے۔ ان قراردادوں نے ایک سادہ مگر طاقتور جمہوری اصول کی توثیق کی: ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کی آزاد اور غیرجانبدار رائے سے ہونا تھا، جو اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں منعقدہ رائے شماری کے ذریعے ظاہر کی جائے۔ پاکستان اور بھارت، دونوں نے ان قراردادوں کو قبول کیا، جن میں انصاف کو یقینی بنانے کے لیے تفصیلی حفاظتی اقدامات درج تھے، جن میں غیر فوجی ماحول کی تشکیل، مسلح افواج کی واپسی یا غیرجانبداری ، عالمی سطح پر معزز رائے شماری منتظم کی تقرری، سیاسی قیدیوں کی رہائی، اقلیتوں کا تحفظ، اظہارِ رائے اور اجتماع کی آزادی، اور کسی بھی قسم کے جبر یا دھمکی کا مکمل خاتمہ شامل تھا۔ یکم جنوری 1949ء کو جنگ بندی نافذ ہوئی اور امید بندھی کہ ایک منصفانہ حل قریب ہے، مگر رائے شماری کبھی نہ ہو سکی۔ طریقہ کار پر اختلافات، سیاسی ہچکچاہٹ اور بدلتی ہوئی تزویراتی ترجیحات نے اس عمل کو منجمد کر دیا، جبکہ وعدہ بدستور ادھورا رہا۔
وقت گزرنے کے باوجود کشمیر آج بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، جو اس امر کا نادر اعتراف ہے کہ یہ تنازع نہ تو حل ہوا ہے اور نہ ہی فراموش۔ دوسری جانب زمینی حقائق بتدریج بگڑتے چلے گئے ہیں۔ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں نسلیں بھاری عسکری موجودگی، طویل ہنگامی قوانین، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیوں، اور بے چینی و جبر کے مسلسل ادوار میں پلی بڑھی ہیں۔ 2019ء میں خطے کی خصوصی حیثیت کے خاتمے نے کشمیری خدشات کو مزید گہرا کر دیا، بالخصوص آبادیاتی تبدیلی، ثقافتی اور سیاسی شناخت کے زوال کے اندیشے بڑھے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات، مذہبی آزادیوں پر قدغنیں، اور مواصلاتی پابندیاں اجتماعی محرومی اور بیگانگی کے احساس کو مزید تقویت دیتی رہی ہیں۔
پاکستان کے لیے کشمیر محض ایک علاقائی تنازع نہیں۔ یہ ملک کے نظریاتی، تاریخی اور تزویراتی شعور کا مرکزی جزو ہے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا کشمیر کو پاکستان کی ’’ شہ رگ‘‘ قرار دینا محض خطیبانہ انداز نہ تھا، بلکہ ایک وجودی حقیقت کا اظہار تھا۔ کشمیر کی مسلم اکثریت، اس کے پاکستان سے ثقافتی و مذہبی رشتے، اور 1947ء کی تقسیم کی منطق نے اس کے غیر حل شدہ موقف کو ایک گہری بے قاعدگی بنا دیا۔ دو قومی نظریہ، جس پر پاکستان کی بنیاد رکھی گئی، جداگانہ مذہبی، ثقافتی اور سیاسی شناختوں کے اعتراف پر قائم تھا۔ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت سے مسلسل محروم رکھنا اسی اصول کی صریح نفی ہے اور جنوبی ایشیا میں دیرپا عدم استحکام کا باعث بنا ہوا ہے۔نظریے اور تاریخ سے آگے، کشمیر کی اہمیت پاکستان کی معاشی اور ماحولیاتی سلامتی سے بھی گہری جڑی ہے۔ پاکستان کی زراعت اور معیشت کو سہارا دینے والے عظیم دریا، سندھ، جہلم اور چناب، کشمیر کے ہمالیائی خطے سے نکلتے ہیں۔ یہی پانی کھیتوں کو سیراب کرتا، بجلی پیدا کرتا اور لاکھوں انسانوں کو پینے کا پانی فراہم کرتا ہے۔ اس لیے ان کے منبع پر کنٹرول محض نقشوں کا مسئلہ نہیں۔ پانی کے انتظام پر بار بار کے تنازعات اور سندھ طاس معاہدے کو درپیش چیلنجز نے یہ خدشہ بڑھایا ہے کہ زندگی کے اس بنیادی وسیلے کو سیاسی دبائو کے آلے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس معنیٰ میں کشمیر محض ایک متنازعہ خطہ نہیں، بلکہ ایک ایسی شہ رگ ہے جس کا استحکام پاکستان کی بقا اور خوشحالی سے براہِ راست وابستہ ہے۔
کشمیر کا تزویراتی پہلو اس تنازع کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ اس کی جغرافیائی حیثیت اسے جنوبی اور وسطی ایشیا کے سنگم پر لا کھڑا کرتی ہے، جو علاقائی تجارت، سلامتی اور دفاع کے لیے نہایت اہم ہے۔ لائن آف کنٹرول دنیا کی سب سے زیادہ عسکری نوعیت کی سرحدوں میں سے ایک ہے، جہاں معمولی واقعات بھی دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا خطرہ رکھتے ہیں۔ خطے کی مسلسل بے یقینی نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ وسیع تر علاقائی امن کو بھی متزلزل کرتی ہی۔
ہر سال 5فروری کو، جو پاکستان میں یومِ یکجہتیِ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے، پاکستان کے عوام، لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیری، اور عالمی برادری میں مقیم تارکینِ وطن کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ ریلیاں، سیمینارز اور سرکاری بیانات اقوامِ متحدہ کی نامکمل قراردادوں کی یاد دہانی کراتے اور عالمی برادری سے اپنے وعدے نبھانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ آوازیں پرامن، قانونی اور بین الاقوامی اصولوں پر مبنی ہیں۔ تاہم ایک کٹھن سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے: کیا کسی قوم سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ایک پورا نہ ہونے والا وعدہ ہمیشہ یاد کرتی رہے، اور نامکمل انصاف کا بوجھ نسل در نسل اٹھاتی رہے؟
بھارت کا موقف ہے کہ جموں و کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے اور یہ معاملہ محض دوطرفہ ہے۔ پاکستان، بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی بنیاد پر، اسے بین الاقوامی نوعیت کا تنازع قرار دیتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ حقِ خودارادیت ناقابلِ تنسیخ ہے، جسے وقت کے گزرنے یا یکطرفہ اقدامات سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک یہ بنیادی تضاد برقرار ہے، جنوبی ایشیا میں امن نازک بنیادوں پر ہی قائم رہے گا۔
حالیہ علاقائی پیش رفت نے سفارتی تاثر میں خاموشی سے تبدیلی پیدا کی ہے۔ کشیدگی کے ادوار، خصوصاً 2025ء میں، پاکستان کے محتاط اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل نے اسے ایک بالغ اور معتبر ریاست کے طور پر نمایاں کیا۔ جنگ بندی میں سہولت کاری کے حوالے سے بڑے بین الاقوامی کرداروں کے اعترافات نے اس تبدیلی کو مزید واضح کیا۔ داخلی چیلنجز سے نکل کر، آج پاکستان عالمی منظرنامے پر زیادہ اعتماد اور وقار کے ساتھ گفتگو کر رہا ہے۔ یہ نیا مقام اس کی قیادت پر اضافی ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ علامتی یاد دہانیوں سے آگے بڑھ کر کشمیر کے لیے اصولی، مسلسل اور مثر سفارتی جدوجہد کرے۔
کشمیر محض ایک سیاسی تنازع یا صرف ایک تزویراتی مسئلہ نہیں۔ یہ اس قوم کے لیے انصاف کا سوال ہے جسے اپنی تقدیر کے انتخاب کے حق سے محروم رکھا گیا، عالمی برادری کے اخلاقی اعتبار کا امتحان ہے، اور تاریخ کا ایک نامکمل باب ہے جو جنوبی ایشیا کے مستقبل کو مسلسل متاثر کر رہا ہے۔ پچھتر برس سے زائد عرصے تک موخر کیا گیا انصاف محض انصاف کی نفی نہیں؛ یہ اس عالمی نظام پر ایک مسلسل فردِ جرم ہے جس نے انصاف کا وعدہ کیا مگر اسے پورا نہ کر سکا۔ جب تک کشمیری عوام کی آواز واقعی سنی نہیں جاتی، خطے میں امن کا وعدہ ادھورا رہے گا اور عالمی ضمیر بے چین ہی رہے گا۔







