Column

بسنت کے لوٹتے رنگ اور ہماری ذمہ داریاں

بسنت کے لوٹتے رنگ اور ہماری ذمہ داریاں
محمد نورالہدیٰ
حکومتِ پنجاب نے بسنت کی بحالی کا اعلان کیا تو میں ماضی کے دریچوں میں کھو گیا۔ مجھے بہت سے پرانے دوست یاد آگئے۔ ان کے ساتھ بیتے لمحوں نے بیشمار یادیں تازہ کر دیں۔ وہ مناظر یاد آ گئے جب چھتوں پر پیج لڑانا اور دوسروں کی کٹی پتنگیں حاصل کرنا، فتح ہوا کرتی تھی۔ فرصت کے لمحات میسر آنے پر سب سے بڑی تفریح پتنگ اڑانا ہی ہوا کرتی تھی۔ تاہم یہ بھی اٹل حقیقت ہے کہ بسنت نے جہاں خوشی کے کئی رنگ دئیے، وہاں دکھ اور زخم بھی بہت دئیے،
قواعد و ضوابط نہ ہونا، ضابطہ اخلاق کا فقدان، کیمیکل، دھاتی ڈور کا بے دریغ استعمال، کٹی پتنگ کے پیچھے بھاگتے چھتوں سے گرنا، ہاتھ، ٹانگ سے معذور ہو جانا، پتنگ کاٹنے ( بوکاٹا کرنے) پر لڑائیاں، راہگیروں ( موٹر سائیکل سواروں) کا گردن پر ڈور پھرنے سے زخمی ہونا، یا پھر چھتوں سے گر کر، قیمتی جانوں کا ضیاع، یہ سب بسنت کا تلخ پہلو بلکہ ’’ صدقہ‘‘ ہوا کرتا تھا۔ انہی وجوہات نے سابق حکومت کو اس پر پابندی لگانے پر مجبور کیا۔
موجودہ پنجاب حکومت نے 2دھائیوں بعد بسنت تہوار کو بحال کرنے کا اعلان کیا تو یادوں کے دریچے کھلے، پرانے دوستوں کی یاد ستائی، جن کے ساتھ چھت کے پردوں کے ساتھ لگ کر گپ شپ اور ایک دوسرے کی چھت پھلانگ کر پتنگ بازی ہوتی۔ جی چاہا، ان دوستوں کو فون کر کے بچپن کی یادیں تازہ کروں۔ نمبر گھمایا تو معلوم ہوا کئی دوستوں کو تو زندگی دغا دے چکی، ندامت ہوئی کہ بچپن کیا گیا، دنیا داری میں ایسے الجھے کہ ایک دوسرے کی خیر خبر رکھنے سے بھی گئے۔
مجھے بسنت کا شوق روزِ اول سے ہی نہیں تھا۔ دوست یار گڈے اڑاتے تو میں تماشائی بنا انہیں دیکھتا رہتا۔ بچپن سے ہی ذہن میں یہ بات نقش تھی کہ بسنت ایک قاتل تہوار ہے، جو زندگیاں بھی نگل جاتا ہے، پھر ایک طبقے نے اسے ہندوانہ تہوار قرار دے کر ہمارے ذہنوں میں شکوک و شہبات اور اس تہوار سے نفرت پیدا کئے رکھی۔ دیکھا دیکھی یہ تہوار ایک نسل سے چھین لیا گیا۔ طویل عرصہ پابندی برقرار رہنے کے بعد، اب 25سال بعد یہ بحال ہونے جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بہت ورکنگ، جامع منصوبہ بندی اور واضح ضابطہ اخلاق کی تیاری کے بعد اس کی بحالی کا اعلان کیا ہے اور تمام تر احتیاط کا دامن ہاتھ میں رکھتے ہوئے سخت نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ بسنت فیسٹیول کے انعقاد کی ہدایت کی ہے۔
ماضی میں کوڈ آف کنڈکٹ نہ ہونے کی وجہ سے غیر معیاری اور ممنوعہ ڈور اور دیگر متعلقہ امور پر توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ گلی محلوں میں ہر دکان پر پتنگیں بکتی تھیں اور موت کا لائسنس تقسیم کرنے والوں پر کوئی گرفت نہیں تھی۔ مریم نواز نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب تمام سابقہ نقصانات کو مدنظر رکھا اور گزشتہ تجربات و تحقیقات کی روشنی میں خود حکمت عملی مرتب کی۔ مریم نواز کی واضح ہدایات کی روشنی میں اس امر کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ ممنوعہ یا غیر معیاری ڈور اور پتنگیں استعمال نہ ہوں۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈور کے معیار اور پتنگوں کے سائز کیلئے بھی قواعد و ضوابط مرتب کئے گئے ہیں۔ ڈور اور پتنگوں پر باقاعدہ بار کوڈ لگایا گیا ہے اور شہریوں کو محفوظ بسنت یقینی بنانے کیلئے بار کوڈ کے علاوہ خریداری نہ کرنے کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔ پنجاب حکومت کے دئیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 2277 سیل پوائنٹس قائم کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ لائسنس یافتہ رجسٹرڈ دکانداروں سے ہی ڈور اور گڈیاں خریدی جائیں۔ انتظامیہ کے پاس ڈور اور پتنگیں فروخت کرنے اور خریدنے والوں کا مکمل ڈیٹا ہوگا، تاکہ بوقت ضرورت فوری کارروائی ممکن ہو سکے۔ مریم نواز نے ضلعی انتظامیہ کو ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایت دی ہے۔
شہریوں کی جانی حفاظت کے پیش نظر حکومت کی جانب سے اب تک 10لاکھ سے زائد سیفٹی راڈز بھی موٹر سائیکلوں پر لگانے کیلئے تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ بغیر سیفٹی راڈز بائیک چلانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ بسنت فیسٹیول کے تینوں دن حکومت پنجاب کی جانب سے ہی الیکٹرک بسیں، رکشے اور ٹیکسیاں عوام کیلئے مفت چلائی جائیں گی۔ احتیاطی تدابیر اور ایس او پیز سے متعلق حکومت آگاہی مہم بھی مسلسل چلا رہی ہے۔ پہلی مرتبہ کائٹ فلائنگ رولز مرتب کئے گئے ہیں۔ چھتوں پر بھی پتنگ بازی کیلئے چار دیواری کی مناسبت سے دی گئی اہم ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کو کہا گیا ہے۔ یعنی حکومت کی پوری کوشش ہے کہ 25سال بعد بحال ہونے والے اس تہوار کو تحفظ دیا جائے۔
ہم جنریشن ایکس سے جنریشن زی اور اب جنریشن الفا تک کا سفر طے کر چکے ہیں۔ جنریشن زیڈ اور بالخصوص جنریشن الفا کیلئے یہ تہوار بالکل نیا ہے۔ اسی لئے جہاں جنریشن ایکس اور جنریشن وائی میں اس حوالے سے بہت جوش و خروش پایا جا رہا ہے، وہیں نئی اور نوجوانوں نسل بھی پہلی مرتبہ اس تہوار کے رنگ دیکھنے کیلئے بیتاب ہے۔ پنجاب حکومت نے قوم کو گزشتہ 5سال کے دوران چھینی گئی خوشیاں لوٹانے اور ان کے چہروں کو مسکراہٹیں لانے کیلئے جس اقدام کا آغاز کیا ہے، اس پر وہ یقینا مبارکباد کی مستحق ہے۔ حکومتِ پنجاب نے جس طرح بہت عرق ریزی کے بعد اس تہوار کو بحال کرنے کی ٹھانی ہے، اور اسے محفوظ بنانے کیلئے بھی پوری تگ و دو میں مصروف ہے، اس صورتحال میں ہر شہری کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ حکومت کی گائیڈ لائن پر مکمل طور پر عمل کرے۔
جنریشن الفا کیلئے بسنت ایک نیا تجربہ ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ اس تہوار کے حوالے سے نہ تو ماضی کی تلخ یادیں ہیں اور نہ ہی اس سے جڑے خطرات کا شعور۔۔۔۔ حکومت تو شعور دینے کیلئے اپنا کام بھرپور طریقے سے کر رہی ہے۔ والدین اور اساتذہ کی بھی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں میں قانون کی پاسداری اور اجتماعی نظم و ضبط کو اسی شدت سے اجاگر کریں۔
پتنگ بازی کی صنعت سے وابستہ افراد کو اس ضمن میں ماضی کی غلطیوں سے سبق دیکھتے ہوئے سب سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر تمام طبقات نے قواعد و ضوابط کی پاسداری کو یقینی بنایا تو بسنت ایک بار پھر محفوظ اور ثقافتی خوشی کی علامت بن سکتی ہے اور سالانہ بنیادوں پر اس کا تسلسل قائم رہ سکتا ہے۔ بصورتِ دیگر، ماضی کی طرح ایک بار پھر پابندی ناگزیر ہو جائے گی، جس کی ذمہ داری کسی ایک فرد یا حکومت پر نہیں بلکہ پورے معاشرے پر عائد ہوگی۔
آئیے! ثقافتی رنگوں کو دوبارہ زندہ کرنے اور بسنت تہوار کی خوشی میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ خود سے یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کیا ہم سب اس سے جڑی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے تیار ہیں۔۔؟

جواب دیں

Back to top button