Column

کیا بانی پی ٹی آئی ترکیہ جا رہے ہیں؟

کیا بانی پی ٹی آئی ترکیہ جا رہے ہیں؟
تحریر: رفیع صحرائی
پاکستانی سیاست میں افواہیں، امکانات اور قیاس آرائیاں ہمیشہ سے خبروں کی زینت رہی ہیں مگر بعض اوقات کوئی بات ایسی زبان سے نکلتی ہے جس کا وزن عام تبصروں سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید جیسے باخبر، تجربہ کار اور ذمہ دار سیاست دان کا یہ انکشاف کہ 2025ء میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے عمران خان کو ترکی بھیجنے کی پیشکش کی تھی، محض ایک سیاسی جملہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ سفارتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس اشارے کے ساتھ ہی سیاسی حلقوں میں یہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا عمران خان موقع سے فائدہ اٹھا کر ڈیل کے ذریعے بیرونِ ملک چلے جائیں گے۔ یہ سوال اب محض افواہ نہیں رہا کہ کیا عمران خان کو بیرونِ ملک بھیجا جا سکتا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عمران خان خود اس راستے کو اختیار کریں گے؟
ترکیہ اس وقت تک شاید وہ واحد ملک ہے جس نے بانی پی ٹی آئی کو قبول کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ اب تک نہ کسی یورپی ملک نے ایسا عندیہ دیا اور نہ کسی بڑے اسلامی ملک نے۔ اس سے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان موجود سفارتی تعلقات کی نوعیت بھی عیاں ہوتی ہے اور اردوان کی عمران خان سے ذاتی قربت بھی۔ مگر یہاں ایک اہم سوال سر اٹھاتا ہے: کیا ترکیہ عمران خان جیسے متحرک، جارحانہ بیانیہ رکھنے والے رہنما کو سنبھال پائے گا؟
اگر کبھی ایسا فیصلہ ہوتا ہے کہ عمران خان کو ترکیہ بھیجا جائے تو سب سے پہلی شرط یقیناً ایک مخصوص مدت کے لیے ان کی خاموشی ہو گی۔ سیاست میں جلاوطنی اکثر خاموشی کے معاہدے کے ساتھ آتی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ خاموشی عمران خان کی فطرت میں شامل نہیں۔ وہ سیاست دان کم اور ایک بیانیہ زیادہ بن چکے ہیں۔
یہ سوال ترکیہ کے لیے بھی بڑا اہم ہو گا کہ کیا وہ ایسی شرط پر عمل درآمد کروا سکے گا؟ بظاہر یہ آسان دکھائی نہیں دیتا۔ گزشتہ اڑھائی سال سے عمران خان جیل میں ہیں۔ جیل کی سختی اپنی جگہ، مگر وہ اس سے بڑھ کر اپنے ہی بیانیے کے قیدی بن چکے ہیں۔
’’ ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان‘‘ یہ اب صرف نعرہ نہیں رہا، یہ ایک اخلاقی ذمہ داری بن چکی ہے۔ اگر وہ بیرونِ ملک جانے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو وہ اپنے مخالفین پر وہ تنقید کھو دیں گے جو وہ برسوں سے کرتے آئے ہیں کہ فلاں سیاست دان ڈیل کر کے باہر چلا گیا۔ ان کی مقبولیت کو ایک نفسیاتی دھچکا لگ سکتا ہے۔ سوشل میڈیا اور یوٹیوبرز نے بھی عمران خان کی شخصیت کو ایک ایسی بلند انا پر پہنچا دیا ہے جہاں سے نیچے اترنا تقریباً ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اگر وہ اس مقام پر آ کر سمجھوتا کرتے ہیں تو وہ ہیرو سے زیرو ہو سکتے ہیں۔ ان کی مقبولیت کا بت پاش پاش ہو سکتا ہے۔عمران خان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو ضد اور ایگو ہے۔ انہیں یقین ہے کہ جلد یا بدیر رہائی ممکن ہے۔ اسی امید پر وہ جیل کاٹ رہے ہیں۔ انہیں موت دکھا کر بخار پر راضی نہیں کیا جا سکتا۔
ایسے میں بیرونِ ملک جانا ان کی نظر میں وقتی سکون مگر مستقل سیاسی نقصان بن سکتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ ترکیہ ایک پیچیدہ عالمی توازن کا حصہ ہے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں ترکیہ بھی شامل رہا ہے۔ اس پس منظر میں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ترکیہ عمران خان کے بعض بیانات اور نظریاتی موقف کے ساتھ عالمی دبائو برداشت کر سکے گا؟
یہ پاکستان کی سیاست ہے۔ یہاں ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ عمران خان بھی اسی سیاسی نظام کی پیداوار ہیں جہاں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات اقتدار کی سیڑھی بنتے رہے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق سے لے کر جنرل مشرف اور جنرل باجوہ تک، عمران خان کے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اسی لیے یہ کہنا بھی قبل از وقت ہو گا کہ وہ کبھی ایسی ڈیل نہیں کریں گے۔ یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ ترکیہ تیار ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ: کیا عمران خان اپنے بیانیے سے نیچے اترنے کے لیے تیار ہیں؟
فی الحال حالات یہی بتاتے ہیں کہ وہ ایسا قدم اٹھانے سے گریز کریں گے۔ کیونکہ جیل کی سلاخیں ان کے لیے شاید اتنی تکلیف دہ نہیں جتنی بیانیے سے انحراف کی تکلیف ہو گی۔ ترکیہ کی پیشکش اپنی جگہ اہم ہے، سفارتی بھی اور سیاسی بھی۔ مگر عمران خان کی نفسیات، ان کا بیانیہ، ان کی ضد، ان کی مقبولیت کا تانا بانا، یہ سب مل کر اس پیشکش کو عملی شکل اختیار کرنے سے روکتے دکھائی دیتے ہیں۔
لیکن یاد رہے! یہ سیاست ہے، اور وہ بھی پاکستان کی سیاست۔ یہاں آخری صفحہ ہمیشہ آخری لمحے میں لکھا جاتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button