Column

وزیر اعلیٰ پنجاب کا دبنگ اجلاس، عظمیٰ بخاری کا کوئی قصور نہیں؟

وزیر اعلیٰ پنجاب کا دبنگ اجلاس، عظمیٰ بخاری کا کوئی قصور نہیں؟
فیاض ملک
فیاضیاں
گزشتہ دنوں لاہور میں ماں بیٹی کے کھلے مین ہول میں گرنے کی وجہ سے ہلاکت کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جس نے ایک بار پھر حکومتی اداروں کی بے حسی کا پول کھول کر رکھ دیا تھا، ابتدائی طور پر اس واقعہ کو فیک قرار دینے کی متعلقہ اداروں کی جانب سے گھٹیا کوشش کی گئی تھی۔ اتنی ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا گیا کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں تھی۔ صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری بھی ان کے ٹریپ میں آگئیں اور انہوں نے بھی ان اداروں کی جانب سے ملنے والی ابتدائی رپورٹس دیکھتے ہوئے پنجاب حکومت کے ترجمان کی حیثیت سے اس افسوسناک واقعہ کو من گھڑت قرار دیا تھا، لیکن جب ماں بیٹی کی لاشیں گندے پانی سے ملی تو اس کو وہی افسر منہ چھپاتے ہوئے وہاں سے غائب ہو گئے تھے۔ اس افسوسناک واقعہ کے بعد ( بیوروکریسی المعروف بابوکریسی ) یہی سوچتی رہی۔ خیر اے، کچھ نہیں ہوگا ، وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف ہلکی پھلکی سرزنش ہوگی۔ ایک دو ماتحت افسروں کی معطلی ہو گی اور بس ، کیونکہ ماضی کو اگر دیکھا جائے تو یہی پریکٹس چلتی تھی۔ لیکن سانحہ بھاٹی چوک کے بعد ایسا نہیں ہوا بلکہ قیام پاکستان سے لیکر آج تک پنجاب کی تاریخ میں بھی ایسا نہیں ہوا جو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پہلی مرتبہ عوام کے سامنے کیا، انہوں نے قوم کی ماں، بہن اور بیٹی کی حیثیت سے ہمت کی اور اس بدبودار سسٹم کو لیکر چلنے والی بیوروکریسی کا پول کھول کے رکھ دیا۔ پہلی بار جی پہلی بار انہوں نے خود تمام بیوروکریسی کی نااہلی پر ان کی عوام کے سامنے لائیو سرزنش کی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بھاٹی چوک میں رونما ہونے والا یہ کیس ہمارے سماج کی دیگ کا وہ چاول ثابت ہو سکتا ہے، جسے چکھ کر آپ ہمارے ہاں کی حکومتوں اور ان کے زیر سایہ چلنے بلکہ پلنے والی بیوروکریسی کی کارکردگی کا جائزہ لے سکتے ہیں کہ وہ کس حد تک ٹھیک ہے۔ خیر چھوڑیں یہ بھی ایک لمبی بحث ہوگی جس کو کوئی حاصل نہیں ہوگا ۔ بہرحال پہلی مرتبہ ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے اس اجلاس میں وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف متعلقہ بیوروکریسی کے اعلیٰ افسروں سے نہ صرف بریفنگ لیتی ہیں بلکہ اس نااہلی، جھوٹ اور حقائق چھپانے پر افسروں کی کلاس لیتی ہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ایک ماں، ایک بہن اور ایک بیٹی کی حیثیت مریم نواز شریف کے لہجے میں درد تھا، وہ اس سانحے پر لواحقین سے ہمدردی اور افسران کے ساتھ سختی نظر آتی ہے۔ وہ اس سانحے کو سنگدلی، مجرمانہ غفلت اور خاتون کے شوہر کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کو شرمناک قرار دیتی ہیں۔ وہ سوال کرتی ہیں کہ لاہور کے پرہجوم علاقے میں یہ کیسے ممکن ہوا؟ اتنے محکمے آخر کیا کر رہے تھے؟ وہ کہتی ہیں کہ اگر یہ بچی میری یا آپ کی ہوتی تو کیا پورا سسٹم ہل کے نہ رہ جاتا؟ کیا آپ کے ( سوری) کہنے سے وہ ماں بیٹی واپس آجائے گے؟۔ وہ مزید کہتی ہیں، دراصل فٹ پاتھ پر غریب چلتا ہے اور گٹر میں ہمیشہ غریب گرتا ہے۔ اس لیے تمہیں کچھ فرق نہیں پڑتا۔ وہیں متعلقہ محکموں کے ذمہ دار افسروں کو نوکری سے نکالنے کے احکامات جاری ہوتے ہیں اور یہ بھی کہ یہ آئندہ کسی بھی محکمے میں نوکری نہ کر سکیں گے۔ کچھ لوگوں کے خلاف ایف آئی آرز کی بات ہوتی ہے۔ لاہور کے بھر کے سیوریج سسٹم کا سروے کرکے خامیاں دور کرنے کے آرڈر جاری کر دئیے جاتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے حوالے سے واضح طور پر کہا کہ اس کا کوئی قصور نہیں۔ اس کو غلط رپورٹس بھیجی گئی تھیں۔ اس نے ابتدائی طورپر وہی کہا جو اسے متعلقہ اداروں کے افسروں کی طرف سے بتایا گیا تھا۔ یہاں یہ بھی امر قابل ذکر ہے کہ صوبے کی چیف ایگزیکٹو نے جب عظمیٰ بخاری کے بے قصور ہونے کی بات کی تو دوسری جانب صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی پنجاب بلکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کھلے دل کے ساتھ اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ افسوسناک واقعے پر دلی طور پر دکھی اور شرمندہ ہیں، انتظامیہ نے غلطی چھپانے کے لیے غلط حقائق شیئر کیے۔ میں ذاتی طور پر بھی شرمندہ ہوں اور معافی کی طلبگار ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے غلطیوں اور کوتاہیوں کو نہیں چھپایا، وزیراعلیٰ نے برملا ندامت کا اظہار کیا اور گناہگاروں کو گرفتار کروایا۔ پنجاب میں انسانی جان کے ضیاع کی کوئی معافی نہیں، میں استعفیٰ دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔ اللہ پاک سب کی حفاظت فرمائے۔ عظمیٰ بخاری کی اس معافی نے ثابت کیا کہ ان کو اقتدار اور عہدے کی کوئی طلب نہیں ہے۔ وہ تو صرف بیوروکریسی کا ٹریپ ہوئی ہیں۔ میں یہاں اگر عظمیٰ بخاری کے حوالے سے بات کروں تو ماضی سے لیکر حال تک وہ پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا بلکہ سوشل میڈیا پر اپنے منفرد انداز اور بحث و مباحثے کے ساتھ مسلم لیگ ن کا دفاع کرتی نظر آتی ہیں، ان کا شمار ایسی سیاسی خواتین میں ہوتا ہیں جو میڈیا پر کافی مشہور ہیں اور ان کے منہ سے ادا ہونے والے الفاظ الیکٹرانک میڈیا پر بریکنگ اور پرنٹ میڈیا پر لیڈ، سپر لیڈ کی حیثیت رکھتے ہیں، ان کی ایک خوبی ان کی گفتگو کا انداز بھی ہے، بہت کم لوگ فی البدیہہ اتنا خوبصورت بولتے ہیں اور اگر گفتگو کی جھلک عملی کام میں بھی دکھائی دے تو آپ کے مخالف بھی آپ کی تعریف پہ مجبور ہو جاتے ہیں۔ آج پارٹی کے ساتھ وفاداری کی روایت کو برقرار رکھا ہوا ہے، اسی وجہ سے ان کا شمار وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے انتہائی قریبی اور با اعتماد ساتھیوں میں ہوتا ہے ، ان کی اداروں کی ابتدائی رپورٹ کو لیکر اس واقعہ کو فیک نیوز کہنے پر شدید تنقید کی جارہی ہے، جس میں ان سے استعفے کا کہا جارہا ہے۔ تاہم اس سانحہ پر جس طرح وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عوام سے معافی مانگی ہے اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ہاتھ جوڑ کر متوفیہ خاتون کے گھر والوں سے معافی مانگی ہے، یہ ایک اچھے طرز عمل کی بہترین مثال اور خوبصورت آغاز بھی ہے، اور بے جا تنقید کرنے والوں کو موثر جواب بھی ہے۔

جواب دیں

Back to top button