Column

بھارت کیخلاف میچ نہ کھیلنے کا صائب فیصلہ

اداریہ۔۔۔
بھارت کیخلاف میچ نہ کھیلنے کا صائب فیصلہ
پاکستان ہمیشہ سے نہ صرف کھیل کا ایک مضبوط مرکز رہا ہے بلکہ قومی وقار، عوامی جذبات اور ملک کے موقف کی نمائندگی کرنے والا ملک بھی رہا ہے۔ حکومت پاکستان نے حال ہی میں ایک اہم فیصلہ کیا ہے جو نہ صرف کرکٹ کی دنیا میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے اصولی موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو آئی سی سی ٹی20ورلڈکپ 2026ء میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے، لیکن بھارت کے خلاف شیڈول میچ میں پاکستان حصہ نہیں لے گا۔ یہ فیصلہ محض کھیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ پاکستان کے قومی مفاد، عوامی جذبات اور انصاف کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ پاکستانی عوام اور کرکٹ شائقین کے لیے یہ ایک حساس معاملہ ہے، کیونکہ بھارت کے ساتھ کرکٹ میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ ایک ایسا اقدام ہے جو ہمارے ملک کے موقف کو عالمی سطح پر واضح پیش کرتا ہے۔ پاکستان نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کے پلیٹ فارم پر انصاف اور مساوی مواقع کے اصول کی خلاف ورزی کے واضح شواہد موجود ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، ICCکی پالیسیوں میں یک طرفہ رجحان اور جانبداری کے نتائج سامنے آئے ہیں، خاص طور پر بنگلادیش کے حوالے سے۔ پاکستان نے بھارت کے خلاف میچ میں عدم شرکت کے ذریعے ایک مضبوط علامتی اقدام کیا ہے، تاکہ یہ واضح ہو کہ کسی بھی ملک کی جانب داری کو قبول نہیں کیا جائے گا اور ہر ملک کو برابر کے مواقع ملنے چاہئیں۔ یہ فیصلہ پاکستان کی قومی یکجہتی اور اصولی موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ ہر بار کرکٹ کے عالمی ٹورنامنٹس میں پاکستان کے شائقین کی توقعات ہوتی ہیں کہ ان کے ہیروز کھیل کے میدان میں نمایاں کارکردگی دکھائیں۔ تاہم، کھیل کے ساتھ کھیل کے قوانین، اخلاقی اقدار اور عالمی سطح پر ملک کی ساکھ بھی اتنی ہی اہم ہے۔ بھارت کے خلاف میچ میں عدم شرکت کا مقصد صرف کسی ملک کو سزا دینا یا کھیل کو سیاست کا حصہ بنانا نہیں بلکہ بین الاقوامی کرکٹ میں انصاف اور مساوات کے اصول کی بحالی ہے۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں ICCکے فیصلوں پر شکوہ ظاہر کیا ہے کہ بعض اوقات بھارت کے حق میں جانبداری اور دیگر ممالک کے نقصان میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اسی بنیاد پر حکومت اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے اجتماعی اور اصولی موقف اختیار کیا، تاکہ یہ پیغام دیا جاسکے کہ پاکستان صرف کھیل کے شوق میں نہیں بلکہ اپنے وقار اور عوام کے جذبات کی حفاظت کے لیے بھی فیصلے کر سکتا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے پاکستان نے یہ واضح کیا ہے کہ کھیل اور سیاست کو الگ نہیں کیا جاسکتا، خاص طور پر جب عالمی سطح پر انصاف اور مساوات کے اصول متاثر ہورہے ہوں۔ یہ فیصلہ پاکستان کے عوام کے جذبات کا بھی احترام کرتا ہے۔ خصوصاً ان حالات میں جب دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی یا تنازع موجود ہو۔ حکومت نے ایک حساس اور حکمت عملی پر مبنی فیصلہ کیا ہے۔ مزید برآں، پاکستان کا یہ اقدام عالمی سطح پر یہ پیغام بھی بھیجتا ہے کہ ہمارے اصول سمجھوتہ نہیں کرتے۔ پاکستان نہ صرف اپنے عوام کے حقوق کی حفاظت کر رہا ہے، بلکہ بین الاقوامی کرکٹ کے اصولوں میں اصلاحات کی ضرورت کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت کے درمیان ہونے والی مشاورت، جس میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور وزیراعظم شہباز شریف شامل تھے، نے یہ فیصلہ لیا کہ ٹیم ورلڈ کپ میں حصہ لے گی، لیکن بھارت کے خلاف میچ میں نہیں کھیلے گی، تاکہ اعلیٰ کرکٹ معیار اور اصولی موقف دونوں کو برقرار رکھا جا سکے۔ یہ اقدام پاکستان کے کرکٹ کے مستقبل کے لیے بھی مثبت ہے۔ بین الاقوامی کرکٹ میں شفافیت اور مساوات کی بنیاد پر فیصلے ہونے چاہئیں، تاکہ کھیل کا معیار بلند رہے اور کھیل کے میدان میں ہر ٹیم کو انصاف اور برابری کے مواقع ملیں۔ پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف میچ میں عدم شرکت کا فیصلہ نہ صرف موجودہ صورت حال کا جواب ہے بلکہ آئندہ کے لیے ایک قانونی اور اخلاقی مثال بھی قائم کرتا ہے۔ یہ فیصلہ ملک اور اصولوں کے لیے کیا گیا ہے۔ پاکستان نے اس اقدام کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ قومی مفاد ہر چیز پر مقدم ہے، چاہے وہ کھیل کے میدان کی شہرت ہو یا عالمی کرکٹ میں مقابلہ۔ اس فیصلے کے ذریعے پاکستان نے عالمی کرکٹ برادری کو یہ واضح کر دیا کہ انصاف، شفافیت اور مساوات ہمارے لیے سب سے اہم ہیں اور کوئی بھی ملک یا ادارہ کسی بھی ٹیم کے ساتھ یک طرفہ رجحان اختیار نہیں کر سکتا۔ پاکستان کا یہ فیصلہ نہ صرف اصولی ہے بلکہ مستقبل کے لیے ایک رہنما مثال بھی ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت پاکستان اپنے عوام، کرکٹ شائقین اور قومی وقار کی حفاظت کے لیے کسی بھی اقدام سے نہیں کتراتی۔ بھارت کے خلاف میچ میں عدم شرکت کا فیصلہ ایک اہم تاریخی اقدام ہے جو بین الاقوامی کرکٹ میں اصولی موقف کی مضبوط نمائندگی کرتا ہے۔ پاکستان نے یہ فیصلہ محض جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون، اخلاقیات اور کرکٹ کے اصولوں کی بنیاد پر کیا ہے۔ اس اقدام سے پاکستان کو عالمی سطح پر بھی احترام حاصل ہوگا، کیونکہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ہمارا ملک اپنے اصولوں پر قائم ہے اور کسی بھی غیر منصفانہ صورت حال کو تسلیم نہیں کرتا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم، پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت کے درمیان ہم آہنگی نے یہ واضح کر دیا کہ ملک کی ساکھ، عوام کے جذبات اور کھیل کے اصول سب سے اہم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اصولی اور عوامی موقف اختیار کیا ہے۔

 

شذرہ۔۔
تعلیم روشن مستقبل کی ضامن
پاکستان میں مجموعی شرح خواندگی صرف 63فیصد ہے، جو جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔ یہ واضح پیچھے رہ جانے کی علامت ہے کہ پاکستان نے تعلیم کے شعبے میں اب تک موثر اقدامات نہیں کیے۔ وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار اور فافن کی جنوبی ایشیائی ممالک پر جائزہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مردوں کی شرح خواندگی 73فیصد جب کہ خواتین کی شرح خواندگی صرف 54فیصد ہے۔ یہ فرق مرد اور خواتین میں تعلیمی مواقع کی عدم مساوات کی عکاسی کرتا ہے، جو سماجی اور معاشی ترقی کے لیے خطرناک ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران شرح خواندگی میں صرف تین فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یعنی ملک کی آبادی کی بڑی تعداد اب بھی بنیادی تعلیم سے محروم ہے۔ کم شرح خواندگی نہ صرف افراد کی ذاتی ترقی میں رکاوٹ بنتی بلکہ معاشرتی مسائل جیسے غربت، بچوں کی تعلیم کی کمی، خواتین کی محدود معاشرتی شمولیت اور ملکی معیشت میں سست روی کو بھی بڑھاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ترقی میں دیگر ممالک کے مقابلے میں پیچھے رہ گیا ہے۔ خصوصاً خواتین کی خواندگی میں کمی ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر خواتین تعلیم یافتہ ہوں تو گھر اور معاشرہ دونوں میں مثبت تبدیلی آتی ہے۔ بچوں کی ابتدائی تعلیم، صحت اور معاشرتی شعور میں اضافہ خواتین کی تعلیم سے جڑا ہوتا ہے۔ لہٰذا حکومت اور صوبائی اداروں کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو تعلیم تک آسان رسائی، سستے تعلیمی وسائل اور اساتذہ کی تربیت کو یقینی بنائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تعلیمی بجٹ میں اضافہ کرے، اسکولوں کی تعداد بڑھائے، خاص طور پر دیہی اور پس ماندہ علاقوں میں اور صنفی مساوات کو فروغ دے۔ اسکول میں بنیادی سہولتیں، کتابیں اور محفوظ ماحول فراہم کرنا لازمی ہے۔ مزید برآں، بچوں اور نوجوانوں میں تعلیم کی اہمیت کے بارے میں شعور بیدار کرنے کے لیے کیمپیئنز اور میڈیا مہمات کا انعقاد کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی ترقی، نوجوانوں کی صلاحیتوں کے فروغ اور معاشی بہتری کا دارومدار تعلیم کے شعبے کی مضبوطی پر ہے۔ حکومت کو فوری اور موثر اقدامات کرکے شرح خواندگی میں بہتری لانی چاہیے کہ اس کے بغیر اور کوئی چارہ نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے عوام کے مستقبل کی تعمیر میں سرمایہ کاری کی جائے، تاکہ ہر بچہ، لڑکا اور لڑکی تعلیم کے حق سے محروم نہ رہے۔ یہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

جواب دیں

Back to top button