ColumnRoshan Lal

کراچی کے عوام اور کراچی کا ہمدرد کون؟

کراچی کے عوام اور کراچی کا ہمدرد کون؟

روشن لعل
کراچی کو اکثر اس زاویے سے دیکھا جاتا ہے کہ اس میں اردو بولنے والے 50.60فیصد، پشتو بولنے والے13.52فیصد، سندھی بولنے والے 11.12فیصد، پنجابی بولنے والے8.08فیصد، بلوچی بولنے والے 3.97فیصد، سرائیکی بولنے والے3.70 فیصد اور دیگر زبانیں بولنے والے 8. 73فیصد لوگ رہتے ہیں۔ جس شہر کو زیادہ تر لسانیت کی عینک لگا کر دیکھا جاتا ہے اسے دیکھنے کا ایک بہتر زاویہ ، یہ ہے کہ اس میں بلالحاظ رنگ ، نسل، مذہب اور زبان کے، جتنے بھی لوگ فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں وہ تمام محنت کش ، تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم ، ہسپتالوں میں داخل ہونے والے، مریض ہیں اور زندگی کے دیگر شعبوں میں جہاں جو کام بھی ہو رہا ہے وہاں لوگوں کی شناخت لسانیت نہیں بلکہوہ نسبت ہے جس کے تحت وہ کسی خاص جگہ موجود ہوتے ہیں۔ کراچی میں بسنے والے تمام لوگ وہاں کے شہری ہیں اور زندگی کی بنیادی ضرورتیں ان کا لسانی نہیں بلکہ مساوی انسانی حق ہے۔ دل تو یہی چاہتا ہے کہ موخر الذکر زاویے کے علاوہ کراچی کو کسی دوسرے زاویہ سے نہ دیکھا جائے مگر افسوس کہ اس زاویے سے دیکھنے پر کراچی میں برپا کردہ دھند کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتا ۔ گو کہ کراچی میں لسانیت کی دھند بہت پہلے چھانا شروع ہو گئی تھی مگر چار دہائیاں پہلے تک یہ اتنی گہری نہیں تھی کہ وہاں انسانیت کا نظر آنا محال ہو جائے ۔
جس شہر میں پہلے لاشوں کا اہتمام کرنے اور پھر ان لاشوں پر سیاست کرنے والوں کی بہتات ہو وہاں انسانیت کا نظر نہ آنا زیادہ عجیب بات نہیں ہے ۔ اس ستم پر مزید ستم یہ کہ جن لوگوں نے کراچی میں انسانیت کو زندہ لاش بنا کر اس کا جنازہ نکالا، آج وہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان سے زیادہ کراچی اور کراچی والوں کا ہمدرد اور کوئی نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی دیدہ دلیری سے اپنا ماضی چھپانی کی وجہ یہ ہے کہ انہیں کراچی میں اپنے چہرے ڈھاپنے کے لیے عام شہریوں کی کمزور یادداشت کا نقاب بڑی آسانی سے دستیاب ہو جاتا ہے۔ اس کام میں ایسے میڈیائی طرم خان ان کی خاص معاونت کرتے ہیں جو لاشوں پر سیاست کے دوران دینے گئے ان کے بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتی وقت بوجوہ ا ن کا ماضی عام لوگوں کے سامنے نہیں رکھتے ۔
پاکستان بننے کے فوراً بعد حکمران اشرافیہ نے ناعاقبت اندیشی سے کراچی میں جن کارروائیوں کا آغاز کیا اس سے شہر اپنی شناخت کھونا شروع ہو گیا تھا لیکن ضیا سے پہلے اسے، روشنیوں کے شہر کے طور پر ہی جانا جاتا رہا۔ حالیہ سانحہ گل پلازہ کے فوراً بعد جن لوگوں نے لاشوں پر سیاست کرنے کی کوشش کی ان میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی کے لوگ پیش پیش نظر آئے۔ اگر مارشل الا کے دور میں جماعت اسلامی کو ضیا کی بی ٹیم کہا گیا تو ایم کیو ایم کو اب بھی اس آمر کی خاص ضرورتوں کے تحت بنائی گئی تنظیم مانا جاتا ہے۔ کراچی میں لاشوں کی سیاست اور وہاں کی روشنیاں گل ہونے کا آغاز ضیا دور میں کراچی یونیورسٹی پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ اور ایم کیو ایم کی شکل میں ڈھلنے والی آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے درمیان تصادم سے ہوا۔ ضیا دور میں کراچی یونیورسٹی سے بے گناہ لوگوں کی لاشوں پر سیاست کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ کراچی شہر میں آج تک جاری ہے ۔ اس دوران لاقانونیت کی کوئی ایسی شکل باقی نہیں بچی تھی جس کا ظہور کراچی شہر میں نہ ہوا ہو۔ انسانیت کی ضد سمجھی جانے والی غیرقانونی سرگرمیوں کے مقابلہ میں ایک دوسرے کا ریکارڈ توڑنے میں وہ گروہ پیش پیش رہے جنہیں درپردہ ہاتھوں کی آشیر باد حاصل تھی۔ ان میں سے اگر ایک گروہ کو بوری بند لاشوں کے تحفے دینے، بھتہ خوری کرنے اور فطرانوں تک پر ہاتھ صاف کرنے کی آزادی ، دی گئی تو دوسرے گروہ نے قطعاً اس طرح کا واویلا کرنے کی جرات نہ کی جس طرح کا واویلا اس کی طرف سے گل پلازہ جیسے سانحات پر دیکھنے کو ملتا ہے۔ پھر ماضی میں اس وقت جوتیوں میں دال بٹتے ہوئے بھی دیکھی گئی جب درپردہ ہاتھوں کی آشیر باد ایک گروہ کے تمام لوگوں کی بجائے کچھ افراد کی ذات تک محدود ہو گئی ۔ پھر دیکھا گیا کہ جس ’’ بھائی‘‘ کو پہلے آسمانی صحیفہ بنا کر پیش کیا جاتا تھا، اسے قاتل، بھارتی ایجنٹ ، بھتہ خور اور نامعلوم مزید کیا کچھ بنا دیا گیا ۔ پھر یہ ہوا کہ جب جوتیوں میں دال باٹنے سے کچھ بھی حاصل نہ ہو سکا تو کسی وضاحت کے بغیر ان سب نے آپس میں جپھیاں ڈالنا شروع کر دیں جو بدترین الفاظ استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے پر کراچی کو تباہ و برباد کرنے کے الزامات لگاتے رہے ۔ وہ سب لوگ جو ایک دوسرے پر بڑھ چڑھ کر کراچی کو تباہ و برباد کرنے الزام لگاتے رہے آج وہ سانحہ گل پلازہ کے بعد لسانیت کی بنیاد پر خود کو کراچی اور کراچی کے لوگوں کا سب سے بڑا ہمدرد بنا کر پیش کر رہے ہیں۔
کراچی میں رہنے والوں کی کیا زبان ہے اور وہ کن حالات میں کہاں سے آئے تھے اب ایسی باتیں بے معنی اور یہ حقیقت انتہائی اہم ہو چکی ہے کہ وہ جس کراچی میں گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے مقیم ہیں اور جہاں ان کی تیسری نسل پیدا ہو چکی ہے اب وہی ان کا اپنا علاقہ ہے ۔ ان لوگوں کی زندگی مشکلات کا شکار ہو یا آسانیوں سے بھر پور، یہ اب ہمیشہ کراچی میں ہی رہیں گے۔ سندھ دھرتی پر ان کے مساوی حقوق پر کسی کو رتی برابر شک نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ کراچی کے باسیوں کو بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا تعلق جس صوبے سے ہے وہ پاکستان کا اس وقت سب سے زیادہ قدرتی وسائل فراہم کرنے والا صوبہ ہے۔ ر وشنیوں کا شہر کہے گئے کراچی کے برعکس اسی صوبے میں پاکستان کے پسماندہ ترین سمجھے جانے والے علاقے بھی موجود ہیں لیکن صوبے کا سب سے زیادہ ترقیاتی بجٹ کراچی پر خرچ ہوتا ہے۔ کراچی جیسا شہر جس میں اس کا اپنا میٹھا پانی برائے نام ہے ، اس کی اہمیت صرف اور صرف بندر گاہ کی وجہ سے ہے۔ اگر اس بندر گاہ پر اترنے والے مال کو حیدر آباد ، ہالہ ، شہداد پور، نواب شاہ ، بے نظیر آباد، خیر پور، روہڑی، سکھر ، جیکب آباد اور ڈہرکی جیسے علاقوں کی راہداری نہ ملے تو سوچا جاسکتا ہے کہ پھر یہ کس قدر غیر اہم ہو جائے گی؟ یہ بات کڑوی ہونے کے باوجود انتہائی اہم ہے کہ قدیم سندھی باشندوں کے پاس صرف کراچی ہی نہیں بلکہ ٹھٹھہ اور بدین جیسے دو ساحلی شہر بھی ہیں، جہاں وہ جب چاہیں ذوالفقار آباد کے نام سے نئی بندر گاہ تعمیر کر سکتے ہیں مگر کراچی میں بسنے والے سندھ کے نئے باسیوں کی بندر گاہ کے لیے کسی متبادل راہداری کی دستیابی قطعاً ممکن نہیں ہے۔ یہ بات کوئی راز نہیں ہے کہ جب تجارتی مال کے لیے راہداریاں ختم ہو جائیں تو مصروف ترین بندر گاہیں کس طرح بے آباد ہو جاتی ہیں۔ اب کراچی کے شہریوں کو موقع پرست ثابت ہو چکے لوگوں کے ماضی کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان کا اصل ہمدرد کون ہے۔

جواب دیں

Back to top button