صنعتوں کیلئے بجلی سستی، بڑا اقدام

اداریہ۔۔۔۔
صنعتوں کیلئے بجلی سستی، بڑا اقدام
وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں صنعتوں اور برآمدکنندگان کے لیے کئی بڑے اقتصادی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جو ملک کی معیشت کے استحکام اور عالمی سطح پر پاکستان کی مضبوطی کے لیے اہم ثابت ہوں گے۔ ان اقدامات میں بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 4روپے 4پیسے کی کمی، برآمدکنندگان کے لیے ٹیکس میں کمی، ری فنانسنگ ریٹ کی کمی اور ویلنگ چارجز میں کمی شامل ہے۔ یہ اقدامات صرف کاروباری طبقے کے لیے سہولت فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ ملک کی معاشی ترقی اور روزگار کے فروغ کے لیے بھی اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ حکومت اور فوج کی پارٹنرشپ جاری رہی تو پاکستان دنیا کے نقشے پر مضبوط اور مستحکم ملک کے طور پر ابھرے گا۔ یہ بات نہ صرف سیاسی اتحاد کی علامت ہے بلکہ معاشی اور سیکیورٹی دونوں محاذوں پر پاکستان کی مضبوطی کی ضمانت بھی ہے۔ حکومت کی موجودہ اقتصادی حکمت عملی کا مقصد صرف معیشت کو بحال کرنا نہیں بلکہ ملک میں غربت، بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات کو کم کرنا بھی ہے، تاکہ ہر شہری ترقی کے ثمرات سے مستفید ہوسکے۔ وزیراعظم نے برآمدکنندگان کی غیرمتزلزل محنت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہی کی کوششوں سے ملک میں اربوں ڈالر آئے ہیں اور معیشت مستحکم ہو کر پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہوئی ہے۔ حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ایک بڑا چیلنج تھا، لیکن ان کی معاشی حکمت عملی اور محنت کے نتیجے میں پاکستان نے اپنے قدم جمائے رکھے۔ اس دوران، کچھ سازشی عناصر نے ملک کی اقتصادی ناکامی کی امیدیں باندھی تھیں، مگر حکومت کی مضبوط پالیسیوں نے ان کے منصوبے ناکام بنا دئیے۔ شہباز شریف نے ایک اہم اعلان یہ بھی کیا کہ ایکسپورٹ ری فنانسنگ کی شرح 7.5فیصد سے کم کرکے 4.5فیصد کردی گئی ہے۔ اس اقدام سے برآمدکنندگان کو مالی معاونت ملے گی اور چھوٹے و درمیانے درجے کی صنعتیں بھی قرضے حاصل کرسکیں گی۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ حکومت نے اس اسکیم کے لیے مجموعی طور پر 1052ارب روپے مختص کیے تھے جن میں سے 900ارب روپے پہلے ہی استعمال ہوچکے ہیں۔ اس ری فنانسنگ اور مالی آسانیوں کے اقدام سے نہ صرف صنعتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی بلکہ ملک کی برآمدات میں اضافہ بھی متوقع ہے۔ اسی طرح، برآمدکنندگان کے لیے ٹیکس کی شرح میں کمی اور ویلنگ چارجز میں کمی بھی اہم قدم ہے، جس سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کی راہ ہموار ہوگی۔ وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ایڈوانس ٹیکس آئی ایم ایف کی مجبوری کے تحت لگایا گیا تھا، لیکن اب اس معاملے پر بھی حکومت کارروائی کرے گی، تاکہ برآمدکنندگان کی سہولت میں اضافہ ہو۔ وزیراعظم نے چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر سمیت دیگر دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے مشکل اقتصادی حالات میں پاکستان کی مدد کی۔ ان ممالک سے حاصل ہونے والے قرضے اور امداد نے ملکی معیشت کے لیے اہم کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں فارن ایکسچینج ریزروز ڈبل ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستانی پاسپورٹ کی عزت بڑھ گئی ہے اور دنیا بھر کے ممالک میں پاکستان کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، جس کا اثر براہِ راست سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات پر پڑ رہا ہے۔ وزیراعظم نے معاشی ترقی کے ساتھ سماجی و انسانی مسائل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف معیشت کو مستحکم کرنا کافی نہیں بلکہ غربت، بے روزگاری اور عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانا لازمی ہے۔ حکومت نے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے مستحقین کو رمضان پیکیج کے تحت 16ارب روپے دئیے اور رواں سال یہ رقم 40ارب روپے تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ اقدامات معاشرتی انصاف اور اقتصادی ترقی کو یکجا کرنے کی واضح مثال ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری شفاف انداز میں کی گئی ہے اور اس عمل سے قومی اداروں کی کارکردگی بہتر ہوگی۔ حکومت نے اخراجات کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے، جن میں پی ڈبلیو ڈی اور یوٹیلیٹی اسٹورز کی بندش اور ناقص کارکردگی والے اداروں میں اصلاحات شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت معاشی نظم و ضبط اور شفافیت کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ ملکی ترقی و خوش حالی کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت کا تعاون لازم ہے۔ پاکستان کی معاشی اور سیاسی ترقی کے لیے حکومتی اور فوجی قیادت کے درمیان شراکت داری کو انتہائی اہم قرار دیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی معاونت کے بغیر کئی مسائل حل نہیں ہوسکتے تھے اور یہ تعاون ملک کی مضبوطی اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کے لیے ضروری ہے۔ وزیراعظم نے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخ میں کمی، ٹیکس میں کمی اور ری فنانسنگ میں آسانیاں فراہم کیں، جس سے برآمدات کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں بھی عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں گی۔ وزیراعظم نے برآمدکنندگان کے لیے ایڈوانس ٹیکس اور ری فنانسنگ ریٹ میں کمی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا اور ملک کی اقتصادی ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔ حکومت کے یہ اقدامات پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیے سنگ میل ثابت ہوسکتے ہیں۔ بجلی کے نرخ میں کمی، برآمدکنندگان کے لیے ری فنانسنگ، ٹیکس میں کمی اور ویلنگ چارجز میں کمی جیسی پالیسیاں نہ صرف کاروباری طبقے کے لیے آسانیاں پیدا کریں گی بلکہ ملک کی عالمی سطح پر ساکھ اور سرمایہ کاری کے مواقع بھی بڑھائیں گی۔ علاوہ ازیں، حکومت اور فوج کی شراکت داری، عالمی امداد، مالی اصلاحات اور سماجی منصوبے پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ وزیراعظم کے مطابق، اگر یہ حکمت عملی جاری رہی تو پاکستان معاشی استحکام، سماجی خوشحالی اور عالمی ساکھ کے نئے معیار قائم کرے گا۔ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک جامع حکمت عملی ہے جو ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح کو مدنظر رکھتی ہے۔ حکومت کی موجودہ پالیسیز، برآمدات کی حوصلہ افزائی لائق تحسین ہے۔ وہ بین الاقوامی تعلقات اور معاشرتی اصلاحات کو یکجا کرکے پاکستان کو ایک مضبوط، خوش حال اور مستحکم ملک بنانے کی راہ پر گامزن ہے۔
شذرہ۔۔۔۔
پاکستان کے موقف کی جیت
عالمی ثالثی عدالت کا حالیہ حکم پاکستان کے مقف کی بڑی اخلاقی، قانونی اور سفارتی فتح ہے۔ عدالت کی جانب سے بھارت کو بگلیہار اور کشن گنگا پن بجلی منصوبوں کے آپریشنل لاگ بکس پیش کرنے کا حکم اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت برسوں سے سندھ طاس معاہدے کی روح اور شقوں کی خلاف ورزی کرتا چلا آ رہا ہے۔ اگر بھارت کے منصوبے شفاف اور معاہدے کے مطابق ہوتے تو ریکارڈ پیش کرنے سے گریز کی کوئی وجہ نہ تھی۔ سندھ طاس معاہدہ محض دو ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاہدہ نہیں بلکہ خطے میں امن، اعتماد اور بقا کی ضمانت ہے۔ بھارت نے بدقسمتی سے اس تاریخی معاہدے کو بھی سیاسی ہتھیار بنانے کی کوشش کی اور پن بجلی منصوبوں کے نام پر پاکستانی دریاں پر غیر قانونی کنٹرول حاصل کرنے کی راہ اپنائی۔ بگلیہار اور کشن گنگا منصوبے اسی بدنیتی کی واضح مثال ہیں، جہاں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور آپریشنل طریقہ کار معاہدے سے متصادم نظر آتا ہے۔ عالمی ثالثی عدالت کا یہ کہنا کہ عبوری ریلیف دینے کا اختیار صرف عدالت کے پاس ہے اور نیوٹرل ایکسپرٹ اس کا مجاز نہیں، یہ بھارتی مقف کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ بھارت مسلسل کوشش کرتا رہا ہے کہ معاملے کو تکنیکی بنیادوں پر الجھا کر ذمے داری سے بچ نکلے، مگر اب عالمی فورم پر اسے جواب دہ ہونا پڑے گا۔ لاگ بکس کی فراہمی کا حکم اس امر کی علامت ہے کہ عدالت کو بھی بھارتی نیت پر شک ہے۔ پاکستان کا موقف بالکل واضح اور اصولی ہے۔ پونڈیج لاگ بکس اس بات کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں کہ آیا بھارت معاہدے کے تحت اجازت یافتہ حد سے زیادہ پانی ذخیرہ کر رہا ہے یا نہیں۔ اگر بھارت واقعی معاہدے کا احترام کرتا ہے تو اسے شفافیت سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی صورت میں وجہ بتانے کی شرط خود اس بات کی غماز ہے کہ عالمی ادارے اب بھارتی ہٹ دھرمی کو نظرانداز کرنے کے موڈ میں نہیں۔ اٹارنی جنرل کی قیادت میں اعلیٰ سطح پاکستانی وفد کی دی ہیگ روانگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اس معاملے کو سنجیدگی، تیاری اور قانونی مہارت کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کا تحفظ پاکستان کے لیے محض سفارتی معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی، زراعت اور کروڑوں عوام کی بقا کا سوال ہے۔ عالمی ثالثی عدالت کا یہ حکم ایک واضح پیغام ہے کہ طاقت، دبا اور چالاکی کے ذریعے بین الاقوامی معاہدوں کو پامال نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کو اب یہ سمجھنا ہوگا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی نہ صرف ناکام ہورہی بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ پاکستان کا کیس مضبوط ہے، حقائق اس کے ساتھ ہیں اور اب عالمی قانون بھی اس کی تائید کرتا دکھائی دے رہا ہے۔







