Column

سوشل میڈیا پر کینیڈین ویزوں کی لُوٹ سیل 

سوشل میڈیا پر کینیڈین ویزوں کی لُوٹ سیل

تحریر: رفیع صحرائی

آج کل فیس بک، انسٹا گرام اور ٹک ٹاک پر کینیڈین ویزوں کی ایسی لُوٹ سیل لگی ہوئی ہے کہ ہر دوسرا اشتہار، ویڈیو یا پوسٹ نوجوانوں کو کینیڈا پہنچانے کی ضمانت دیتی نظر آتی ہے۔ کہیں کوئی سردار صاحب اپنی کمپنی کے لیے تین ہزار ورکرز مانگ رہے ہیں اور تین ہزار کینیڈین ڈالر ( قریباً چھ لاکھ پاکستانی روپے) ماہانہ تنخواہ کی پیشکش کر رہے ہیں، کہیں معروف برانڈ کے ٹِن پیکس کے پہاڑ دکھا کر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فیکٹری کو فوری طور پر ہزاروں مزدور درکار ہیں اور کہیں ایئر پورٹ پر کسی ان پڑھ اور بے ہنر نوجوان کا پرتپاک استقبال دکھا کر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ کینیڈین امیگریشن اب بچوں کا کھیل بن چکی ہے۔

ان ویڈیوز کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اتنے بھونڈے انداز میں اے آئی کی مدد سے تیار کی جاتی ہیں کہ جعل سازی صاف نظر آتی ہے مگر پھر بھی لوگ انہیں مسیحا سمجھ کر دھڑا دھڑ ان کے جال میں پھنس رہے ہیں۔ ہر ویڈیو کے آخر میں ایک واٹس ایپ نمبر یا لنک دیا جاتا ہے، جہاں رابطہ کرنے پر ویزا، ٹکٹ، رہائش اور نوکری سب کچھ کمپنی کے ذمے ہونے کی نوید سنائی جاتی ہے۔ بظاہر یہ ایک خوابناک پیکج ہے مگر حقیقت میں یہ فراڈ اور لوٹ مار کا ایک نیا، منظم اور نہایت خطرناک طریقہ واردات ہے۔

آج کل سوشل میڈیا کا دور ہے۔ کوئی بھی فراڈ کا طریقہ زیادہ عرصے تک چھپا نہیں رہ سکتا۔ فراڈیوں کا شکار ہونے والے اپنے لٹنے کے تجربات شیئر کر کے دوسروں کو آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ ایسے میں فراڈیئے بھی اپنے واردات کے طریقوں میں جدت لاتے رہتے ہیں یعنی مچھلیوں کو پھانسنے کے لیے شکاری جال بدلتے رہتے ہیں۔ موجودہ فراڈ کا طریقہ واردات یہ ہے کہ یہ گروہ پہلے سوشل میڈیا پر دلکش اور امید افزا ویڈیوز اپ لوڈ کرتے ہیں۔ جعلی کینیڈین دفاتر، گوری چمڑے والے کردار، بھاری تنخواہوں کے وعدے، اور فوری ویزے کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ یہ سب نفسیاتی حربے ہیں جن کے ذریعے متاثرہ شخص کے دل میں لالچ اور جلد بازی پیدا کی جاتی ہے۔ جب کوئی شخص واٹس ایپ پر رابطہ کرتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ’’ صرف فائل چارجز‘‘ ، ’’ ڈاکیومنٹ ویری فکیشن فیس‘‘ یا’’ ایمبیسی پراسیسنگ فیس‘‘ کے نام پر ایک مخصوص رقم جمع کرا دی جائے، جو عام طور پر 50ہزار سے لے کر پانچ لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔ پانچ لاکھ روپے یقیناً ایک بڑی رقم ہے مگر جب اسے یہ خواب دکھایا جاتا ہے کہ یہ رقم تو ایک مہینے کی مجوزہ تنخواہ سے بھی کم ہے تو سادہ لوح پرندہ ان کے ہم رنگِ زمین بچھائے ہوئے جال میں پھنسنے کے لیے بہتر مستقبل کی امید کا دانہ چُگنے کو آسانی سے تیار ہو جاتا ہے۔

جونہی رقم انہیں ٹرانسفر کر دی جاتی ہے تو پھر کبھی میڈیکل کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، کبھی جعلی آفر لیٹر بھیج دیا جاتا ہے اور کبھی ایمبیسی انٹرویو کا جھوٹا شیڈول دے دیا جاتا ہے۔ چند دن بعد واٹس ایپ نمبر بند، فیس بک پیج غائب اور متاثرہ شخص ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے۔ بعض کیسز میں یہ گروہ ایک دو افراد کو واقعی بیرون ملک بھیج کر اپنی ساکھ قائم کرتے ہیں تاکہ باقی سینکڑوں افراد اعتماد کر کے اپنی جمع پونجی ان کے حوالے کر دیں۔ یوں ایک منظم نیٹ ورک پورے ملک میں جال پھیلا کر عوام کو لوٹ رہا ہے۔

اس دھوکے کا سب سے بڑا شکار ہمارے وہ نوجوان بن رہے ہیں جو بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی دبا سے تنگ آ کر بیرون ملک جانے کو ہی نجات کا واحد راستہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ دیہی علاقوں کے سادہ لوح افراد، متوسط طبقے کے تعلیم یافتہ مگر بے روزگار نوجوان، اور وہ خاندان جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، یہ سب آسانی سے اس جال میں پھنس جاتے ہیں۔ کئی لوگ تو اپنی زمین بیچ دیتے ہیں، زیور گروی رکھ دیتے ہیں یا قرض اٹھا کر یہ رقم جمع کرواتے ہیں اور جب حقیقت سامنے آتی ہے تو ان کے لیے سنبھلنا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔سوال یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ واردات دھڑلے سے جاری ہے مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں سو رہے ہیں؟ کیا ادارے اس وقت جاگیں گے جب ہزاروں لوگ اپنی جمع پونجی سے محروم ہو چکے ہوں گے؟ ایف آئی اے، سائبر کرائم وِنگ، پی ٹی اے اور دیگر متعلقہ ادارے اگر چاہیں تو ان فراڈیوں کے نیٹ ورک کو چند دن میں بے نقاب کر کے ان وارداتیوں کو قانون کی گرفت میں لاسکتے ہیں مگر بدقسمتی سے یہاں کارروائی ہمیشہ حادثے کے بعد ہوتی ہے، ہمارے یہاں احتیاط اور پیش بندی کا تصور ہی ناپید ہے۔ یہ بھی افسوسناک امر ہے کہ اب تک کسی موثر سرکاری مہم کے ذریعے عوام کو خبردار نہیں کیا گیا۔ نہ کوئی باقاعدہ انتباہی پیغام، نہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر آگاہی مہم اور نہ ہی ایسے پیجز اور اکائونٹس کو فوری بند کرنے کا منظم نظام بنایا گیا ہے۔ نتیجتاً عوام بے یار و مددگار لٹیروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ فیس بک، ٹک ٹاک اور انسٹا گرام جیسے پلیٹ فارمز بھی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ یہ کمپنیاں اربوں ڈالر کماتی ہیں مگر صارفین کے تحفظ کے لیے ان کے اقدامات نہایت کمزور ہیں۔ جعلی اشتہارات، فراڈی ویڈیوز اور سکیمیں دنوں تک چلتی رہتی ہیں جبکہ رپورٹ کرنے کے باوجود فوری کارروائی نہیں ہوتی۔ اگر یہ پلیٹ فارمز سخت پالیسی اپنائیں تو اس مسئلے پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

لوگوں کو امیگریشن کے نام پر ان جعل سازوں کے ہاتھوں لٹنے سے بچانے کے لیے حکومت کو فوری طور پر ایک جامع آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے جس میں واضح کیا جائے کہ بیرون ملک ملازمت کے لیے کوئی بھی معتبر کمپنی سوشل میڈیا پر اس انداز سے آفر نہیں دیتی۔ ایف آئی اے کو چاہیے کہ ایسے فراڈی نیٹ ورکس کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائے۔ فوری گرفتاریوں اور سزاں کو یقینی بنائے تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔ میڈیا کو بھی محض خبر دینے پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ اسے بھی مسلسل آگاہی پروگرام چلانے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی شعور حاصل کرنا ہوگا۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ’’ بہت اچھا لگنے والا ہر وعدہ سچ نہیں ہوتا‘‘۔ کینیڈا ہو یا کوئی اور ملک، قانونی اور محفوظ راستہ صرف مستند اور رجسٹرڈ اداروں کے ذریعے ہی ممکن ہے جس میں وقت، محنت اور مکمل دستاویزی تقاضے پورے کرنا پڑتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کینیڈین ویزوں کی یہ لُوٹ سیل دراصل ہماری اجتماعی غفلت، ادارہ جاتی کمزوری اور معاشی بے بسی کا شاخسانہ ہے۔ اگر آج بھی ہم نے آنکھیں نہ کھولیں تو کل یہی فراڈ ہماری اجتماعی بدنامی اور ہزاروں گھروں کی بربادی کا سبب بنے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ ریاست، ادارے اور عوام تینوں مل کر جعل سازوں کے خلاف کھڑے ہوں ورنہ یہ زخم دن بدن ناسور بنتا چلا جائے گا۔

جواب دیں

Back to top button