Columnمحمد مبشر انوار

مجرمانہ عمل 

مجرمانہ عمل

محمد مبشر انوار

زندگی میں مشکل وقت کب آ جائے، اس کا کسی کو کوئی علم نہیں ہوتا اور اسی طرح کب اللہ رب العزت عزت سے نواز دے، یہ بھی انسان کو علم نہیں ہوتا تاہم اگر انسان اصولوں پر کھڑا ہو، کسی نظریہ پر کھڑا ہو، جس کا مقصد فلاح ہو، تو دنیاوی مشکلات یا پراپیگنڈا یا گوئبلز فیکٹریاں بھی، انسان کے مرتبے کو کم نہیں کر سکتی۔ اس کی مثالیں حالیہ دور میں نیلسن منڈیلا کی صورت نظر آتی ہیں تو پاکستان میں اس وقت عمران خان کی صورت ہمارے سامنے ہے کہ انتقامی طور پر، سیاسی مقدموں کی بھرمار ہے لیکن اس کے باوجود عوام میں اس کی مقبولیت کا طوطی بولتا ہے، عالمی سطح پر اس کے خلاف کارروائیوں پر آواز اٹھائی جاتی ہے اور حکمرانوں پر تنقید ہوتی ہے کہ بیرون ملک یا عالمی سطح پر صحافیوں کی زباں بندی کا رواج نہیں۔ صحافیوں کے لئے ضابطہ اخلاق تو موجود ہے لیکن پیکا طرز کا کوئی قانون موجود نہیں کہ ہر مخالف زبان یا عمران خان کے حق میں اٹھنے والی آواز کو، غدار قرار دے کر، پابند سلاسل کر دیا جائے جبکہ حکومتی اراکین، اس قانون کی بے شک دھجیاں اڑاتے رہیں، انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ لاہور میں ماں بیٹی کے نالے میں گر جانے کے باعث، جان سے گزر گئی جبکہ پولیس متوفیہ کے شوہر کو ہی مجرم بنا کر تھانے لے گئی، اس پر بغیر ثبوت تشدد کیا گیا، اسے ہی قاتل ثابت کرنے کی کوشش کی جبکہ حکومتی وزراء اس سانحے سے ہی انکار کرتے رہے تاآنکہ ماں بیٹی کی لاشیں نہ مل گئیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب، لاشیں ملنے پر، آن لائن میٹنگ کال کر کے، متعلقہ پولیس افسروں سے باز پرس کرنے کے نام پر، ان کی تذلیل کرتی رہی، انہیں معطل کیا لیکن کیا اس سے دو جانیں واپس آ سکتی ہیں؟ کیا کسی بھی وزیر اعلیٰ کا یہ طرز عمل بیوروکریسی کے اعتماد میں اضافہ کرے گی یا انہیں کا مورال مزید ڈائون ہوگا؟ تسلیم کہ پولیس کا رویہ کسی بھی صورت قابل ستائش نہیں اور نہ ہی کسی بھی سرکاری ملازم کا ایسا رویہ ہونا چاہئے کہ سرکاری ملازمین، عوامی ٹیکس سے تنخواہیں وصول کرتے ہیں اور ان کی وفاداری ریاست کے ساتھ ہے نہ کہ کسی سیاسی خانوادے کے ذاتی غلاموں کی، لیکن افسوس بیوروکریسی پر شاہی خاندانوں کا اس قدر دبائو ہے کہ وہ آزادانہ کام کرنے کی جرات بھی نہیں کرتے۔ اس پس منظر میں، شاہی خاندانوں کا یہ رویہ، افسر شاہی کو ایک طرف مزید بددل کرتا ہے تو دوسری طرف عوام میں ان کی رہی سہی ساکھ بھی برباد ہو جاتی ہے، جس کا خمیازہ بھی بہرطور عوام ہی کو بھگتنا پڑتا ہے۔ عمران خان نے جس طرح ایام اسیری گزارے ہیں، اس نے عمران خان کے مخالفین کو بھی ان کا گرویدہ کر دیا ہے جبکہ وہ ارباب اختیار، جن کی خواہش تھی کہ وہ عمران خان کا جھکا ہوا سر دیکھیں یا اسے سمجھوتہ کے لئے توڑ سکیں، ان کی حالت دیدنی ہے اور وہ اس صورتحال سے زچ دکھائی دیتے ہیں۔ ہر طرح کی اذیت عمران خان کو دی جا چکی ہے، لیکن وہ نجانے کس مٹی سے بنا ہے کہ حرف شکایت اس کی زبان پر آتا ہی نہیں، حد تو یہ ہے کہ اس کے انسانی بنیادی حقوق، جو دنیا بھر میں مسلمہ ہیں، وہ بھی اسے فراہم نہیں کئے جارہے لیکن وہ ’’ سمجھوتہ یا ڈیل‘‘ کرنے کے لئے تیار دکھائی نہیں دیتا۔ اسے صحت کے مسائل درپیش ہیں لیکن وہ طبی بنیادوں پر بھی کسی قسم کی سہولت یا ہسپتال منتقلی کا خواہشمند نہیں تاہم جو حقوق اس کے بطور قیدی ہیں، اسے وہ بھی نہیں دئیے جارہے۔

عام قیدی کی تو خیر بندہ کیا بات کری، کہ پاکستان جیسے ملک میں وثوق سے یہ کہنا ممکن نہیں کہ جیلوں کے حالات ٹھیک ہیں لیکن ایسے قیدی جو ہائی پروفائل اور سیاسی انتقامی جذبے سے جیل میں رکھے جاتے ہیں، ان کے حوالے عوامی جذبات بھی اتنے ہی شدید ہوتے ہیں، ان کو کسی قسم کا نقصان، معاشرے میں شدید اتھل پتھل پیدا کر سکتا ہے لیکن لگتا ہے کہ حکمرانوں کو اس کا بالکل احساس نہیں یا ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی ک شکار ہیں۔ اولا تو عمران خان کو ملاقاتوں سے محروم کرکے، قید تنہائی میں ڈال کر، حتی کہ جیل کے عملے تک کو بات نہ کرنے کے احکامات جاری کر کے، عمران خان ذہنی طور پر توڑنے کی کوشش کی جار ہی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ اسے سخت اذیت دی جارہی ہے، تقریبا دو ماہ سے عمران خان کی کسی سے کوئی ملاقات نہیں کرائی گئی اور حکومتی وزراء کی جانب سے یہ دعوی کیا گیا ہے کہ آٹھ فروری تک عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوگی بشرطیکہ آٹھ فروری کا احتجاج ختم کیا جائے۔ دوسری طرف آٹھ فروری کے حوالے سے پی ٹی آئی کی کیا حکمت عملی ہے، وہ ہم سب کے سامنے ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی، اس سلسلے میں خاصے متحرک ہیں لیکن آٹھ فروری کا لائحہ عمل کیا ہوگا، ہر چوک ڈی چوک کیسے بنے گا اور کون سے کارکن اس کے ذمہ دار ہوں گے، تاحال جماعت اس کے متعلق کوئی ٹھوس، مضبوط و مربوط لائحہ عمل پیش نہیں کر سکی، اس صورتحال میں یہ احتجاج کیسے اور کس طرح کامیاب ہوگا، اس پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

عمران خان عمر کے جس حصے میں ہیں، اس میں ان کی صحت ماشاء اللہ قابل رشک ہے اور وہ جوانوں کو مات دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود چھوٹی موٹی بیماریاں ہوں یا سنگین نوعیت کی، انسان کو لاحق ہو ہی جاتی ہیں اور اسے طبی مشوروں کی، طبی معائنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جیل میں مقید قیدیوں کے صحت سے متعلق امور پر بھی، جیل میں طبی سہولتیں موجود ہوتی ہیں تاہم کسی سنگین نوعیت کی بیماری کی صورت، جیل کے ضابطہ کار کے مطابق، قیدیوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جاتی ہے اور انہیں جیل سے باہر علاج کے لئے بھیجنا ایک معمول کی کارروائی ہوتی ہے۔ اس معمول کی کارروائی میں البتہ قیدی کے خاندان کو مطلع کرنا ضروری ہوتا ہے اور ان کی اجازت اور موجودگی بھی ضابطہ کار کے مطابق ہوتی ہے ، ماضی کے حکمرانوں کو جیل میں یہ سہولت بہم ملتی رہی ہے جبکہ نواز شریف کے حوالے سے خصوصی طور پر ان کے معالج کا رابطہ ہمہ وقت نواز شریف سے رہتا تھا ۔ دوسری طرف سندھ کے حکمرانوں کی جانب دیکھیں تو ہمیں بالعموم دیکھنے کو ملا کہ جیسے ہی کوئی سیاسی کارکن، انتقامی جذبے کے تحت پابند سلاسل ہوا، بمشکل چند دن جیل میں گزارے، وہ چند دن بھی ایسے کہ جیسے کوئی بہترین ہوٹل میں رہائش پذیر ہو، اور ان چند دنوں کے بعد، خرابی صحت کی بنا پر عدالتوں نے ان اسیران کو علاج معالجے کی غرض سے ہسپتالوں میں منتقل کر دیا، جہاں وہ عیش و عشرت کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے اور کھلے بندوں بغیر کسی رکاوٹ کے ملاقاتوں میں مشغول رہے۔ اس انتظام میں بہرطور درپردہ، ان کے سمجھوتے ہی کارفرما رہے اور اس میں سہولت میں موجودہ صدر و وزیراعظم بھی فہرست میں موجود ہے کہ وزیراعظم کو اسیری اس قدر ناپسند ہے کہ جیل کا نام سنتے ہی ان کی کمر کا درد عود آتا ہے اور وہ علاج کی غرض سے ہسپتال منتقل ہوجاتے ہیں یا انہیں اسیری سے مستثنیٰ قرار دے دیا جاتا ہے۔ البتہ اقتدار میں آتے ہی، ان کا کمر درد نہ صرف ٹھیک ہو جاتا ہے بلکہ انہیں عوامی خدمت کے جذبے کے تحت، بیڈ منٹن کورٹ میں، زبردست شاٹس لگاتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے تو کسی جلسے یا جلوس میں اپنے کسی کارکن کے ساتھ دنگل کا انداز اپناتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ایسی ہی صورتحال موجودہ صدر کے حوالے سے دیکھی جا سکتی ہے کہ جب عدالتوں میں پیشی کا وقت ہوتا ہے تو ان کے ہاتھ میں چلنے کے لئے چھڑی نظر آتی ہے، کمر جھکی ہوئی خمیدہ لیکن ایوان صدارت یا قومی اسمبلی پہنچتے ہی، چھڑی کہیں دور دور نظر نہیں آتی اور خمیدہ کمر کسی جوان کی مانند بالکل سیدھی دکھائی دیتی ہے۔ کیا کمال کے فنکار لوگ ہیںکہ قانون کو بآسانی دھوکہ دے دیتے ہیں، عمران خان ان میں الگ ہی نظر آ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ عوام کے دلوں میں سرایت کر گیا ہے، ممکنہ طور پر عمران خان کے مخالفین اسے عمران خان کا قصیدہ کہیں گے لیکن آج کی حقیقت یہی ہے، لیکن جو سمجھنے کے لئے تیار نہیں، شخصیت پرستی کے سحر میں جکڑے ہیں، ان کے اعتراضات کا جواب کیا دیا جائے؟ عمران خان کو 900دنوں کے بعد جیل سے انتہائی خاموشی و راز داری کے ساتھ ان کی آنکھ کے علاج کے لئے، باہر نکالا گیا لیکن جیل ضوابط کو نظر انداز بلکہ ان کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، ان کے خاندان یا سیاسی کارکنان کو مطلع کئے بغیر، رات کے اندھیرے میں عجلت میں ان کا علاج کروا کر انہیں واپس جیل میں قید کر دیا گیا۔ عمران خان کی بہنیں، ان کے سیاسی کارکن، اس پر شدید برہم ، غصے اور تشویش میں مبتلا ہیں اور عمران خان کی طبیعت سے متعلق جاننا چاہتے ہیں لیکن حکومت، عدالتی احکامات کے باوجود، عمران خان سے نہ تو خاندان اور نہ ہی سیاسی رفقاء کی ملاقات کے لئے آمادہ دکھائی دیتی ہے حتی کہ عمران خان کے ذاتی معالجین تک کو رسائی دینے کے لئے تیار نہیں۔ پی ٹی آئی اس پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے، کس قدر احتجاج کرتی ہے اور کتنی تعداد میں کارکنان کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہوتی ہے، کہ سہیل آفریدی کے اراکین پارلیمنٹ کو طلب کرنے کے باوجود 30%سے کم اراکین سپریم کورٹ کے باہر پہنچے، کارکنوں کو تو اس جگہ پہنچنے کی اجازت ہی نہیں ملی ہو گی، ایسے کمزور احتجاج سے پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی تو دور کی بات، اس سے ملاقات کا اجازت نامہ بھی حاصل نہیں کر سکتی، خواہ حکومت و جیل حکام پر جیل ضوابط کی خلاف ورزی کا مجرمانہ عمل کا الزام دھرتی رہے، سب بے سود کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی دوسری وکٹ پر کھیلتے ہوئے مستقبل میں فارم 47پر منتخب ہونے کو ترجیح دئیے بیٹھے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button