
جگائے گا کون؟
بخدمت جناب، ہماری درخواست ہی خراب
تحریر سی ایم رضوان
سپریم کورٹ آف پاکستان نے پورے ملک کے تھانوں کے ایس ایچ اوز کو دی جانے والی درخواستوں میں بخدمت جناب کا خطاب نوآبادیاتی سوچ کا عکاس قرار دیتے ہوئے پولیس کو درخواستوں میں ’’ بخدمت جناب ایس ایچ او‘‘ لکھنے پر پابندی عائد کرتے ہوئے نو آبادیاتی سوچ والی پاکستان کی ازلی محکمانہ روایت مسترد کر دی ہے۔ فیصلے کے مطابق ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، عوام اس کے نوکر نہیں، اب ایس ایچ او کو صرف ’’ جناب ایس ایچ او‘‘ لکھا جائے گا، آج سے پرانی غلامانہ زبان ختم کی جاتی ہے۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ ایف آئی آر درج کروانے والا شہری ’’ اطلاع دہندہ‘‘ ہو گا، شکایت کنندہ نہیں ’’ کمپلیننٹ‘‘ کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایت تک محدود ہو گی، اسی طرح پولیس کارروائی میں’’ فریادی‘‘ کا لفظ بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے کیونکہ لفظ’’ فریادی‘‘ رحم مانگنے کا تاثر دیتا ہے، حق مانگنے کا نہیں، اسی حکم میں ایف آئی آر اندراج میں تاخیر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے، پولیس افسران کو سخت وارننگ جاری کی گئی کہ ایسی تاخیر پر پی پی سی 201کے تحت مقدمہ بن سکتا ہے، یہ تاریخی فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا، جوڈیشل لا کلرک محمد سبحان ملک کے نکتے پر عدالت نے واضح ہدایات کے ساتھ کہا گیا کہ پولیس اور شہری کے تعلق کی یہ نئی تشریح، ریاستی رویے میں ضروری بڑی تبدیلی کا باعث ہو گی، یہ فیصلہ 30جنوری 2026کو سنایا گیا۔
چاہئے تو یہ تھا کہ اس نوعیت کے فیصلے قیام پاکستان کے فوری بعد ہی جاری کئے جاتے۔ خیر پون صدی کی تاخیر کے بعد آنے والے اس فیصلے کا بھی خیر مقدم کرتے ہوئے گزشتہ دنوں تھانہ بھاٹی لاہور کے ایس ایچ او کے ایک ننھے منے ظلم کی کہانی بھی تازہ کر لیتے ہیں جو کہ مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق ہے۔ ہوا یہ کہ ایک 35سالہ شخص غلام مرتضیٰ جو داتا دربار لاہور کے قریب بھاٹی کے علاقے میں ایک زیر تعمیر کھلے گٹر میں اپنی بیوی اور کمسن بیٹی کو گنوا بیٹھا تھا وہ ایس ایچ او تھانہ بھاٹی لاہور زین عباس کے ہتھے چڑھ گیا اور پانچ گھنٹے کی تفتیش سہنے کے بعد خوش قسمتی سے نہ صرف ہو بلکہ گزشتہ روز اس کی جزوی شنوائی بھی یوں ہوئی ہے کہ اس کی بیوی اور بیٹی کے نالے میں گر کر جاں بحق ہونے کے مقدمے میں نامزد ملزمان کو مجسٹریٹ لاہور کی عدالت پیش کر دیا گیا، سینئر جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس مگھیانہ نے کیس کی سماعت کی۔ ملزمان پروجیکٹ منیجر اصغر علی، سیفٹی انچارج محمد ہنزلہ، سائٹ انچارج احمد نواز، ڈائریکٹر کمپنی سلمان یاسین اور عثمان یاسین کو ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا گیا۔ جن کی غفلت کی بناء پر اس کی بیوی اور بیٹی کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہو گئی تھی۔ تاہم دورانِ سماعت ملزمان کے وکیل نے بتایا کہ ایک کروڑ روپے متاثرہ فیملی کو دے دیئے گئے ہیں، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر چیک دیا ہے، بارہ کروڑ روپے اکائونٹ میں موجود ہیں، قانون یہ کہتا ہے کہ مقدمہ کی دفعہ 322کے مطابق صرف دیت ہے، اس پر سینئر جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ مقدمہ میں دفعہ 316بھی آزاد کر دی گئی ہے۔ ملزمان کے وکیل نے مزید کہا کہ ہم متاثرہ فیملی اور عدالت کی ہر مدد کو تیار ہیں۔ تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ موصوف نے ملزمان کو چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔ یاد رہے کہ ملزمان کے خلاف تھانہ بھاٹی گیٹ میں مقدمہ درج ہے۔ دوسری جانب اسی سانحہ پر آئی جی پنجاب کی جانب سے بنائی گئی ہائی پاور کمیٹی نے بھی انکوائری رپورٹ مکمل کر لی ہے۔ آئی جی پنجاب نے خاتون اور بچی کے مین ہول میں گرنے کے بعد اس کے شوہر کو حراست میں لے کر تشدد کرنے کے حوالے سے پولیس کے کردار اور غفلت کا تعین کرنے کے لئے ایڈیشنل آئی جی آئی اے بی عمران محمود کی سربراہی میں یہ 3 رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ ڈی آئی جی احمد ناصر، عزیز ورک اور ڈی آئی جی عمران کشور کمیٹی کا حصہ ہیں، تینوں اعلیٰ افسران نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور تمام شواہد اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کئے۔ متوفی سعدیہ اور بیٹی ردا کے اہل خانہ کے بیانات بھی قلمبند کئے، ایس پی سٹی، ایس ڈی پی او اور ایس ایچ او کی غفلت پائی گئی، ایس پی کی موجودگی میں متوفی خاتون کے شوہر پر ایس ایچ او کے ریٹائرنگ روم میں تشدد کیا گیا۔ کمیٹی نے تینوں افسران کو غفلت کا مرتکب قرار دے کر آئی جی پنجاب کو سفارشات بھجوا دیں، افسران کے خلاف کارروائی کا حتمی فیصلہ آئی جی پنجاب کریں گے۔ واضح رہے کہ جاں بحق خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس افسران نے ان پر تشدد کیا اور بیوی کو قتل کرنے کا اعتراف کرنے کے لئے دبائو ڈالتے رہے۔ غلام مرتضی نے بتایا کہ جب میں بیوی اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاع دینے کے لئے پولیس اسٹیشن گیا تو پولیس نے مجھے ہی حراست میں لے لیا، ایس پی بلال اور ایس ایچ او زین نے مجھ پر تشدد کیا، انکوائری رپورٹ میں یہ سچ ثابت ہونے پر ڈی آئی جی آپریشنز نے ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل اور متعلقہ ڈی ایس پی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا جبکہ ایس پی سٹی کی جانب سے واقعے پر پولیس کے مجموعی رسپانس کا تعین کرنے کے لئے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کی جائے گی۔ اس حوالے سے ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے انٹرنل افیئرز برانچ کو آزادانہ انکوائری کے لئے باضابطہ خط بھی لکھ دیا ہے۔
یہ تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ اس ساری کارروائی کے پیچھے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا وہ مثبت رویہ ہے جو انہوں نے اس واقعے کے رونما ہونے پر فوری طور پر اپنایا اور غیر روایتی سختی اور انتظامی شفافیت و سرعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف ذمہ داروں کو موقع پر تادیبی کارروائی کے سپرد کر دیا بلکہ افسروں و اہلکاروں کی وہ تاریخی سرزنش کی جو عام طور پر ہمارے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نہیں کرتے ہیں۔ مریم نواز کے یہ الفاظ لائق تحسین ہیں کہ مجھے اس واقعے پر انتہائی ندامت محسوس ہو رہی ہے۔ اس حوالے سے وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ میرے پاس الفاظ نہیں کہ بتا سکوں کہ وزیرِ اعلیٰ مریم نواز اس واقعے پر کتنی غمزدہ تھیں۔ وہ واقعے کی ایک ایک لمحے کی رپورٹ لے رہی تھیں، دوسری طرف اگر اس واقعے کا کراچی کے گل پلازہ کے سانحہ سے تقابل کیا جائے تو یہ بھی ماننا ہی پڑے گا کہ کراچی کے سانحہ گل پلازہ میں بڑی تباہی کا سبب سندھ سرکار کی واقعہ کے روز بھی اور پچھلی دہائیوں کی بدانتظامی کا شاخسانہ تھا جبکہ لاہور کا یہ واقعہ اس بنا پر رونما ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس دور میں لاہور میں وسیع پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے اور ایک زیر تعمیر گٹر یا نالے پر سکیورٹی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے یہ دو ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے کھلے دل سے ندامت کا اظہار بھی کیا ہے۔ یاد رہے کہ اسی صوبہ پنجاب میں ایک دور وہ بھی تھا جب 19جنوری 2019ء کو سانحہ ساہیوال میں چار معصوم لوگوں کو سی ٹی ڈی اہلکاروں نے سامنے سے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا مگر ندامت تو کیا اس وقت کے وزیر اعظم کو غلطی کا اعتراف کرنے کی ہمت بھی نہ ہوئی تھی اور اس بڑے ریاستی جرم پر پردہ ڈال دیا گیا تھا۔ لیکن یہاں تو فوری طور پر ایک طرف پولیس نے خود انکوائری کر کے اپنے ہی اہلکاروں کا نہ صرف جرم تسلیم کر لیا ہے بلکہ سزا بھی دے دی ہے۔ دوسری طرف عدالت میں سرکاری اہلکاروں کو ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا پر مریم نواز پر تنقید جاری ہے۔
دوسری طرف عوامی مسائل سے یکسر انحراف کر کے اپنے مالی اور سیاسی فائدے حاصل کرنے میں سارا وقت ضائع کرنے والے ایک کردار کی سزا کا عمل اڈیالہ جیل میں جاری ہے اور آج کل اس سزا یافتہ مجرم کی آنکھ کو لے کر پورے ملک میں شور مچایا جا رہا ہے لیکن اس قیدی کے نامزد کردہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ بانی کی صحت اتنی بھی خراب نہیں جتنا کہ پروپیگنڈا ہے۔ محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ اصل میں ہمیں ہمارے مقصد سے ہٹایا جا رہا ہے اور شاید یہ بات وہ اس سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ کے پی کے کے بارے میں کہہ رہے ہیں جو چند لوگوں کے ساتھ گزشتہ پہلے تو اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ پھر رات ڈیڑھ بجے جبکہ سی سی پی او راولپنڈی خالد ہمایوں کسی اپنے کام سے اڈیالہ جیل آئے تو ان کے بعد پورے ڈویژن کے پولیس افسر اڈیالہ جیل پہنچے ان کی گاڑیاں دیکھ کر آفریدی ڈر گئے اور ساتھیوں کے ہمراہ پتلی گلی سے نکل لئے۔ صبح نجانے کیا خیال آیا کہ چند درجن رہنماں کو لے کر سپریم کورٹ آف پاکستان پہنچ گئے۔ یہاں چیف جسٹس آف سپریم کورٹ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کر دی۔ اس حسرت ناتمام کی ناکامی پر گھر واپس چلے گئے۔ گو کہ دھرنا سیاست کی ناکامی کے اس سارے شو میں سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کی بیماری اور علاج سے متعلق ان کی فیملی اور پارٹی قائدین کو اعتماد میں نہ لئے جانے پر جائز سوال اٹھا رہے تھے مگر افسوس کہ اس جائز سوال کو بھی نامعلوم وجوہات پر درمیان میں ہی چھوڑ کر رفو چکر ہو گئے۔ سنا ہے کہ انہیں کوئی پراسرار وٹس ایپ کال آئی تھی۔ بہرحال بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کے معائنے اور ٹیسٹ سے متعلق تصدیق ہو گئی ہے۔ پمز کے ڈاکٹر عمران سکندر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے کچھ روز قبل دائیں آنکھ کی بینائی میں کمی کی شکایت کی تھی جس پر سینئر ڈاکٹرز نی اڈیالہ جیل میں ان کا معائنہ کیا اور ایک انجکشن سے ان کا معالجاتی تقاضا پورا کر دیا۔ مزید علاج اور احتیاط جاری رہیں گے۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا ایک مبینہ آڈیو میسج سوشل میڈیا پر لیک ہو گیا ہے، جس میں آفریدی کے ناتمام دھرنی میں پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ کی کم شرکت کا ذمہ دار سہیل آفریدی کو ہی قرار دیا گیا ہے۔ شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے دھرنا دینا ہی تھا تو کم از کم اپنے صوبے کے 90ارکانِ صوبائی اسمبلی کو ساتھ لے کر جاتے، کیونکہ وہ جغرافیائی طور پر قریب تھے اور ان کی شرکت ممکن تھی، تاہم دھرنے میں کمی کی ذمہ داری عام ارکان پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آڈیو لیک کے بعد پارٹی کے اندرونی معاملات اور قیادت کے درمیان اختلافات مزید گہرے ہونے کا امکان ہے۔







