ColumnTajamul Hussain Hashmi

اداس کیتھرین کے چند طعنے

اداس کیتھرین کے چند طعنے
تحریر : تجمّل حسین ہاشمی
کتاب ’’ آخر کیوں ‘‘ سے لیا گیا اقتباس : جناب کلاسرا صاحب کی مہربانی کہ انہوں میرے جیسے کمزور طالب علم کیلئے علم کا خزانہ لکھا، میں ان تمام شخصیات کا تہ دل سے احترام کرتا ہوں جو اپنے ملک، معاشرہ کی بہتری اور اللّہ کے دین کی بلندی کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں۔
’’ یہ یورپ جہاں آج تمہارے نوجوان روزگار کی تلاش میں موت کے سوداگروں سے سودا کر رہے ہیں۔ یہ یورپ جنگ عظیم دوم میں بری طرح تباہ ہو گیا تھا۔ ان یورپی اقوام نے ایک دوسرے کے گلے کاٹے، ہماری نسلیں ماری گئیں، لیکن یہ یورپین کسی ایشیائی ملک میں پناہ لینے کے لیے نہیں دوڑے تھے۔ ہمارے لیڈروں نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنی قوموں کو دوبارہ تعمیر کریں گے، یورپ کی ٹھنڈی فضائوں میں ہر طرف خون کی بو بسی ہوئی تھی، لیکن ہم نے ہتھیار نہیں ڈالے، انہیں شاید علم ہو کہ یہ عالمی بینک یورپ کی بحالی کے لیے بنایا گیا تھا اور تمام قوموں نے اس سے پیسے لے کر اپنے آپ کو دوبارہ اپنے پائوں پر کھڑا کیا، مجھے بہت شدید صدمہ ہوا جب میں نے یہ پڑھا کہ پاکستان اب تک 50ارب ڈالر کا قرضہ لے چکا ہے اور تمہارے لوگ ابھی تک روزگار کی تلاش میں یورپ کے ساحلوں پر ہمارے گارڈز کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں۔ یورپی اقوام نے شاید اس لیے ترقی کی کہ انہوں نے ان قرضوں سے نہ بیرون ملک جائیدادیں بنائیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو دوسرے ملکوں میں بھیجا۔ ہمارے لیے لیڈروں نے عالمی بینک کے قرضوں سے اپنی قوموں کی حالت بدلنے کا فیصلہ کیا، تمہارے لیڈروں کی طرح انہوں نے صرف اپنے بچوں کی فلاح و بہبود کا نہیں سوچا، بلکہ اپنی قوم کے بچوں کو ترقی دلوائی۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ تمہارے لیڈر محض اپنے بچوں کیلئے ساری عمر دولت اکٹھی کرتے رہتے ہیں۔ اور باقی قوم کے بچے یورپ میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کی کوشش میں مارے جاتے ہیں۔ تمہارے لیڈر سمجھتے ہیں کہ خدا نے اگر انہیں حکمران بنایا ہے تو وہ جتنی جائیدادیں اور دولت اکٹھی کر سکتے ہیں، کر لیں۔ حقیقت میں اپنی دھرتی، اپنے ماں باپ، بہن بھائی اور دوست کو چھوڑ کر کسی اجنبی ملک کی طرف رخ کرنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا۔ آخر کہیں نہ کہیں تمہارے ملک کے ساتھ مسئلہ ہے کہ وہاں کے باشندے یورپ کے ساحلوں پر مرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ تم لوگوں نے اپنے ملک کا کیا حشر کر دیا۔ 1945ء میں ہم لوگ جنگ کی تباہ کاریوں کا شکار تھے اور تم لوگ بھی ایک نئی ریاست کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ دونوں کے سامنے بہت بڑے چیلنج تھے۔ آج یورپ کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے اور تم لوگ ہو کہ ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہو، تمہاری قوم یہ بحث کر رہی ہے وہ کس کی جنگ لڑ رہی ہے، میرے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ تم نے جو جنگ 80ء کی دہائی میں روس کے خلاف لڑی تھی وہ بنیادی طور پر ہم یورپیوں کے تحفظ اور مستقبل کے لیے لڑی گئی تھی۔ تم سب لوگوں کو یورپ کے سرمایہ دارانہ نظام کے بڑھاوے کے لیے استعمال کیا گیا، دیوار برلن گر گئی، تم لوگوں نے یورپ کے مستقبل کے لیے اپنے بچے مروائے، اپنی نسل تباہ کر لی اور ہم لوگ یہاں آرام سے بیٹھ کر تم لوگوں کی بربادی کا تماشہ دیکھتے رہے، مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ تمہارے لوگ اس پرائی جنگ میں بڑا فخر کرتے ہیں اور اور اسے اپنی جنگ سمجھتے ہیں، جو انہوں نے امریکہ اور یورپ کے لڑی تھی، لیکن آج جب یہ جنگ تمہارے اپنے گھروں کے اندر گھس آئی ہے تو یہ تمہیں پرائی جنگ لگتی ہے۔ تم پاکستانی بھی ایک عجیب قوم ہو، فلسطین، عراق، افغانستان، بوسنیا اور چیچنیا میں جاری جنگوں کو تو آپ لوگ اپنی جنگ سمجھتے ہو لیکن وہ جنگ جس میں تمہارے فوجی، بچے، عورتیں، بے گناہ شہری مارے جا رہے ہیں تم اسے ہماری ( یورپ ) کی جنگ قرار دیتے ہو۔ کبھی کبھی تو مجھے یوں لگتا ہے کہ تم لوگ صرف مرنے یا مارنے کے لیے پیدا ہوئے ہو، جب تم لوگوں کے ہاتھ اور کوئی نہیں لگتا تو تم ایک دوسرے کے گلے کاٹتے ہو، اگر تمہارے یہ لیڈر سمجھتے ہیں کہ انہیں یورپ میں پناہ مل جائے گی تو یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے۔ پاکستانیوں کے لیے برداشت کا مادہ ختم ہو چکا ہے، تم لوگ بنیادی طور پر ہمارے میڈیا کے ہاتھوں کھیلتے رہے ہو، انہوں نے تمہارے لوگوں کو یہاں ایک جنونی اور قاتل کے روپ میں پیش کیا ہوا ہے۔ تم ایک صحافی ہو، اپنے کالموں کے ذریعے اپنے لیڈروں کو بتائو کہ تم سب لوگوں کا جینا مرنا اب اسی ملک میں ہے، اگر تمہارے یہ لیڈر تمہاری یہ بات نہیں سنتے تو پھر اپنے لوگوں کو بتائو کہ وہ لیڈر جن کے بچے اور جائیدادیں دوسرے ملکوں میں ہو ں وہ کبھی بھی اپنی قوم کی ترقی کے لیے کچھ نہیں کر سکتے ‘‘۔
میں نے جب یہ طعنے پڑھے تو مجھے ایک عجیب سی گھبراہٹ اور گھٹن نے گھیر لیا، میں نے کتاب بند کی اور سونے کی کوشش کرنے لگا، کروٹ بدلتا رہا، پتہ نہیں چلا کب آنکھ لگ گئی، صبح اٹھا لیکن کلاسرا صاحب کی کتاب اور کیتھرین کے طعنے دماغ میں گھوم رہے تھے، ہمارے جیسے بندوں کو اس وقت تک چین بھی نہیں آتا، جب تک اپنا فرض ادا نہ کر لیں، سچ اور حقیقت کہنا، لکھنا فرض ہے، جس کو پورا کرنا معاشرے پر فرض ہے۔

جواب دیں

Back to top button