میڈیا کا اخلاقی بحران ۔۔ ہماری اجتماعی ذمہ داری

میڈیا کا اخلاقی بحران ۔۔ ہماری اجتماعی ذمہ داری
ٔٔ ثناء اللہ مجیدی
یہ حقیقت اب کسی تعارف کی محتاج نہیں رہی کہ ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں خبر کی رفتار سچائی سے کہیں زیادہ تیز ہو چکی ہے، اور اظہار رائے کی آزادی اخلاقی ذمہ داری سے آگے نکل گئی ہے۔ میڈیا، جسے کبھی معاشرے کی آنکھ، کان اور ضمیر کہا جاتا تھا، آج خود ایک گہرے اخلاقی بحران سے دوچار دکھائی دیتا ہے۔ یہ بحران محض پیشہ ورانہ نہیں بلکہ تہذیبی اور فکری بھی ہے، کیونکہ میڈیا اب صرف خبریں نہیں دیتا، بلکہ اقدار بھی تخلیق کرتا ہے اور ذوق بھی بناتا ہے۔
یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ میڈیا محض ایک تکنیکی نظام یا خبر رسانی کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک طاقتور تہذیبی قوت ہے۔ یہ طے کرتا ہے کہ معاشرہ کن باتوں پر چونکے گا، کن پر خاموش رہے گا، کن پر ہنسے گا اور کن اصولوں کو آہستہ آہستہ پسِ پشت ڈال دے گا۔ جو باتیں اسکرین پر بار بار دکھائی جاتی ہیں، وہی اجتماعی شعور کا حصہ بن جاتی ہیں، اور جو نظر انداز ہو جائیں، وہ چاہے کتنی ہی اہم کیوں نہ ہوں، معاشرتی ترجیحات سے خارج ہوتی چلی جاتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں میڈیا کی ذمہ داری محض اطلاع دینے سے آگے بڑھ کر کردار سازی اور ذہن سازی تک پھیل جاتی ہے۔ آج خصوصاً سوشل میڈیا نے اس طاقت کو بے لگام بنا دیا ہے۔ یہاں ادارتی نظم ہے نہ اخلاقی نگرانی خبر کی قدر اس کی صداقت سے نہیں بلکہ اس کی وائرل صلاحیت سے ناپی جاتی ہے۔ لائکس، ویوز اور شیئرز وہ پیمانے بن چکے ہیں، جن پر سچ، جھوٹ، خیر اور شر سب کو تول دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ تحقیق، توازن اور وقار پیچھے رہ جاتے ہیں، جبکہ سنسنی، تضحیک اور الزام تراشی آگے بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں صحافت خبر دینے کے بجائے فیصلے سنانے لگتی ہے اور عدالتیں اپنا مقام و وقار کھو دیتی ہے۔
یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اہلِ علم کے گھنٹوں پر محیط سنجیدہ درس، جن میں اخلاق، اصلاح اور فہمِ دین کی بات کی جاتی ہے، محدود حلقوں تک سمٹ کر رہ جاتے ہیں، جبکہ چند لمحوں کی ایک غیر سنجیدہ ویڈیو، ایک مذاق یا سیاق و سباق سے کاٹا گیا ایک جملہ، لمحوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتا ہے۔ یہاں تنقیدی سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض میڈیا کی ترجیحات کا مسئلہ ہے؟ یا یہ ہمارے اجتماعی ذوق، ہماری توجہ اور ہماری اخلاقی ترجیحات کا آئینہ بھی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ میڈیا وہی دکھاتا ہے جو ہم دیکھنا چاہتے ہیں، اور ہم وہی دیکھتے ہیں جو ہمیں وقتی طور پر محظوظ کرے، چاہے وہ ہمیں فکری طور پر کمزور اور اخلاقی طور پر کھوکھلا ہی کیوں نہ بنا دے۔
تنقیدی زاویے سے دیکھا جائے تو آج کا میڈیا کردار کشی کو جرات، اور عیب تلاش کرنے کو صحافت سمجھ بیٹھا ہے۔ کسی فرد کی ایک لغزش، ایک متنازع لمحہ یا ایک غیر محتاط جملہ، اس کی پوری زندگی، خدمات اور مقام پر حاوی کر دیا جاتا ہے۔ سیاق و سباق غائب، نیت مشکوک اور فیصلہ فوری ہوتا ہے۔ یہ رویہ صحافت نہیں بلکہ انصاف کے نام پر ناانصافی ہے، جو صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے معاشرے کو عدم اعتماد، نفرت اور تقسیم کی طرف دھکیل دیتا ہے۔اسلامی تعلیمات اس پورے معاملے میں نہایت واضح اور دوٹوک رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ قرآن کریم ہمیں حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی خبر آئے تو اس کی تحقیق کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم یا فرد کو نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر پشیمان ہو۔ نبی کریمؐ نے خبر کے معاملے میں احتیاط، خاموشی اور عیب پوشی کو اعلیٰ اخلاق قرار دیا، اور واضح فرمایا کہ ہر سنی سنائی بات کو آگے پہنچا دینا انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے کافی ہے۔ یہ محض مذہبی نصیحت نہیں بلکہ ڈیجیٹل دور میں فیک نیوز، افواہوں اور پروپیگنڈا کلچر کے خلاف ایک آفاقی اخلاقی اصول ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میڈیا کا یہ اخلاقی بحران صرف صحافیوں یا اداروں تک محدود نہیں۔ اس میں سب سے بڑا کردار ناظر، سامع اور قاری کا بھی ہے۔ ہم کس قسم کے مواد کو وائرل کرتے ہیں؟ ہم کن خبروں پر آنکھ بند کر کے یقین کر لیتے ہیں اور کن پر سوال اٹھاتے ہیں؟ اگر ہم خود تحقیق کے بغیر ہر چونکا دینے والی خبر کو آگے بڑھا دیتے ہیں تو پھر میڈیا کو موردِ الزام ٹھہرانا بھی مکمل انصاف نہیں ہوگا۔ میڈیا دراصل ہمارے اجتماعی ذوق کا عکس ہے، اور جب ذوق بیمار ہو جائے تو عکس بھی مسخ ہو جاتا ہے۔
یہاں دعوت کا پہلو سامنے آتا ہے، کیونکہ تنقید اگر اصلاح کی نیت کے بغیر ہو تو محض شور بن کر رہ جاتی ہے۔ میڈیا اگر چاہے تو بگاڑ کا نہیں بلکہ اصلاح کا سب سے موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ یہی میڈیا معاشرتی شعور بیدار کر سکتا ہے، نوجوانوں کو فکری سمت دے سکتا ہے، اور اختلاف کو نفرت کے بجائے مکالمے میں بدل سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ خبر اور تماشے کے فرق کو دوبارہ پہچانا جائے، اور صحافت کو تجارت کے بجائے امانت سمجھا جائے۔
دعوت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ میڈیا کے کارکنوں کو دشمن نہیں بلکہ شریکِ اصلاح سمجھا جائے۔ ان کی غلطیوں کی نشاندہی ضرور کی جائے، مگر خیرخواہی اور حکمت کے ساتھ۔ ذمہ دار صحافت کی حوصلہ افزائی کی جائے، سنجیدہ مواد کو نمایاں کیا جائے، اور اخلاقی معیار کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ جب اچھے کام کو پذیرائی ملے گی تو برا کام خود بخود کمزور پڑ جائے گا۔
اہلِ علم، صحافی اور عوام، اگر تینوں اپنی اپنی سطح پر اخلاقی ذمہ داری قبول کر لیں تو میڈیا ایک بار پھر اصلاح کا مرکز بن سکتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ آزادی اظہار اور اخلاقی بے لگامی میں فرق ہے، اور تنقید اور تضحیک ایک چیز نہیں۔ اختلاف اگر وقار کے ساتھ ہو تو معاشرے کو جوڑتا ہے، اور اگر نفرت کے ساتھ ہو تو توڑ دیتا ہے۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ ہم کس قسم کا معاشرہ چاہتے ہیں؟ ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر بات پر شور ہو مگر شعور نہ ہو، یا ایک ایسا معاشرہ جہاں اختلاف ہو مگر دیانت کے ساتھ، تنقید ہو مگر انصاف کے ساتھ، اور خبر ہو مگر تحقیق کے ساتھ؟ اس سوال کا جواب صرف میڈیا نہیں دے گا، ہمیں بھی دینا ہوگا۔
میڈیا ہمارے سامنے ایک آئینہ بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔ اگر ہم نے اس آئینے میں اپنا اخلاق درست کر لیا تو تصویر خود بخود بدل جائے گی۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب تہذیبیں زوال کا شکار ہوتی ہیں تو اس سے پہلے ان کے الفاظ، ان کی خبریں اور ان کے معیار گرتے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم تنقید اور دعوت دونوں کو ساتھ لے کر چلیں، کیونکہ اصلاح کا سفر الزام سے نہیں، شعور سے شروع ہوتا ہے، اور یہی شعور ایک زندہ معاشرے کی پہچان ہے۔





