Column

ہمارا نظام تعلیم

ہمارا نظام تعلیم
عابد ضمیر ہاشمی
ترقی یافتہ اقوام نے علم کے میدان، خصوصاً سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ناقابلِ یقین ترقی کی ہے، جس کے باعث ان کے اندازِ فکر، قدریں، اور طرزِ زیست تبدیل ہورہا ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی تعمیر و ترقی میں بنیادی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دُنیا کے ملکوں میں پاکستان 160نمبر پر ہے، جس کی شرح خواندگی 55%ہے، ملک کے ڈھائی کروڑ بچے اب تک سکول جانے سے محروم ہیں، جس کی ایک وجہ والدین کا بچوں کوسکول بھیجنے سے انکار ہے۔ ہر 10میں سے 4بچے سکول نہیں جاتے، جب کہ 10میں سے 02بچے مہنگی تعلیم کے باعث داخلہ نہیں لیتے، لڑکوں میں شرح خواندگی 70%، جب کہ 46%شرح خواندگی لڑکیوں کی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں وطن عزیز کی ایک بھی یونیورسٹی دُنیا کی پہلی 100یونیورسٹیوں میں شامل نہیں ہے۔ سب سے اہم بات یہ کہ وطنِ عزیز کا تعلیمی نظام جدید دور کے تقاضوں سے60سال پیچھے ہے۔ مزید برآں پاکستان میں پرائمری سطح پر تعلیم نئے دور کے تقاضوں سے 50سال پیچھے ہے۔ یہ وہ بنیادی تعلیم ہے جس سے ایک بچے کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور پھر تشویشناک صورتحال یہ بھی ہے کہ اکثریت ماسٹر لیول تک کے فارغ التحصیل ایک خاکہ دیکھ کر کہانی لکھنے، اپنا مدعا درست طور پر رقم کرنے سے قاصر ہیں۔ انگریزی تو درکنار اپنی زبان اردو میں تحریر لکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہونے کے ساتھ ہی ایک جامع اردو کے درست تلفظ میں درخواست نہ لکھ سکنا ہمارے نظام تعلیم کا عملی ثبوت ہے۔ یہ وہ سٹوڈنٹ بھی نہیں جنہیں اداروں سے نالائق کا اعزاز ملتا ہے، بلکہ یہ ان کی بات ہورہی جن کہ A+گریڈ ہوتے ہیں، لیکن عملاً وہ اپنی ڈگری کے برابر تو دور کی بات 50%بھی کام نہیں کر پاتے، جس کے باعث کئی پڑھے لکھے نوجوان بے روزگاری کا شکار ذہنی دبائو کا شکار ہوچکے اور انہیں پڑھے لکھے جاہل کے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ ساتھ ہی کوئی اخلاقیات ہمارے نظام تعلیم میں شامل نہیں، جس سے معاشرے میں عدم برداشت کا رحجان بڑھتا جارہا ہے۔ ان عوامل سے بچہ معاشی حیوان تو بن سکتا ہے، لیکن ایک اچھا شہری کبھی بھی نہیں۔ یہ وہی فارمولا ابھی تک چل رہا ہے، جو لارڈ میکالے نے 200سال پہلے دیا تھا کہ کوئی بھی تحقیق، تخلیق نہ ہو سکے۔ ہمارے تعلیمی نظام میں یونیفارم پالیسی نہ ہونے کے باعث قوموں کی برابری میں ہم بہت پچھلی صفوں میں کھڑے ہیں، ایک بڑا مسئلہ ہے جو کہ وطنِ عزیز کے ہر صوبے میں اپنا تعلیمی نصاب، حتی کہ اب تو ہر سکول میں اپنی مرضی سے نصاب منتخب کیا جاتا ہے ، جس سے غریب امیر کے درمیان خلیج پیدا ہو رہی، تو غریب کی عزت نفس مر جاتی ہے، جو والدین غریب میں پیٹ کاٹ کر اولاد کی تعلیم کی سعی کرتے ہیں تو جب انہیں یہ پتا لگتا ہے کہ ملازمت میں آکسفورڈ نصاب والے ہیں، ہم نے تو وہ نام ہی نہیں سنا، تب وہ محنت کش خواتین، مرد مجبور ہوتے ہیں اور ان کا تقدس مٹ جاتا ہے۔ ہمارے یکساں تعلیمی نصاب کے نہ ہونے کی وجہ سے ہر روز یہ ستم بڑھ رہے ہیں کم ہوتے نظر نہیں آتے اور نہ ہی اس نظام میں ہوں گے۔ محنت کشوں کو عدم یکسانیت نصاب نے بددل اور بردباد کیا، اسی کشمکش میں غریب کے لیے معیاری تعلیم ناپید ہوتی جارہی، کیونکہ اچھے اداروں کی فیس غریب کی دسترس سے باہر ہے اور غریب کی پہنچ والوں اداروں میں وہ معیارِ تعلیم نہیں۔ نصابی تفریق سے تعلیم کا مقصد بھی بدل جاتا ہے، نصاب کہ یکساں نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم و تربیت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں ذہانت، ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کے جن نوجوانوں کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم میں اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملتا ہے وہ ضرور لوہا منواتے ہیں۔ ہمارے موجودہ تعلیمی نظام نے ہمیں تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا، اس نظام سے قوم منقسم ہو رہی ہے۔ پہلے پھر بھی تھیوری پیپرز سے بچہ کتاب پڑھتا تھا جس سے علم میں اضافہ ممکن تھا لیکن اب MCQsاور نمبرات کی دوڑ نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ اچھے نمبر لینے والوں میں بھی بہت کم معلومات رکھتے ہیں، اکثریت بنیادی علم سے بھی نابلد، جس کی زندہ مثال اکثر ٹیسٹوں میں ہزاروں میں سے بمشکل سو امیدوار سخت محنت کے بعد کامیابی حاصل کر پاتے ہیں اور یہ بھی ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ملک کو تباہی سے بچائیں تو ہم سب کا بنیادی فرض ہے کہ محض رسمی تعلیم اور موروثی نہیں بلکہ علم و تحقیق اور یکساں نظام نصابِ تعلیم ہونا چاہیے۔ ہماری تعلیم اتنی مدلل، سائنٹفک اور فطری انداز میں ہو کم از کم تحقیق علم و فکر ذہانت جستجو سے دریافت کیا جائے۔ روزنامہ دُنیا کا بچوں کے لیے تصویر دیکھ کہانی لکھیں، یقیناً تخلیق کی جانب بچوں کو ترغیب دینا ملک و قوم کے لیے ایک انمول تحفہ ہے، اس سے بچے کوئی بھی تصویر دیکھ کر کہانی شوق سے لکھتے ہیں، جس کی نوک پلک کر کے شائع کر کے بچوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، اس سے بچوں کے اندر خود اعتمادی قائم ہوتی ہے، جو متاعِ حیات ہے، کیونکہ ہمارے اکثر نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ تو ضرور، مگر خود اعتمادی سے بات کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ اگر ہم نے نئی نسل کو جدید تقاضوں کے عین مطابق علم کی روشنی دینی ہے تو اس کے لیے یکساں نصابِ تعلیم ناگزیر ہے، تاکہ کسی غریب محنت کش اور کمزور کے بچے کی محنت کے باوجود ان کی تضحیک نہ ہو اور ہمارے وطن عزیز میں یکساں نصابِ تعلیم ہو!

جواب دیں

Back to top button