Column

جب احوال نہیں پوچھے جاتے

جب احوال نہیں پوچھے جاتے
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
کسی شاعر نے کیا خوبصورت اشعار کہے، کہتا ہے کہ:
تُو نے احوال ہی پوچھا نہیں، ورنہ کہتے
اور سب ٹھیک ہے، پر تیرے سوا کچھ بھی نہیں
لفظ خالی ہوں، تو آواز بہت کرتے ہیں
بس وہی شور سنا، اور سنا کچھ بھی نہیں
ہم تو ویسے بھی مسافر ہیں، نہ ہوتے تب بھی
اب تیرے شہر میں رہنے کو رہا کچھ بھی نہیں
پہلے دو پل کی جدائی سے بھی جاں جاتی تھی
کب کے بچھڑے ہیں مگر دیکھ، ہوا کچھ بھی نہیں
کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا۔ اس کے پاس سلطنت تھی، خزانے تھے، لشکر تھے، مگر اس کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ وہ پوچھتا نہیں تھا۔ لوگ اس کے سامنے کھڑے ہوتے، لب ہلتے مگر بادشاہ کے کان بند رہتے۔ وہ احکام دیتا، فیصلے سناتا، مگر کبھی یہ سوال نہیں کرتا کہ تم پر کیا گزر رہی ہے؟ ایک دن دربار میں ایک بوڑھا شخص آیا۔ اس نے کچھ نہیں کہا، بس خاموش کھڑا رہا۔ بادشاہ نے غصے سے پوچھا۔ ’’ بولتے کیوں نہیں؟‘‘۔ بوڑھے نے جواب دیا۔ ’’ جہاں پوچھا نہ جائے، وہاں بولنے کی آواز صرف ایک بے کار شور بن جاتی ہے‘‘ ۔ اسی دن بادشاہ نے پہلی بار جانا کہ سوال نہ کرنا، کسی کی بات نہ سننا بھی ایک ظلم ہوتا ہے۔۔۔
شاعر کہتا ہے۔
تُو نے احوال ہی پوچھا نہیں، ورنہ کہتے
اور سب ٹھیک ہے، پر تیرے سوا کچھ بھی نہیں
یہ شعر صرف محبوب سے شکوہ نہیں، یہ انسانی رشتوں کا نوحہ ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں محبت اور رشتے کی موت ہو جاتی ہے، کیونکہ محبت اور رشتے کی پہلی شرط توجہ ہے۔ نفسیات کہتی ہے کہ انسان کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ Being Seenہے۔ یعنی کوئی اسے دیکھے، سمجھے، پوچھے۔ Carl Rogers کے مطابق
۔The deepest human need is to be understood
جب یہ ضرورت پوری نہ ہو تو انسان لفظوں سے نہیں، خاموشی سے چیخنے لگتا ہے۔ ’’ لفظ خالی ہوں، تو آواز بہت کرتے ہیں۔ بس وہی شور سنا، اور سنا کچھ بھی نہیں‘‘ یہ مصرع جدید دنیا کا مکمل تجزیہ ہے۔ ہم شور میں زندہ ہیں۔ سوشل میڈیا کا شور، خبروں کا شور، تقریروں کا شور، مگر معنی ناپید ہیں۔ سائنس کہتی ہے کہ شور (Noise)جتنا بڑھتا ہے، Signal اتنا ہی کمزور ہوتا جاتا ہے۔ یہی اصول انسانی رشتوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جب باتیں زیادہ اور احساس کم ہو جائیں تو تعلقات ٹوٹنے سے پہلے خالی ہو جاتے ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سلطنتیں تلوار سے نہیں، بے حسی سے گریں۔
روم، بغداد، اندلس۔ زوال اس دن شروع ہوا جب حکمرانوں نے رعایا کا احوال پوچھنا چھوڑ دیا۔ حضرت عمرؓ راتوں کو گلیوں میں اس لیے نکلتے تھے کہ کہیں کوئی ایسا نہ ہو جو کہہ دے۔ ’’ عمر نے حال نہ پوچھا‘‘۔
ہم تو ویسے بھی مسافر ہیں، نہ ہوتے تب بھی
اب تیرے شہر میں رہنے کو رہا کچھ بھی نہیں
فلسفہ کہتا ہے، انسان بنیادی طور پر تنہا مسافر ہے۔
یعنی انسان تنہائی میں پیدا ہوتا ہے اور تنہائی میں فیصلے کرتا ہے۔ جب کسی شہر، کسی دل، کسی تعلق میں سوال ختم ہو جائیں تو وہاں رہنے کی وجہ بھی ختم ہو جاتی ہے۔
نفسیات میں اسے Emotional Homelessnessکہتے ہیں۔ جہاں انسان موجود تو ہوتا ہے، مگر کسی کا نہیں رہتا۔
پہلے دو پل کی جدائی سے بھی جاں جاتی تھی
کب کے بچھڑے ہیں مگر دیکھ، ہوا کچھ بھی نہیں
یہ انسانی اعصاب کی کہانی ہے۔ پہلا زخم رلاتا ہے، سوواں زخم احساس چھین لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے سانحات کے بعد قومیں نہیں روتیں، صرف زندہ رہتی ہیں۔ آفاقی قانون یہ ہے۔ جہاں قدر نہ ہو، وہاں وابستگی مر جاتی ہے۔ جہاں سوال نہ ہو، وہاں جواب بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اور شاعر آخر میں ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔ ہم بچھڑے نہیں، ہم پوچھے نہ جانے کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ یہ کالم محبت کا نہیں، یہ توجہ کی کمی سے مرنے والے انسان کا مرثیہ ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے۔ اگر کوئی آپ سے احوال نہیں پوچھتا۔ تو آپ کا درد اس کی دنیا میں۔ سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا۔

جواب دیں

Back to top button