فلسطین ہضم کرنے کی آخری کوشش

فلسطین ہضم کرنے کی آخری کوشش
تحریر: یاور عباس
فلسطین گریٹر اسرائیل کے خواب کی تکمیل میں پہلی رکاوٹ ہے، جسے اسرائیل عبور کرنے کے بعد کئی مسلم ممالک کی طرف بڑھے گا۔ یہ بات مسلم حکمران جتنا جلدی سمجھ جائیں تباہی سے بچ جائیں گے، وگرنہ مسلم ریاستوں کو کمزور سے کمزور کرنے کے بعد وہاں معاشی، اقتصادی کنٹرول حاصل کر کے بالاخر مسلم ریاستوں کو اپنا غلام بنالیا جائے گا۔ جس کی واضح مثال یہ بھی ہے کہ 56اسلامی ممالک مل کر فلسطین پر ہونے والے ظلم و ستم کو نہ رکوا سکے ۔ بھوک سے مرتے بچوں کو پانی تک نہ پہنچا سکے۔ امدادی سامان تک نہ پہنچا سکے۔ اسرائیل نے فلسطین کا محاصرہ گزشتہ دو برس سے کر رکھا ہے ہمسایہ ممالک مسلمان ہونے کے باوجود فلسطین کی امداد نہیں کر سکے۔ لیبیا ، شام ، عراق، افغانستان اور دیگر مسلم ریاستوں کو اندرونی و بیرونی جارحیت کے ذریعے کس طرح کچلا گیا یہ مناظر ساری دنیا نے دیکھے۔ امریکہ، اسرائیل اقوام متحدہ کی پالیسیوں کو بھی مسلسل پائوں تلے روند رہے ہیں ۔ دنیا میں امن و امان کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کے کئی ادارے اسرائیل پر جنگی جرائم کے سنگین الزامات لگا چکی ہے مگر کوئی طاقت اسرائیل کو اس کے ظلم سے نہیں روک سکی۔
امریکہ اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے مشرق وسطیٰ کا امن گزشتہ کئی دہائیوں سے تباہی کا شکار ہے مگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد اسرائیل نے فلسطین میں جو ظلم و ستم کی داستانیں رقم کیں ہے وہ ناقابل بیان ہیں ۔ شام میں رجیم چینچ ، بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کر کے فلسطینیوں کو ملنے والی امداد کی سپلائی لائن کاٹ دی گئی۔ اسماعیل ہنیہ ، حسن نصر اللہ سمیت اسلامی تحریکوں حماس اور حزب اللہ کے قائدین، ایرانی صدر، ایرانی آرمی چیف سمیت اہم رہنمائوں کو شہید کر کے امریکہ اور اسرائیل اپنے خلاف اُٹھنے والی آوازوں کو بند کرنے میں بڑی حد تک کامیاب ہورہا ہے۔ ایران ،اسرائیل جنگ میں ایران نے غیر متوقع نتائج دئیے اور صیہونی طاقتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا یوں جنگ بندی تو ہوگئی مگر ایران میں رجیم چینج کرنے اور رہبر اسلامی انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کو اقتدار سے ہٹانے یا پھر عبرتناک انجام سے پہنچانے کے لیے خفیہ سازشیں ہی نہیں بلکہ کھلے عام دھمکیاں دی گئیں۔ ایران کے اندر احتجاج کے نام قتل و غارت گری، شرپسندی ، لوٹ مار ، جلائو گھیرائو کو بڑھکایا گیا ، امریکہ اسرائیل کی طرف سے احتجاج کرنیوالوں کی کھلے عام حمایت کی گئی اور ایران کو دھمکیوں دی گئیں کہ احتجاجی مظاہرین پر تشدد نہ کیا جائے اور گرفتار لوگوں کو پھانسیاں نہ دی جائیں۔ ایران نے بڑی دانشمندی کے ساتھ اس مشکل مرحلہ کو عبور کرلیا۔ احتجاج کی بھیس میں چھپے امریکی ، اسرائیلی ایجنٹوں کو گرفتار کر لیا اور عوام کو بڑے ریلیف کے ذریعے مطمئن کر لیا گیا ۔ انقلابی عوام نے لاکھوں کی تعداد میں حکومت کی حمایت میں ریلیاں نکال کر دنیا کو دکھا دیا کہ ایران کے عوام امریکہ اسرائیل کی سازشیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ احتجاجی مظاہروں کے حوالے سے امریکہ کی پالیسیاں دوہری ہیں ۔ امریکہ کے اندر احتجاج ہورہے ہیں جہاں خود حکومت مظاہرین پر تشدد کر رہی ہے ۔ فلسطین ،غزہ پر وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں جہاں فلسطینیوں کی نسل کشی کی جارہی ہے وہیں لوگ شدید غذائی قلت، بیماریوں ، ادویات کی کمی کے باعث علاج نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں جارہے ہیں۔ امریکہ و اسرائیل فلسطین کا امن کنٹرول حاصل کرنے سے مشروط کر رہا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ فلسطین مکمل طور پر اسرائیل کے حوالے کر دیا جائے۔ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں سب سے بڑی رکاوٹ حماس ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ امن بورڈ کے ذریعے فلسطین میں امن قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے مگر یہ امن انصاف اور فلسطینی عوام کی آزادی کے لیے اسرائیلی خواہشات کی تکمیل کی کوششیں ہیں۔ فلسطینی عوام کی مرضی سے آزاد ، منصفانہ نظام حکومت تشکیل دے کر اسرائیلی مداخلت کو ختم کر دیا جائے تو فلسطین میں امن قائم ہوسکتا ہے ۔ غزہ کی تعمیر نو اور بحالی عالمی اداروں کی نگرانی اور امداد کے ذریعے کی جاسکتی ہے۔ غزہ بورڈ کا قیام دراصل عالمی طاقتوں کا اقوام متحدہ کے اداروں پر عدم اعتماد ہے اور من مرضی سے قوانین بنانا اور اس کا نفاذ کروا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق غزہ بورڈ میں20ممالک ، جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، مصر، اردن ، قطر، پاکستان سمیت دیگر یورپی ممالک شامل ہیں۔ غزہ بورڈ پر دنیا بھر میں شدید تنقید ہورہی ہے، بہت سارے مغربی ممالک بھی اس کی مخالفت کر رہے ہیں، کیونکہ یہ بورڈ فلسطینی عوام کو آزادی کی بجائے امریکہ و اسرائیل کی خوشنودی کا باعث بنے گا۔ فلسطینی عوام نے بھی اسے مسترد کر دیا ہے۔ غزہ بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کے امکانات واضح تھے کیونکہ موجودہ رجیم تو امریکہ کی خوشنودی میں کے لیے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے لیٹنے پر بھی کوئی عار نہیں سمجھتی ۔ پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں سمیت مذہبی اور سیاسی جماعتیں اس کی شدید مخالفت کر رہی ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف معاہدہ پر دستخط کر چکے ہیں۔ اس اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی موجود تھے۔ حکومت کے مطابق وزیر اعظم کو یہ اختیار کابینہ نے دیا تھا۔ ویسے بہتر تھا کہ حکومت جلد بازی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے پہلے قوم کو اعتماد میں لیتی۔ پارلیمنٹ اور میڈیا میں بامقصد بحث کرائی جاتی۔ ملک میں عوامی ریفرنڈم کرایا جاتا، اس سے حکومت کو پتہ چل جاتا کہ پاکستانی عوام کیا چاہتے ہیں اور یوں عوامی جذبات اور خواہشات کے مطابق فیصلہ کیا جاتا کہ غزہ بورڈ میں شامل ہونا ہے یا نہیں۔
1948ء سے اب تک اسرائیل فلسطین میں جنگیں لڑ لڑ کر کامیابی حاصل کرنے میں ناکام ہوا۔ گزشتہ تین برس کے دوران اسرائیل اپنی پوری قوت کے ساتھ فلسطین پر قبضہ کرنے کی کوشش میں ناکام ہونے پر امریکی مدد سے غزہ امن بورڈ کے نام پر مسلط ہونا چاہتا ہے۔ غزہ بورڈ کے ابتدائی نکات سے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسی واضح ہے کہ وہ امن کیسے لانا چاہتے ہیں ۔ اگر وہ اپنے اس مشن میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر فلسطین ہضم کرنے میں کامیاب ہو جائینگے۔





