بے اعتبارے ادارے

بے اعتبارے ادارے
سیدہ عنبرین
طاقتور ملکوں کے سربرہان مملکت بھی طاقتور ہی ہوتے ہیں انہیں اکثر اپنی طاقت کا استعمال کرتے دیکھا جا سکتا ہے کبھی کبھی وہ انتہائی طاقتور شخصیات کو سسٹم سے یوں باہر نکال پھینکتے ہیں جیسے دودھ میں سے مکھی ، یہ نوبت یقیناً اس وقت آتی ہے جب کوئی مکھیوں والی حرکتیں شروع کر دے، ایسے کرنے والے سمجھتے ہیں کوئی انہیں نہیں دیکھ رہا لیکن مضبوط و طاقتور ملکوں کا طاقتور نظام انہیں دیکھ ہی نہیں رہا ہوتا بلکہ شواہد ریکار ڈ بھی کرتا ہے پھر جب یہ شواہد فیصلہ کرنیوالوں کے سامنے رکھے جاتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے وہ کس کے خلاف فیصلہ کر رہے ہیں و ہ فیصلہ کر جاتے ہیں انکے فیصلے میرٹ پر ہوں تو کوئی انکے خلاف چوں چراں نہیں کرتا ، ٹھیک چند روز قبل چین کے صدر شی جی پنگ نے بھی اہم فیصلے کرتے ہوئے چینیز فوج کے بعض جرنیلوں کو بہ یک جنبش قلم عہدوں سے ہٹا دیا ہے ان جرنیلوں پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں کرپشن ، عہدوں سے نا جائز فائدہ اٹھانا اور ایسی بے قاعدگیاں ہیں جن سے ایسے افراد کو فائدہ پہنچایا گیا جو اسکے حقدار نہ تھے۔
امریکی نواز میڈیا دنیا کے سامنے جو کہانی پیش کر رہاہے وہ مختلف ہے اسکے مطابق چینی فوجی جرنیلوں نے اپنے ملک کے بعض نیو کلیئر راز یا اس سے متعلق چیزیں امریکی انٹیلی جنس ایجنسی کے ہاتھ میں دے دیں ، معاملہ اس قدرنازک ہو بھی سکتا ہے لیکن یہ کہانی سنانے والے صرف با خبر ذرائع کا ذکر کرتے ہیں کوئی ثبوت پیش نہیں کرتے اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ در حقیقت ایسا ہی ہوا ہو لیکن ایک غور طلب پہلو یہ بھی ہے کہ امریکی نواز میڈیا کو یہ کہانی بعض اہداف حاصل کرنے کے لیے دی گئی ہو لیکن اس میں کوئی حقیقت نہ ہو بلکہ سچ وہی ہے جو چینی حکومت نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے۔
ایسی کہانیاں مارکیٹ کرنے کے لیے کیا فائدے ہو سکتے ہیں اسکی کئی جہتیں کئی سمتیں ہیں ایک تو یہ کہ ان ایام میں جب مختلف ملکوں کے درمیان تنائو کی کیفیت ہے ، مخالف ملک کو باور کرایا جائے کہ ہم وہاں تک پہنچ چکے ہیں جسے تم بہت خفیہ رکھے ہوئے تھے اور اس پر نازاں تھے ہم ان معلومات کا فائدہ اس وقت اٹھائیں گے جب میدان کا رراز گرم ہو گا دوئم ان رازوں کے حصول کے بعد تمہاری بند کلید تنصیبات اب ہمارے نشانے پر ہیں ہم کسی بھی وقت انہیں تباہ کر سکتے ہیں خصوصاً اگر تم نے اس ملک کی مدد کرنے کی کوشش کی جس پر ہم یلغار کا ارادہ رکھتے ہیں لہٰذا ہماری لڑائی کے درمیان آنے کا ارادہ ترک کر دو، سو یہ معلومات امریکہ یا سی آئی اے تک پہنچی ہوں یا نہ پہنچی ہوں اس قسم کے دعوے کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دیگر نیو کلیئر طاقتوں کو پیغام دیا جا سکے کہ اگر ہم چین کے نیو کلیئر اثاثوں کی معلومات حاصل کر سکتے ہیں تو تمہارے اثاثوں تک پہنچنا ہمارے لئے کچھ مشکل نہیں اور سب سے اہم بات کسی ملک کی کوئی خفیہ ایجنسی جب عر صہ دارز تک کوئی بڑا کارنامہ انجام نہ دے سکے تو اپنی ساکھ بچانے کیلئے اس قسم کی کہانیاں تراشی جاتی ہیں ، امریکہ اور سی آئی اے کو ایران میں متعدد ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ، وہ اپنی پسند کے مہرے دینا شاہ پہلوں کو ایران میں مستد اقتدار تک نہیں پہنچا سکے ، وہ اپنی بھر پور کوششوں کے باوجود ایرانی انقلاب کو جوابی انقلاب کے ذریعے شکست نہیں دے سکتے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ امریکہ اسرائیل اور انکے یورپی تماشے سب ملکر بھی ایران کو نہیں جھکا سکے انکی کسی دھمکی کا ایرانی حکومت اور ایرانی عوام نے کوئی اثر نہیں لیا بلکہ ہر دھمکی کے جواب میں اپنے عزم کو دہرادیا کہ ایران پر حملے کی صورت بھرپور جواب دیا جائیگا اور دنیا میں موجود امریکہ فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے علاوہ ان کا اصل ہدف اسرائیل ہوگا ۔
امریکہ کو ایک تازہ ترین ناکامی ہوئی ہے ، متعدد اسلامی ممالک نے امریکہ پر واضح کر دیا ہے کہ وہ ایران پر حملے کرنے کےلئے اپنی زمین اپنی فضائی اور بحری حدود استعمال نہیں کرنے دیں گے ، لہٰذا ممکن ہے چین اگر اپنے کرپٹ جرنیلوں کے خلاف کوئی کارروائی کررہا ہے تو اس کا سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے دینا کو بتایا جائے کہ دراصل چینی جرنیل اپنے اہم راز ہمیں دے رہے تھے لہٰذا اب انکے خلاف کارروائی کی جارہی ہے ۔
آج سے ٹھیک چند ماہ بعد امریکہ صدر کا دور ہ چین طے ہے امریکی اپنے میزبان ملک کو انڈر پریشر رکھنے کیلئے بھی اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرنے کے عادی ہیں۔
امریکہ عرصہ داراز سے ایک مشغلہ جاری رکھے ہوئے ہے وہ اپنے مخالف کیمپ میں موجود ممالک میں اپنی پسند کی حکومت قائم کرنے کیلئے مختلف زمانوں میں حکومتیں بدلنے کیلئے وہاں کی فوج سے ساز باز کرتا رہا ہے خاص طور پر جہاں جمہوریت کمزور ہو حکمران کرپٹ ہوں یا جعلی انتخابات کے نتیجے میں اقتدار میں آئے ہوں وہاں وہ فوجی افسروں سے معاملات باآسانی طے کر لیتا ہے اس حوالے سے امریکہ نے جو تازہ ترین آپریشن کیے ان میں شامی فوجی جرنیلو ں سے مک مکا کرنے کے بعد وہاں حکومت بدل دی گئی فوج دفاع کیلئے آگے نہیں بڑھی اسی طرح وینزویلا میں صدر نکولس ماروروکو اغوا کرنے سے قبل اہم فوجی جرنیلوں سے معاملات طے کیے گئے بغیر انکی معاونت کے یہ سب کچھ اتنی آسانی سے نہ ہو سکتا تھا خاص طور پر جب چینی ذرائع انہیں مطلع کر چکے تھے کہ صدر وینزویلا کے خلاف آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں اس قسم کی کارروائی ہو سکتی ہے تو نکولس کی رہائش تبدیل کی جا سکتی تھی انہیں کسی خفیہ مقام پر منتقل کیا جا سکتا تھا یا پھر انکی حفاظت کیلئے ایک بٹالین نہیں ایک بریگیڈ کی نفری لگائی جا سکتی تھی جسکے پاس ہیلی کاپٹر مارگرانے ، ہوائی جہازوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہوتی ، اطلاعات ملنے کے باوجود اگر وینزویلا کی فوج تین امریکی ہیلی کاپٹر نہیں گرا سکی تو یہی بات ہو تی ہے کہ وہاں کے فوجی جرنیل آف بورڈ تھے کوئی ملک کتنا بھی کمزور کیوں نہ ہو دو چار ہیلی کاپٹر خراما خراما پرواز کرتے آئیں اور کسی شخص کو اسکے گھر سے یوں اٹھا لے جائیں یہ ممکن نہیں پھر خاص طور پر کسی ملک کے سربراہ کو اغوا کرنا اتنا بھی آسان نہیں ہوتا جتنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان کیا یہ سب مک مکا کے تحت ہی آسان ہوتا ہے اور اسی وقت کیا جاتا ہے جب دوسری طرف سے تسلی ہو کہ سب سوتے رہیں گے اور مزاحم نہ ہو نگے۔
پاکستان کی سرحدوں کے آر پار اکثر ہوتا ہے دہشت گردی کے کسی واقعے کا ارتکاب کوئی کرتا ہے اسکی ذمہ داری خواہ مخواہ کوئی اورقبول کر لیتا ہےمقصد اپنی دھاک بٹھانے کے علاوہ اصل دشمن سے توجہ ہٹانا بھی مقصود ہوتا ہے۔فن حرب پیچیدہ معاملہ ہے انٹیلی جنس اور کائونٹر انٹیلی جنس اس سے زیادہ پیچیدہ ہے اہداف حاصل کرنے کیلئے اکثر وہ کچھ کیا جاتا ہے جو کیا نہیں ہوتا اور کبھی کبھار وہ کچھ کیا جاتا ہے جو کیا نہیں جاتا لہٰذا چینی جرنیلوں کو کس بنا پر ہٹایا گیا دو چار روز میں بات واضح نہیں ہو گی نہ ہی کسی یک طرفہ کہانی پر یقین کیا جا سکتا ہے پھر کہانی بھی انکی جو بین الاقوامی جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں اور بے اعتبارے ہیں۔







