
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے جس میں اُنہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا نے خطے میں اپنا ایک طیارہ بردار بحری جہاز تعینات کیا ہے جس کے نتیجے میں امریکا کی ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایرانی صدر نے امریکی دھمکیوں کو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دباؤ اور مداخلت ایران کو کمزور نہیں کر سکتی۔
ایرانی صدارتی دفتر کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے خطے میں امن، سلامتی اور ترقی کے لیے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کو مسترد کر دیا ہے۔
سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ولی عہد نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود یا زمین ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک بڑی بحری فوج ایران کی جانب بڑھ رہی ہے تاہم اُنہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ معاہدہ چاہتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی پڑوسی ملک کی زمین، فضا یا پانی ایران کے خلاف استعمال ہوا تو اسے دشمنی سمجھا جائے گا۔







