
پاکستانی معروف ٹک ٹاکر علینہ عامر نے اپنی مبینہ لیک ویڈیو پر خاموشی توڑتے ہوئے اسے ہراسانی اور جرم قرار دیا ہے۔
انہوں نے لیک ویڈیو کو اے آئی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ زیرِ گردش وائرل ویڈیو میری نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کی گئی ہے اور میں اس کے خلاف آواز اُٹھاؤں گی، خاموش نہیں رہوں گی۔
فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر تفصیلی ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے ٹک ٹاکر نے بتایا کہ ابتداً زیر گردش ویڈیو کے حوالے سے میں بات نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن ایک ہفتے تک صورتِ حال کا جائزہ لینے کے بعد اس پر بات کرنا ضروری سمجھا۔
علینہ کے مطابق جب سوشل میڈیا پر گمراہ کُن پوسٹس کی تعداد میں اضافہ ہوا اور ’علینہ عامر کی ویڈیو لیک ہو گئی‘ جیسی سرخیوں کے ساتھ مواد پھیلایا جانے لگا تو میں نے وضاحت دینا ضروری سمجھا۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غلط معلومات کس تیزی سے پھیلتی ہیں اور بغیر تصدیق کسی کی ساکھ کو کس طرح نقصان پہنچایا جا سکتا ہے، یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
ٹک ٹاکر نے واضح طور پر زیرِ گردش ویڈیو کی صداقت کو مسترد کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی مواد کو شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق کریں۔
انہوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ خواتین کے خلاف اے آئی کے ذریعے فحش اور جعلی مواد بنانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
اس موقع پر علینہ نے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کی کارکردگی کو بھی سراہا اور ہراسانی و بچوں سے متعلق مقدمات پر کام کو حوصلہ افزا قرار دیا۔
انہوں نے سی سی ڈی کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ سے اپیل کی کہ وہ ذاتی طور پر اس معاملے کی نگرانی کریں، کیونکہ اے آئی کے ذریعے تیار کردہ غیر اخلاقی مواد سنگین نوعیت کی ہراسانی کے زمرے میں آتے ہیں۔
علینہ عامر نے واضح کیا کہ یہ مسئلہ صرف شوبز یا سوشل میڈیا شخصیات تک محدود نہیں بلکہ عام خواتین اس سے کہیں زیادہ متاثر ہوتی ہیں، کیونکہ ایسا جعلی مواد ان کے گھروں اور خاندانوں تک پہنچا دیا جاتا ہے، جو انہیں زندگی بھر کے صدمے سے دوچار کر دیتا ہے، میرا خاندان مجھ پر مکمل اعتماد رکھتا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کمزور طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین اپنے دفاع کے لیے کہاں جائیں؟
انہوں نے ملزم کی نشاندہی پر نقد انعام کا اعلان بھی کیا اور کہا کہ جو شخص اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو بنانے والے فرد کی نشاندہی میں مستند معلومات فراہم کرے گا، اسے نقد انعام دیا جائے گا، ذمے دار شخص کو سزا ملنی چاہیے تاکہ وہ دوبارہ کسی اور لڑکی کے ساتھ ایسا کرنے کا نہ سوچے۔







