ادب کے ساتھ بے ادبی

ادب کے ساتھ بے ادبی
تحریر: رفیع صحرائی
آج کل ادب یعنی لٹریچر کے میدان میں بے ادبی کا کاروبار زور شور اور دھڑلے سے جاری ہے۔ ادب کی خدمت کے نام پر یہ بے ادبی ایسے لوگ کر رہے ہیں جن کا اس شعبے میں کوئی نام ہے نہ مقام۔ دعویٰ ادب کی خدمت کا کرتے ہیں، جبکہ حقیقت میں اس کام کو انہوں نے سستی شہرت کا ذریعہ اور پیسے کمانے کا کاروبار بنا رکھا ہے۔
ان ادب کے خادمین کا طریقہ واردات یہ ہے کہ فیس بک اور واٹس اپ گروپس میں اپنی آنے والی انتھالوجی کی کتاب کی تشہیر کرتے ہیں اور لکھاریوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی تحریریں انہیں بھیجیں۔ ان کی تحریریں پورے اہتمام کے ساتھ کتاب کی زینت بنائی جائیں گی۔
بات یہاں تک تو ٹھیک ہے، لیکن یہ بات ابھی ادھوری ہے۔ لکھنے والوں کو بتایا جاتا ہے کہ ان کی تحریر کی اشاعت کے بدلے میں انہیں صرف مبلغ اٹھارہ سو یا دو ہزار روپے ادا کرنے ہوں گے۔ جن کے عوض انہیں وہ کتاب ’’ مفت‘‘ بھیجی جائے گی۔ یہ بھی بڑی دلچسپ بات ہے کہ دو ہزار روپے کے عوض کتاب مفت دی جائے گی۔ یعنی کتاب کی کوئی قیمت وصول نہیں کی جائے گی۔ رہ گئے دو ہزار روپے تو وہ رقم کتاب کے لیے ممبرشپ فیس کی مد میں لی جائے گی۔ یعنی کان آگے سے پکڑو یا پیچھے کی طرف سے ہاتھ گھما کر، بات ایک ہی ہے۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی۔ لکھاریوں کو ایک مزید آفر یہ کی جاتی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو ’’ ادارے‘‘ کی طرف سے انہیں کتاب کے ساتھ ہی ’’ تعریفی سند‘‘ بھی ارسال کر دی جائے گی۔ اس کے لیے مبلغ تین سو روپے رجسٹریشن فیس کے ساتھ ہی بھیجنے ہوں گے۔ اس کے ساتھ ایک اور شان دار آفر یہ کی جاتی ہے کہ اگر لکھاری ’’ میڈل‘‘ بھی لینا چاہتا ہے تو اس کی مد میں مبلغ پانچ سو روپے ارسال کر دے۔ یوں ایک تحریر کی اشاعت کے بدلے ہر لکھاری سے مبلغ دو ہزار آٹھ سو روپے وصول کر لیے جاتے ہیں۔
یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ بڑے سے بڑے رائٹر کی ابتدائی تحریریں بھی ناپختہ ہوتی ہیں۔ کوئی اخبار یا رسالہ انہیں آسانی سے شائع نہیں کرتا۔ جبکہ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر نو آموز شاعر خود کو اقبالؒ اور غالب کی صف میں کھڑا دیکھتا ہے جبکہ ہر نثر نگار ابتدا میں خود کو اشفاق احمد یا احمد ندیم قاسمی کے ہم پلہ سمجھتا ہے۔ وہ ان مدیران کو ناقدر شناس سمجھتا ہے جو اس کی تحریریں شائع کر کے اپنے اخبار یا رسالے کی شہرت کو چار چاند نہیں لگا پاتے۔ ان کی کچی پکی تحریریں شائع کرانے کے جنون کا فائدہ انتھالوجی کے نام پر کتب شائع کرنے والے اٹھاتے ہیں اور معاوضہ لے کر ان کی تحاریر شائع کرتے ہیں۔
جہاں تک انتھالوجی کے مرتب یا مرتبین کی اپنی ادبی حیثیت کا تعلق ہے تو بدقسمتی سے ان میں سے اکثریت ایسے ہیروں کی ہوتی ہے جن کی اپنی تحریریں بھی اس قابل نہیں ہوتیں کہ کسی معیاری اخبار یا ادبی جریدے میں شائع ہو سکیں۔ ان کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی ناکام کھلاڑی کوچ بن جائے۔ آپ ان کی مرتب کی ہوئی انتھالوجی کے معیار کا اندازہ اسی سے لگا لیں کہ جب لکھاری پیسے دے رہا ہے تو اس کی تحریر شائع کرنے کے یہ پابند ہوتے ہیں چاہے وہ جیسی بھی ہو، چوری کی ہو یا انتہائی فضول ہو اسے ہر حال میں شائع ہونا ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ مرتب اس اہل بھی نہیں ہوتا کہ اس کی اصلاح کر سکے۔ ایسی کتابوں اور ان میں شامل مصنفین یا شعراء کی تخلیقات کے معیار پر بات کرنا ہی فضول ہے۔ ہمارے دوست زکیر احمد بھٹی اکثر کہا کرتے ہیں کہ ایسی انتھالوجیز شائع کرنے والے ادب کے نام پر بے ادبی کرتے ہیں۔ ان کا واحد مقصد سستی شہرت اور روپے کمانا ہے۔
انتھالوجی میں عام طور پر ساٹھ سے ستر تحاریر شائع کی جاتی ہیں۔ ہم ساٹھ ہی فرض کر لیتے ہیں۔ ان ساٹھ لوگوں سے قریباً ایک لاکھ ستر ہزار روپے اکٹھے کر لیے جاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ ایک سو کتب شائع کرائی جاتی ہیں جن پر کل لاگت تیس سے پینتیس ہزار روپے آتی ہے۔ بازار سے تیس چالیس روپے میں میڈل خریدا جاتا ہے جس پر اپنے نام نہاد ادارے کی طرف سے مصنف کے نام کی چِٹ چسپاں کر دی جاتی ہے۔ اوسطاً بیس سے پچیس روپے میں سند تیار ہو جاتی ہے۔ اس طرح کل لاگت چالیس ہزار روپے کے قریب پڑ جاتی ہے۔ ہم پچاس ہزار فرض کر لیتے ہیں۔ ساٹھ کتابوں کی پیکنگ اور کوریئر کا خرچہ بیس ہزار روپے لگا لیں۔ کل لاگت ستر ہزار سے زیادہ نہیں بنتی۔ یوں بیٹھے بٹھائے ایک لاکھ روپے انتھالوجی مرتب کرنے والے کی جیب میں خالص منافع چلا جاتا ہے جبکہ چالیس کتب بھی اس کے پاس بچ جاتی ہیں جنہیں بیچ کر وہ مزید کمائی کر لیتا ہے۔ شہرت مفت میں مل جاتی ہے۔ ہاں اس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ ساٹھ تحاریر معہ فیس ملنے کے بعد دیگر مصنفین سے معذرت کر لی جاتی ہے۔ اگر ایک سو تحریریں بھی مل گئیں تو خوشی سے قبول کر لی جاتی ہیں۔ جو تحریریں شامل ہونے سے رہ جائیں انہیں آئندہ مہینے دو مہینے بعد آنے والی انتھالوجی میں شامل کر لیا جاتا ہے۔
جس طرح ان پڑھ فلم سازوں کے آنے سے ہماری فلم انڈسٹری تباہ ہو گئی اور معیاری فلمیں آنا بند ہو گئیں، اسی طرح مصنفین سے پیسے لے کر انتھالوجی شائع کرنے والوں نے غیر معیاری انتھالوجیز کو فروغ دے کر ادب کا شدید نقصان کیا ہے اور مسلسل کر رہے ہیں۔





