شدّت پسندی کی روک تھام

شدّت پسندی کی روک تھام
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
کوئی شک نہیں کہ شدّت پسندی آج کی دنیا کے لیے ایک سنجیدہ اور ہمہ گیر خطرہ بن چکی ہے، تاہم اس کے تباہ کن اثرات ترقی پذیر ممالک میں کہیں زیادہ گہرے اور دیرپا ہیں۔ پاکستان جیسے معاشرے، جہاں معاشی عدم استحکام، سیاسی بے یقینی، سماجی ناہمواری اور کمزور ادارے پہلے ہی عوام کو دبا میں رکھے ہوئے ہیں، وہاں شدّت پسندی ایک ایسے ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے جو ریاست، سماج اور فرد تینوں کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
شدّت پسندی دراصل ایک ایسا فکری اور عملی رویّہ ہے جس میں فرد، گروہ یا ادارہ اپنی رائے، نظریے یا مفاد کو مطلق حق سمجھ بیٹھتا ہے اور دوسروں کے وجود، اختلاف یا سوال اٹھانے کے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے۔ یہ عدم برداشت رفتہ رفتہ مکالمے کی جگہ تشدد، جبر، نفرت اور طاقت کے استعمال میں بدل جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں شدّت پسندی کو اکثر صرف مذہبی انتہاپسندی تک محدود کر دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ مذہبی، سیاسی، سماجی، لسانی اور حتیٰ کہ ادارہ جاتی سطح پر بھی موجود ہے۔
پاکستان میں شدّت پسندی کے جنم لینے کی کئی وجوہات ہیں، مگر ان میں سب سے نمایاں کردار ریاستی کمزوری، ناقص حکمرانی اور انصاف کی عدم فراہمی کا ہے۔ جب شہری یہ محسوس کرے کہ اس کے بنیادی مسائل سننے والا کوئی نہیں، قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہے، اور عدالتی انصاف برسوں نہیں بلکہ دہائیوں میں ملتا ہے، تو مایوسی غصّے میں بدلتی ہے اور یہی غصّہ شدّت پسند سوچ کے لیے زرخیز زمین فراہم کرتا ہے۔
ہمارے تعلیمی نظام کا کردار بھی اس حوالے سے سوالیہ نشان ہے۔ رٹّا سسٹم، تنقیدی سوچ کی عدم حوصلہ افزائی، تاریخ کا یک رخا بیانیہ اور برداشت و مکالمے کی تربیت کا فقدان نئی نسل کو شدت کی طرف دھکیل رہا ہی۔ طالب علم سوال کرنے کے بجائے ماننے کا عادی بنا دیا جاتا ہے، اور یہی روش آگے چل کر فکری جمود اور انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے۔
معاشی ناہمواری بھی شدّت پسندی کا ایک بڑا محرک ہے۔ بیروزگاری، مہنگائی، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم اور طبقاتی فرق نوجوانوں میں احساسِ محرومی پیدا کرتا ہے۔ جب ایک نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ محنت کے باوجود اسے عزت، روزگار اور مستقبل کی ضمانت نہیں مل رہی، تو وہ کسی بھی ایسے بیانیے کا شکار ہو سکتا ہے جو اسے فوری شناخت، مقصد اور طاقت کا احساس دے چاہے وہ بیانیہ کتنا ہی خطرناک کیوں نہ ہو۔
سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک طرف یہ اظہارِ رائے کا مثر ذریعہ ہے، تو دوسری طرف نفرت انگیز مواد، جھوٹی خبروں، سازشی نظریات اور اشتعال انگیز بیانیوں کی آماجگاہ بھی بن چکا ہے۔ حکومتی پالیسیوں اور مقتدر حلقوں کے خلاف شدید تنقید، جو جمہوری معاشروں میں ایک صحت مند عمل ہے، ہمارے ہاں اکثر بداعتمادی، نفرت اور محاذ آرائی میں بدل جاتی ہے، کیونکہ اس تنقید کے جواب میں مکالمہ نہیں بلکہ خاموشی یا جبر دیکھنے کو ملتا ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں شدّت پسندی کی روک تھام کے لیے نہ تو کوئی جامع قومی بیانیہ موجود ہے اور نہ ہی ریاستی سطح پر سنجیدہ منصوبہ بندی دکھائی دیتی ہے۔ ردِعمل کے طور پر آپریشنز، وقتی اقدامات اور بیانات تو آتے ہیں، مگر مسئلے کی جڑ یعنی فکری، سماجی اور معاشی عوامل کو حل کرنے کی کوشش کم ہی نظر آتی ہے۔
شدّت پسندی کی روک تھام کے لیے سب سے پہلے برداشت اور مکالمے کو فروغ دینا ہوگا۔ اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بلکہ سماجی صحت کی علامت سمجھنا ہوگا۔ تعلیمی نصاب میں تنقیدی سوچ، انسانی حقوق، آئینی آگاہی اور اخلاقی تربیت کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ طاقت نہیں، دلیل اہم ہے۔
ریاست کو انصاف کی فوری اور یکساں فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔ جب شہری کو یہ یقین ہو کہ اس کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی، تو وہ قانون اپنے ہاتھ میں لینے یا انتہاپسند راستے اختیار کرنے پر مجبور نہیں ہوگا۔ معاشی مواقع کی منصفانہ تقسیم، نوجوانوں کے لیے روزگار، اور محروم علاقوں کی ترقی شدّت پسندی کے خلاف موثر ہتھیار ثابت ہو سکتے ہیں۔میڈیا، بالخصوص سوشل میڈیا، کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ آزادی اظہار کے ساتھ ساتھ اخلاقی حدود اور سماجی ذمہ داری کا شعور ناگزیر ہے۔ ریاست کا کام سنسر شپ نہیں بلکہ سچ، شفافیت اور بروقت معلومات کی فراہمی ہونا چاہیے، تاکہ افواہوں اور نفرت انگیز بیانیوں کی گنجائش کم ہو۔
آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ شدّت پسندی صرف کسی ایک طبقے، فرقے یا نظریے کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پورے معاشرے کا اجتماعی بحران ہے۔ اگر ریاست، ادارے اور عوام مل کر اس کا سامنا نہیں کریں گے، تو یہ آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لیتی رہے گی۔ شدّت پسندی کی روک تھام کے لیے ہمیں طاقت نہیں، حکمت جبر نہیں، انصاف اور خاموشی نہیں، مکالمہ اختیار کرنا ہوگا تبھی ایک پُرامن، متوازن اور روشن پاکستان کا خواب حقیقت بن سکتا ہے۔





