Column

باد دگر گدھے کا گوشت و ٹھنڈی مرغی

باد دگر گدھے کا گوشت و ٹھنڈی مرغی
صورتحال
سیدہ عنبرین
چائنہ سی، مڈل ایسٹ اور دیگر سمندروں میں مخالفین پر نظر رکھنے کی غرض سے موجود امریکی بحری بیڑے اب کسی اور یلغار کیلئے کسی اور طرف دیکھ رہے ہیں، لیکن جارح طاقت کو ایران پر حملے سے قبل ایک اور حملے کا سامنا ہے، جو اس پر آسمان سے ہوا ہے۔ نصف سے زیادہ امریکی ریاستیں موسمی طوفان میں گر چکی ہیں۔ چوبیس ریاستوں میں برف برسنے کے بعد یہ ریاستیں مکمل طور پر منجمد ہو گئی ہیں، ان ریاستوں کے باسی گھروں میں بند ہو کر رہ گئے ہیں۔ شدید برف باری کی اطلاع آئی تو لوگ سپر سٹورز اور مارکیٹوں کی طرف بھاگے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ شاید وہ آئندہ کسی روز تک گھروں سے نہ نکل سکیں، دھڑا دھڑ خریداری سے آج مارکیٹیں اور سٹورز یوں ویران پڑے ہیں جیسے یہاں جنات آئے ہوں اور سب کچھ لے اڑے ہوں۔ نصف سے زیادہ امریکہ میں اب اشیائے صرف کی سپلائی معطل ہو چکی ہے، کیونکہ گزر گاہیں بیس، بیس انچ برف سے ڈھکی ہیں۔ نیو یارک اور نواحی علاقوں کا درجہ حرارت منفی پچاس تک گر گیا، جو حیرت ناک ہے۔ برف پڑنے کے بعد چلنے والی تیز ہوائوں نے سردی کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ ٹیکساس اور اوکلو ہامہ کی ریاستیں زیادہ متاثر دکھائی دیتی ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں اس وقت بیس لاکھ افراد بجلی سے محروم ہو چکے ہیں ، گو متعلقہ ادارے بجلی کی سرعت سے جنگی بنیادوں پر بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں، لیکن برف باری اور تیز بارش ان کے راستے کی بڑی رکاوٹ ہے۔ چوبیس سے زیادہ ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کی جا چکی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بیشتر علاقوں میں ہلاکتیں حادثات اور گھروں کو گرم رکھنے والے نظام کے بند ہونے سے ہوئیں۔ شدید برف باری کے سبب ایئر ٹریفک بری طرح متاثر ہوئی، چودہ ہزار سے زیادہ پروازیں منسوخ ہونے سے مختلف ریاستوں کے ایئر پورٹس مسافروں سے بھرے ہیں اور مشکلات کا شکار ہیں۔ پروازیں منسوخ ہونے سے فقط چند روز میں مختلف ایئر لائنز کو کئی ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر پروازیں منسوخ ہونے کے بعد مسافروں کو ٹھہرانے اور طعام پر اٹھنے والے اخراجات بھی لاکھوں ڈالر میں ہیں۔
یورپی ممالک بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں، امریکہ کی طرح انہیں بھی برفانی طوفانوں کا سامنا ہے، جو کوئی نئی بات نہیں، امریکہ اور یورپی ممالک سے ایشیائی ممالک کو سفر کرنے والے بیشتر ممالک مڈل ایسٹ پہنچ کر دوسری پرواز حاصل کرتے ہیں، یوں ابوظہبی، دبئی اور شارجہ کے ایئر پورٹس پر ہجوم میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایشیائی ممالک میں بھی سردی کی لہر ہے، جس کے سبب پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔ افغانستان کے بعض علاقے برفباری کی زد میں ہیں، جہاں خاصی تباہی ہوئی ہے، اب تک ستر افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ افراد اپنے آپ کو شدید سردی سے بچانے کیلئے سامان کے نہ ہونے سے ہلاک ہو گئے، جبکہ حادثات اور عمارتیں گرنے سے ایک سو پچاس افراد زخمی ہوئے۔ افغانستان میں قندھار سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں پانچ سو سے زیادہ مکانات گھر گئے، سڑکیں بند ہو گئیں، ذرائع آمدورفت بند ہونے سے سامان خوراک برف سے متاثرہ علاقوں میں نہیں پہنچ رہا، جس سے مزید ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ افغانستان کے دیہی علاقوں میں گھروں کو گرم رکھنے کیلئے لکڑی کا استعمال ہوتا ہے، بارشوں کے سبب ہر طرف لکڑی بھیگ چکی ہے، یوں حرارت حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ اب کسی کام کا نہیں، گھروں میں کھانا تیار کرنے کیلئے بھی انحصار لکڑی پر کیا جاتا ہے، کیونکہ کوئلہ نسبتاً مہنگا ہے اور ہر شخص اسے خریدنے اور استعمال کرنے کی اسطاعت نہیں رکھتا۔ افغانستان کے ہسپتالوں میں ضروری ادویات کی کمی ہے، جس سے سردی کے سبب بیمار افراد کو علاج کی سہولتیں نہیں پہنچائی جا سکتیں۔ ایشیائی ممالک میں سردی کی شدید لہر سے ایران بھی متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جبکہ ایران کی طرف سے ایک موسمی ریلا بلوچستان میں داخل ہوا ہے، جس نے بلوچستان کے نصف سے زیادہ علاقے کو منجمد کر دیا ہے۔ کوئٹہ، قلات، مستونگ اور مسلم باغ میں برفباری سے زندگی معطل ہے، لیکن ایمرجنسی جیسی صورتحال نہیں، ان ہوائوں سے پنجاب میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ کئی برس بعد امسال سردی نے اپنا رنگ دکھایا ہے، ورنہ اس سے قبل تو یہ تاثر عام تھا کہ پنجاب میں سردی ختم ہوتی جا رہی ہے اور اب سردی فقط ایک ماہ تک محدود ہو کر رہ گئی، وہ بھی ایسی کہ ایک ہلکے سے کوٹ یا سویٹر میں گزارا ہو جائے، پنجاب میں بارشیں سر پر ہیں، سردی بڑھے گی، صوبہ خیبر میں موسم سرد ہے، کاغان، مری، گلیات میں برفباری خوب ہوئی، مری میں آنے والے برفانی طوفان کا اثر راولپنڈی، اسلام آباد تک نمایاں تھا، سڑکیں، راستے بند رہے، مگر اب کھل چکے ہیں۔ وادی لیپا میں پاک فوج کے ہیلی کاپٹر امدادی کاموں میں مصروف رہے، لیکن ہمیشہ کی طرح برف باری کی زد میں آنے والے ہر علاقے میں وسائل کم اور مسائل زیادہ تھے۔
کراچی شہر جہاں عموماً پنجاب جیسی سردی نہیں پڑتی، اس مرتبہ شدید سرد ہوائوں کی لپیٹ میں ہے، مختلف سمتوں سے سمندر کے پانی کو چھو کر آنے والی ہوا نے سردی کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ ہر شخص اسی طرح ٹھٹھرا ہوا اور ہاتھ بغل میں دیئے نظر آتا ہے، جیسے صوبہ خیبر، صوبہ بلوچستان اور صوبہ پنجاب ہیں۔
شدید سردی اور بعض علاقوں میں برف باری کے باوجود ایک طبقہ ایسا ہے جو اس موسم سے بالکل متاثر نظر نہیں آتا، وہ شادی سیزن کے عروج پر شادی کی تقریبات میں شریک خواتین ہیں، جو احتیاطاً گھروں سے ایک شال تو لے کر آئی تھیں لیکن شادی کی تقریب میں پہنچنے کے بعد کسی کو اوڑھے نہیں دیکھا، اکثر خواتین دلہن سے مقابلہ کر رہی تھیں کہ اگر اسے سردی نہیں لگ رہی تو پھر سردی ہمارا بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
سرد ترین موسم میں تنخواہ دار طبقہ بے حد پریشان، کاروباری طبقہ بالخصوص کھانے پکانے اور کھانا سپلائی کرنے والے بے حد خوش ہیں، ان کا بھی سیزن ہے، یہی حال ملبوسات کی انڈسٹری سے تعلق رکھنے والوں کا ہے۔ ایک نمبر سے لے کر پانچ نمبر تک کا مال خوب بک رہا ہے۔ طلباء و طالبات سردی کی شدت میں اضافے کے بعد تعلیمی ادارے بند ہونے پر خوش ہیں۔ حکومت پاکستان بھی ان ایام میں کئی خوشیاں سمیٹ چکی ہے، کچھ کا تعلق بین الاقوامی امور سے ہے، جبکہ خوشی کا ایک پہلو ملکی اور بین الاقوامی تجارت سے جڑا ہے۔ اس حوالے سے حاصل کردہ کامیابی کا اثر پاکستان کے ہر گھر تک پہنچے گا۔ پاکستان سے چین کو ہر ماہ پچاس کنٹینر گدھے کا گوشت برآمد کیا جا رہا ہے، جو برآمد نہیں ہو سکے گا، وہ ’’ لوکل ضرورت‘‘ پوری کرے گا۔ گوشت خوری سے ہاتھ کھینچ لینے میں بہتری ہے، ٹھنڈی مرغی کی سپلائی عروج پر ہے۔

جواب دیں

Back to top button