ورلڈ مائنس ون

’ ورلڈ مائنس ون‘
قادر خان یوسف زئی
ٹرمپ کا ‘بورڈ آف پیس’ اور عالمی نظامِ حکمرانی میں آنے والی حالیہ تبدیلیاں محض ایک وقتی سیاسی لہر نہیں بلکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد وضع کردہ کثیر القومی نظم و ضبط کے ڈھانچے کو جڑوں سے ہلانے کی ایک شعوری اور دور رس کوشش ہے۔ 7جنوری 2026ء کو دستخط کیے گئے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے امریکہ کا 66بین الاقوامی تنظیموں سے اخراج اور محض پندرہ دن بعد ڈیووس کے پُرشکوہ ایوانوں میں ‘بورڈ آف پیس’ کا قیام، عالمی سیاست میں ایک ایسے نئے باب کا آغاز ہے جہاں کثیر الجہتی کی جگہ منتخب شراکت داری لے رہی ہے۔ یہ حکمتِ عملی اس امر کا واضح اعلان ہے کہ واشنگٹن اب پرانے بوجھل اداروں میں اصلاحات کے بجائے ایک ایسا متوازی ڈھانچہ کھڑا کرنے کا خواہاں ہے جو براہِ راست امریکی ترجیحات اور مخصوص جیو پولیٹیکل مفادات کے تابع ہو۔ اس بورڈ کی تشکیل کو محض غزہ کی تعمیرِ نو تک محدود دیکھنا ایک فاش غلطی ہوگی، درحقیقت یہ اقوامِ متحدہ کی قانونی حیثیت کو کمزور کرنے اور ایک ‘ڈائریکٹڈ گورننس’ کی طرف پیش قدمی ہے جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
اس نئے ادارے کی ساخت پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی جمہوری مشاورت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک فردِ واحد کے وژن کا عکس ہے۔ گیارہ صفحات پر مشتمل چارٹر ٹرمپ کو وہ تمام اختیارات دیتا ہے جو کسی بھی بین الاقوامی ادارے کے سربراہ کے لیے خواب ہو سکتے ہیں۔ ذیلی اداروں کی تشکیل سے لے کر فیصلوں کو ویٹو کرنے تک، تمام ڈوریاں ایک ہی ہاتھ میں ہیں۔ اس بورڈ میں شمولیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی بھاری رقم کی شرط نے اسے غریب ممالک کی رسائی سے دور کر کے صرف دولت مند اور بااثر ریاستوں کا ایک خصوصی کلب بنا دیا ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا جیسے ممالک کی شمولیت سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ امریکہ مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا میں اپنے نئے اتحادیوں کے ذریعے ایک ایسا بلاک بنا رہا ہے جو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ‘شور شرابے’ والی جمہوریت سے پاک ہو۔
بورڈ آف پیس تکنیکی طور پر اقوامِ متحدہ کا متبادل نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کے پاس وہ بین الاقوامی میثاق اور چیپٹر VIIجیسے اختیارات نہیں جو عالمی سطح پر پابندیاں لگانے یا فوجی مداخلت کو قانونی جواز فراہم کر سکیں۔ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادیں عالمی قانون کا حصہ ہوتی ہیں، جبکہ بورڈ کے فیصلے صرف اس کے ممبران تک محدود ہیں۔ تاہم، سیاسی محاذ پر یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کے لیے ایک مہلک ہتھیار ثابت ہو رہا ہے۔ جب دنیا کی سب سے بڑی طاقت 31یو این اداروں کی فنڈنگ روک دیتی ہے اور یو این ویمن جیسے اداروں کو مالی بحران میں دھکیل دیتی ہے، تو یہ دراصل اس عالمی ساکھ پر حملہ ہوتا ہے جس پر موجودہ عالمی نظام کھڑا ہے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جسے ماہرین ‘ورلڈ مائنس ون’ قرار دے رہے ہیں، جہاں امریکہ عالمی نظام کا حصہ رہتے ہوئے بھی اس سے باہر رہ کر اپنی من مانی کرنا چاہتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اقدامات ‘یک قطبی دنیا’ کو مضبوط کریں گے؟ یہاں تضاد نمایاں ہے۔ اگرچہ امریکہ آج بھی فوجی اور معاشی طور پر سب سے آگے ہے، لیکن عالمی جی ڈی پی میں اس کا حصہ 1950ء کے 88فیصد سے گر کر 57 فیصد رہ گیا ہے۔ ٹرمپ کی یہ پالیسی امریکہ کو ایک عالمگیر رہنما کے بجائے ایک ‘سلیکٹو پاور’ بنا رہی ہے۔ جب آپ خود کو عالمگیر اداروں سے الگ کرتے ہیں، تو آپ دوسرے ممالک جیسے چین اور روس کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے اپنے الگ متوازی ادارے بنائیں۔ یہ یک قطبی نظام کی مضبوطی نہیں بلکہ عالمی نظام کا بکھرائو ہے، جہاں طاقت ایک مرکز کے بجائے مختلف ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گی۔
جہاں تک ان پالیسیوں کے مستقل ہونے یا ‘لاک اِن’ ہونے کا تعلق ہے، تو امریکی آئین کے مطابق صدر کے انتظامی احکامات کو اگلا صدر ایک قلم کی جنبش سے ختم کر سکتا ہے، جیسا کہ بائیڈن نے اپنے پہلے سو دنوں میں ٹرمپ کی 24 پالیسیاں پلٹ کر دکھایا تھا۔ لیکن بورڈ آف پیس کے معاملے میں ‘پاتھ ڈیپینڈینسی’ کا خطرہ موجود ہے۔ اگر یہ بورڈ غزہ یا دیگر تنازعات میں تعمیرِ نو کے فنڈز کا واحد ذریعہ بن گیا، تو مستقبل کی کسی بھی امریکی حکومت کے لیے اسے ختم کرنا سفارتی خودکشی کے مترادف ہوگا کیونکہ اس سے درجنوں اتحادی ممالک کے مفادات جڑے ہوں گے۔ اداروں کو توڑنا آسان ہے، لیکن ان کے ٹوٹنے سے پیدا ہونے والے خلا کو بھرنا اور کھویا ہوا اعتماد بحال کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور ہے۔ بالآخر، ٹرمپ کا یہ نیا تجربہ عالمی سیاست کو ایک ایسے موڑ پر لے آیا ہے جہاں اب دنیا ‘قانون کی حکمرانی’ کے بجائے ‘طاقتور کی ضرورت’ کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔
اس نئے سیٹ اپ میں پاکستان کی شمولیت جہاں اسلام آباد کے لیے سفارتی مجبوری اور اقتصادی امید کی کرن نظر آتی ہے، وہیں یہ ایک خطرناک جوا بھی ہے۔ جب آپ ایک ایسے بورڈ کا حصہ بنتے ہیں جو اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور بین الاقوامی چارٹر کو بائی پاس کرنے کے لیے بنایا گیا ہو، تو آپ بالواسطہ طور پر ان اداروں پرا ثر انداز ہونے کا کردار بھی ادا کر رہے ہوتے ہیں جو کشمیر اور فلسطین جیسے تنازعات پر آپ کی آواز بن سکتے تھے۔ تاہم دوسری جانب صدر ٹرمپ نے بھارت کو بھی بورڈ میں شمولیت کی دعوت دے کر انہیں بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ اگر بورڈ آف پیس کے سامنے کشمیر کا معاملہ آگیا تو وہ کیا کرے گا اور یہی بورڈ مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کے امیدوں پر پورا نہ اتر سکا تو حکومت و ریاست کہاں کھڑی ہوگی۔ ٹرمپ کا یہ نیا یک قطبی نظام درحقیقت ”آئسولیشنزم” نہیں بلکہ ”سلیکٹیو انگیجمنٹ” ہے، یعنی امریکہ صرف وہیں رہے گا جہاں اس کا حکم چلے گا اور باقی دنیا کو بے یارومددگار چھوڑ دیا جائے گا۔ یہ صورتحال مستقبل میں ایک خطرناک مثال قائم کرے گی کیونکہ اگرچہ صدارتی حکم ناموں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے، لیکن جب اداروں کی ساکھ ایک بار مجروح ہو جائے اور مالیاتی ڈھانچے متبادل راستے اختیار کر لیں، تو پرانے نظام کی بحالی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ یہ نیا ورلڈ آرڈر قانون کی حکمرانی کے بجائے طاقت اور سرمائے کی حکمرانی کا پیش خیمہ ہے جو کمزور ریاستوں کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہوگا۔





