پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا اعتراف

پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا اعتراف
پاکستان نے اپنی کامیاب سفارت کاری کی بدولت حالیہ برسوں میں ایسا مقام حاصل کیا ہے، جس پر نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی حکمت عملی اور سیاسی بصیرت کو سراہا جارہا ہے۔ گزشتہ روز بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور عالمی دبائو کے بیچ میں مہارت کے ساتھ اپنی ترجیحات کو آگے بڑھایا اور علاقائی سطح پر اپنی اہمیت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ مئی 2025ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے دوران امریکا نے ثالثی کی پیشکش کی تھی، اس پر بھارت کا متنازع کردار کُھل کر سامنے آیا۔ اس فیصلے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو گہری منجمد کیفیت میں دھکیل دیا جبکہ امریکا کے قریبی اتحادی کے طور پر بھارت کو نہ تو QUADسمٹ میں اہم مقام ملا اور نہ ہی صدر ٹرمپ کا دورہ اور تجارتی ریلیف حاصل ہوسکا۔ اس صورت حال نے پاکستان کے لیے ایک نادر موقع پیدا کیا، جسے اسلام آباد نے بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے اپنے مفادات اور علاقائی موقف کو مضبوط کیا۔پاکستان نے اس بحران کو صرف ایک مسئلہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک سفارتی موقع کے طور پر استعمال کیا۔ صدر ٹرمپ کے ثالث کردار کو سراہتے ہوئے اسلام آباد نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت دی۔ چار روزہ پاک بھارت کشیدگی کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو وائٹ ہائوس مدعو کیا اور ستمبر 2025ء میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کا وائٹ ہاس کا دورہ اس بات کا مظہر تھا کہ پاکستان نے خطے میں استحکام کے لیے امریکا کے ساتھ اپنا اعتماد بڑھایا۔ اس ملاقات میں محض سیکیورٹی کے معاملات ہی نہیں، بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی ترقی کے اہم پہلوئوں پر بھی بات چیت ہوئی۔ دی ڈپلومیٹ کے مطابق، امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی مضبوطی کے نتیجے میں امریکا نے بلوچ لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جب کہ بھارت پر تجارتی دبائو کے طور پر 50فیصد ٹیرف عائد کیا گیا۔ اس اقدام سے بھارت کو سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا اور اس کی عالمی ساکھ پر بھی اثر پڑا۔ پاکستان نے اپنی اسٹرٹیجک اہمیت کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ اسے بڑھایا بھی۔ امریکا کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون دوبارہ بحال ہوا اور پرانے تعلقات کو نئی جان ملی۔ جولائی 2025ء میں طے پانے والے تجارتی معاہدے کے تحت امریکی کمپنیاں پاکستان میں طویل المدتی سرمایہ کاری کر رہی ہیں، جس سے معیشت کو مضبوط بنیاد مل رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا اور پاکستان مل کر ملک کے بڑے تیل ذخائر کو ترقی دیں گے اور دسمبر 2025ء میں پاکستان نے ایف 16طیاروں کی اپ گریڈ کے لیے امریکی منظوری حاصل کی، جس کی مجموعی مالیت 680ملین ڈالر ہے۔ یہ اقدامات پاکستان کی فوجی اور اقتصادی طاقت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ پاکستان نے اپنے بین الاقوامی تعلقات میں توازن قائم رکھتے ہوئے چین کے ساتھ بھی سفارتی تعلقات کی تجدید پر زور دیا، جو خطے میں استحکام اور طاقت کے توازن کے لیے اہم تھا۔ اس طرح اسلام آباد نے نہ صرف امریکا بلکہ چین کے ساتھ بھی اپنی سفارتی پوزیشن مضبوط کی، جس سے پاکستان عالمی سطح پر ایک قابل بھروسہ شراکت دار کے طور پر ابھرا۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کی دانش مندانہ سفارت کاری نے خطے میں اس کی سیاسی اور اقتصادی طاقت کو بڑھایا اور علاقائی چیلنجز کو اپنے فائدے میں بدلنے کا موقع فراہم کیا۔ پاکستان نے صرف اپنے ملک کے مفادات کی حفاظت نہیں کی بلکہ خطے میں استحکام، تعاون اور ترقی کی راہیں بھی ہموار کیں۔ جنگ مئی کے دوران پاکستان نے اپنے موقف اور سفارتی مہارت سے بھارت کو عالمی سطح پر تنہائی، تجارتی دبا اور امریکی ناراضی کے سامنے لا کھڑا کیا۔ یہ سب کچھ پاکستان کی سفارتی بصیرت اور عالمی اسٹرٹیجک سوچ کا مظہر ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ عقل مندی، منصوبہ بندی اور موثر سفارت کاری کے ذریعے نہ صرف عالمی تعلقات میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھایا جاسکتا ہے بلکہ اپنے ملک کی معیشت، سیکیورٹی اور بین الاقوامی حیثیت کو بھی مستحکم بنایا جاسکتا ہے۔ آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے نہ صرف امریکا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنایا بلکہ بھارت کے رویے کو بھی عالمی سطح پر بے نقاب کیا۔ یہ پیش رفت اسلام آباد کی دانش مندانہ قیادت، خطے کی سمجھ اور عالمی سیاست میں اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا روشن ثبوت ہے۔ پاکستان نے اس تجربے سے یہ سبق بھی دیا کہ سخت حالات میں درست حکمت عملی اور صبر سے مسائل کو مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی یہ سفارتی کامیابی نہ صرف مستقبل کے لیے راہیں ہموار کرے گی بلکہ خطے میں پاکستان کی حیثیت اور اثر و رسوخ کو بھی مزید مستحکم کرے گی۔ دی ڈپلومیٹ کی رپورٹ یہ واضح کرتی ہے کہ اسلام آباد کی حکمت عملی نے عالمی تعلقات میں نئے معیار قائم کیے ہیں اور پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جو اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ خطے میں استحکام اور ترقی کے لیے بھی فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔
فتنہ الہندوستان کے تین دہشتگرد ہلاک
بلوچستان کے ضلع پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے خفیہ اطلاع پر کی گئی کامیاب کارروائی ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد میں کسی قسم کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔ اس کارروائی میں بھارتی حمایت یافتہ تین دہشت گردوں کی ہلاکت نہ صرف ایک بڑی آپریشنل کامیابی ہے بلکہ یہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے عناصر کے لیے ایک واضح اور دوٹوک پیغام بھی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر عمل میں لائی گئی۔ سیکیورٹی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت اور موثر حکمت عملی کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد مقامی دہشت گردوں کے سرغنہ فاروق عرف سورو سمیت عدیل اور وسیم مارے گئے۔ یہ وہ عناصر تھے جو نہ صرف علاقے میں بدامنی پھیلانے میں سرگرم تھے بلکہ معصوم شہریوں اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی بھی کر رہے تھے۔کارروائی کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولا بارود اور دھماکا خیز مواد کی برآمدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ گروہ منظم دہشت گردی میں ملوث تھا۔ ایسے شواہد ایک بار پھر اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ بلوچستان میں بدامنی محض داخلی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے بیرونی سرپرستی اور منظم منصوبہ بندی کارفرما ہے۔ بھارت کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ حمایت خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے، جسے عالمی برادری کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ بلوچستان طویل عرصے سے دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بیرونی مداخلت کا شکار رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں سیکیورٹی فورسز کی موثر کارروائیوں نے ان عناصر کی کمر توڑ دی ہے۔ پنجگور میں ہونے والی یہ کارروائی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو اس بات کی عکاس ہے کہ ریاست نہ صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کی نشان دہی کررہی ہے بلکہ ان کے خلاف بروقت اور موثر کارروائی بھی عمل میں لا رہی ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف عسکری کارروائیوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ بلوچستان کے عوام کی معاشی ترقی، تعلیم، روزگار اور سیاسی شمولیت کو یقینی بنانا بھی ناگزیر ہے۔ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ عوام کے اعتماد کو بھی مضبوط کیا جائے۔ آخر میں، پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی قابلِ تحسین ہے۔ یہ کارروائی اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ ریاستی اداروں کی یہ قربانیاں اور کوششیں ملک کے امن، استحکام اور خودمختاری کے تحفظ کی ضمانت ہیں اور قوم کو چاہیے کہ اس جدوجہد میں اپنی محافظوں کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرے۔





