ٹرمپ بورڈ آف پیس یا امت کے خلاف عالمی منصوبہ؟

ٹرمپ بورڈ آف پیس یا امت کے خلاف عالمی منصوبہ؟
تحریر : انجینئر بخت سید یوسفزئی
ٹرمپ بورڈ آف پیس اور اس میں مسلم ممالک کی شمولیت دراصل ایک ایسے عالمی منصوبے کا حصہ ہے جسے امن کے خوبصورت نام کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے، مگر اس کے پیچھے چھپے عزائم نہ صرف مشکوک ہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے مستقبل کے لیے خطرناک بھی ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب بھی بڑی طاقتیں امن کی بات کرتی ہیں تو اصل مقصد کمزور اقوام کو اپنے مفادات کے تابع بنانا ہوتا ہے، اور یہی کھیل ایک بار پھر نئے انداز میں کھیلا جا رہا ہے۔ یہ بورڈ دراصل کسی حقیقی امن کے لیے نہیں بلکہ خطے میں طاقت کا توازن اسرائیل کے حق میں مکمل طور پر تبدیل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ حماس اور حزب اللہ جیسی مزاحمتی قوتوں کو ختم کر کے فلسطینی عوام کو ہمیشہ کے لیے بے بس بنا دیا جائے، تاکہ اسرائیل کو کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مسلم ممالک کی اس بورڈ میں شمولیت سب سے زیادہ افسوسناک پہلو ہے، کیونکہ یہی ممالک ہیں جو خود کو امتِ مسلمہ کا محافظ کہتے رہے ہیں۔ مگر عملی طور پر یہی حکمران اپنے ذاتی اقتدار، امریکی خوشنودی اور ڈالرز کی خاطر فلسطین کی مسئلے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہی ممالک متحد ہو جائیں تو کیا اسرائیل اور امریکہ اکیلے اتنی بڑی امت کا مقابلہ کر سکتے ہیں؟
امریکہ اور اسرائیل کا اصل مقصد یہ ہے کہ اپنی فوج اور بجٹ استعمال کیے بغیر مسلم دنیا کی فوج اور وسائل کو اپنی مفادات کے لیے استعمال کیا جائے۔ یعنی مسلمان اپنے ہی بھائیوں کے خلاف لڑیں، اپنے ہی وسائل خرچ کریں اور آخر میں فائدہ امریکہ اور اسرائیل کو پہنچے۔ یہ جدید دور کی غلامی کی سب سے واضح مثال ہے۔
ٹرمپ بورڈ آف پیس کے ذریعے ایک ایسا ماحول بنایا جا رہا ہے جس میں اسرائیل کو واحد ریاست تسلیم کروانے کو ایک معمول کی بات بنا دیا جائے۔ میڈیا، سفارتی بیانات اور عالمی فورمز پر آہستہ آہستہ یہی بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ امن کا واحد راستہ اسرائیل کو قبول کرنا ہے، چاہے اس کے بدلے فلسطینیوں کا وجود ہی کیوں نہ مٹ جائے۔
یہ کوئی نیا کھیل نہیں، اس سے پہلے بھی یہی طریقہ استعمال کیا گیا۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے، مگر نہ کوئی عالمی بورڈ بنا، نہ کوئی طاقتور ملک واقعی حرکت میں آیا۔ کیونکہ وہاں مسلمانوں کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں تھی، وہاں صرف مفادات کا کھیل نہیں تھا۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آج مسلم دنیا میں ایمان سے زیادہ اہمیت اقتدار اور کرنسی کو دی جا رہی ہے۔ ہر حکمران کی کوشش یہی ہے کہ وہ خود کو بہترین امریکی اتحادی ثابت کرے، تاکہ اس کی حکومت محفوظ رہے، چاہے اس کے بدلے وہ اپنے عوام کے جذبات اور دینی ذمہ داریوں کو ہی کیوں نہ قربان کر دے۔
پاکستان کی مثال اس حوالے سے بہت واضح ہے، جہاں تاریخ میں پہلی بار فلسطین کی حمایت میں عوامی ریلیوں پر پابندی لگائی گئی، لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور فلسطینی جھنڈے چھینے گئے۔ یہ سب کچھ کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک منظم پالیسی کے تحت کیا گیا تاکہ عوام کو آہستہ آہستہ ذہنی طور پر تیار کیا جا سکے۔
پارلیمنٹ میں فلسطین کا نام لینے سے گریز کیا گیا، عالمی فورمز پر خاموشی اختیار کی گئی اور عوام سے مسلسل حقائق چھپائے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی پارلیمنٹ کی کارروائی اور اسرائیلی وزیراعظم کی تقاریر کو براہ راست نشر کیا گیا، جو ماضی میں کبھی نہیں ہوا تھا۔
یہ سب دراصل ایک پیغام تھا کہ اب اسرائیل کو دشمن نہیں بلکہ ایک معمول کی ریاست کے طور پر دیکھو۔ میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اس کے فائدے ہی فائدے ہیں، جیسے تجارت، ٹیکنالوجی اور عالمی حمایت۔
حامد میر جیسے سینئر صحافیوں نے خود اعتراف کیا کہ عمران خان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے اندرونِ ملک دبائو ڈالا گیا۔ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ یہ مسئلہ صرف بیرونی نہیں بلکہ اندرونی طاقتوں کا بھی ہے جو عالمی ایجنڈے کا حصہ بن چکی ہیں۔
اگر عمران خان اس وقت حکومت میں ہوتے اور اس بورڈ کی مخالفت نہ کرتے تو واقعی یہ ثابت ہو جاتا کہ وہ بھی دوسرے حکمرانوں کی طرح امریکی غلام ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے کم از کم اس دبائو کے سامنے کھڑے ہونے کی کوشش کی اور اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا۔
عمران خان واحد مسلم لیڈر تھے جنہوں نے کھل کر فلسطین کے لیے آواز بلند کی، OICکو فعال بنانے کی کوشش کی اور امتِ مسلمہ کو متحد کرنے کا خواب دکھایا۔ انہوں نے تین اجلاس بلائے اور عالمی سطح پر اسرائیل پر دبا ڈالنے کی کوشش کی۔
یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہو کہ انہی کوششوں کے نتیجے میں کچھ عرصے کے لیے جنگ بندی ممکن ہوئی۔ اگرچہ یہ مستقل حل نہیں تھا مگر کم از کم فلسطینیوں کو دنیا کی توجہ ضرور ملی، جو آج تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ حماس کو ختم کرنے کا بیانیہ عام کیا جا رہا ہے، فلسطینی مزاحمت کو دہشت گردی قرار دیا جا رہا ہے اور اسرائیل کو مظلوم ثابت کیا جا رہا ہے۔ یہ وہی پرانا پروپیگنڈا ہے جو ہر طاقتور کمزور کے خلاف استعمال کرتا ہے۔
اصل خطرہ یہ ہے کہ اگر حماس اور دیگر مزاحمتی قوتیں ختم ہو گئیں تو فلسطینیوں کے پاس مزاحمت کا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ پھر انہیں محض چند علاقوں تک محدود کر کے ایک عارضی حیثیت دی جائے گی، جسے بعد میں اسرائیل میں ضم کر دیا جائے گا۔
یہی وہ مرحلہ ہوگا جب دنیا رسمی طور پر اسرائیل کو واحد ریاست تسلیم کر لے گی اور فلسطین محض تاریخ کی ایک مظلوم داستان بن کر رہ جائے گا۔ اس کے بعد اسرائیل کی جارحیت صرف فلسطین تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ایران، ترکی، پاکستان اور دیگر ممالک بھی اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔
ٹرمپ بورڈ آف پیس کا اصل مقصد اسرائیل کو آزاد کرنا نہیں بلکہ اسے مزید طاقتور بنانا ہے، تاکہ وہ پورے خطے میں اپنی مرضی کا نظام نافذ کر سکے۔ یہ آزادی دراصل مسلمانوں کے لیے نئی غلامی ہوگی۔
افسوس یہ ہے کہ آج امتِ مسلمہ سوئی ہوئی ہے، یا شاید جان بوجھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ ہر ملک اپنے چھوٹے مفادات میں الجھا ہوا ہے اور کوئی بھی اجتماعی طور پر کھڑا ہونے کو تیار نہیں۔
یہ سب کچھ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمیں مسئلہ فلسطین کو صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری سمجھنا ہوگا۔ اگر آج ہم خاموش رہے تو کل تاریخ ہمیں بھی انہی ظالموں کی صف میں کھڑا کرے گی جنہوں نے مظلوموں کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔
عزت اور ذلت واقعی اللہ کے ہاتھ میں ہے، مگر اللہ نے ہمیں اختیار بھی دیا ہے کہ ہم حق کا ساتھ دیں یا باطل کا۔ ٹرمپ بورڈ آف پیس جیسے منصوبے ہمیں آزما رہے ہیں کہ ہم کس صف میں کھڑے ہیں، حق کے ساتھ یا طاقت کے ساتھ۔سوال یہ نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کیا کر رہے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم مسلمان کیا کر رہے ہیں۔ کیا ہم صرف بیانات اور دعائوں تک محدود رہیں گے یا واقعی عملی طور پر ایک دوسرے کے لیے کھڑے ہوں گے؟ یہی فیصلہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل طے کرے گا۔







