غزہ امن بورڈ : پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
غزہ امن بورڈ : پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
تحریر : صفدر علی حیدری
بین الاقوامی سیاست میں کچھ فیصلے اپنی حقیقی نوعیت سے زیادہ افواہوں، بیانیوں اور جذبات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں پاکستان کی جانب سے امریکہ کے قائم کردہ "غزہ امن بورڈ” میں شمولیت کا اعلان بھی اسی کشمکش کا شکار ہوا۔
داخلی سطح پر یہ سوال ایک تیکھی بحث کی صورت گردش کر رہا ہے کہ آخر پاکستان کو ایسے منصوبے میں شامل ہونے کی ضرورت ہی کیا تھی، جسے نہ پوری مسلم دنیا کی مکمل حمایت حاصل ہے اور نہ ہی یورپ کی واضح رضا مندی۔ اس فیصلے کو عوامی حلقوں میں اسرائیل کی ممکنہ تسلیم کی طرف ایک دبے پائوں قدم قرار دیا گیا، جبکہ سرکاری سطح پر ان خدشات کی مسلسل تردید کی گئی۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس سفارتی بساط کا اصل رخ کیا ہے اور پاکستان اس خطرناک کھیل میں اپنا مہرہ کہاں رکھے گا؟
پاکستان کی فلسطین پالیسی کوئی جذباتی ابال نہیں بلکہ ایک گہری تاریخی وابستگی ہے۔ قیامِ پاکستان سے بھی پہلے، بابائے قوم نے فلسطین کے مسئلے کو برصغیر کے مسلمانوں کا مسئلہ قرار دیا تھا۔ 1948ء سے لے کر آج تک، پاکستان نے ہر عالمی فورم پر فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی وکالت کی ہے۔ یہ وہی ملک ہے جس کے پائلٹس نے عرب اسرائیل جنگوں میں حصہ لیا اور جس کے پاسپورٹ پر آج بھی یہ تحریر درج ہے کہ یہ اسرائیل کے سوا تمام ممالک کے لیے کارآمد ہے۔
اس پس منظر میں جب پاکستان "غزہ امن بورڈ” میں بیٹھنے کا فیصلہ کرتا ہے، تو یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں رہتا بلکہ ایک تاریخی امتحان بن جاتا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی یہ وضاحت کہ "شرکت کا مطلب تسلیم کرنا نہیں” اپنی جگہ درست سہی، مگر تاریخ گواہ ہے کہ سفارتی میزوں پر بچھائی گئی بساط اکثر خاموش سمجھوتوں کی بنیاد بنتی ہے۔ یہاں پاکستان کا چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی سات دہائیوں پر محیط اخلاقی برتری کو برقرار رکھتے ہوئے اس نئی حقیقت پسندی میں اپنا راستہ کیسے بناتا ہے۔
درحقیقت پاکستان ایک عرصے سے عالمی سطح پر موثر سفارتی کردار کے فقدان کا شکار رہا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پاکستان کی تزویراتی اہمیت (Strategic Importance)میں وہ کشش باقی نہیں رہی تھی جو دہائیوں تک اس کا خاصہ رہی۔ اس خلا کو پُر کرنے کے لیے فلسطین کا معاملہ وہ واحد میدان ہے جہاں پاکستان اخلاقی اور سیاسی اعتبار سے ایک معتبر آواز رکھتا ہے۔
اگر پاکستان اس امن بورڈ سے الگ رہتا، تو فیصلہ سازی کی اس میز پر فلسطین کے حقیقی حامیوں کی نمائندگی مزید محدود ہو جاتی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اگر آپ میز پر موجود نہیں ہیں، تو آپ مینو کا حصہ بن سکتے ہیں۔ پاکستان نے اس فورم میں شامل ہو کر کم از کم یہ موقع حاصل کر لیا ہے کہ وہ وہاں بیٹھ کر اپنا مقدمہ لڑے جہاں غزہ کے مستقبل کا نقشہ تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ احتجاج کی سیاست سے نکل کر اثر و رسوخ کی سیاست کی طرف ایک بڑا موڑ ہے۔اس فیصلے کے دور رس مضمرات کا جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اب ایک ایسی سفارتی باریک بینی (Diplomatic Tightrope) پر چل رہا ہے جہاں ایک غلط قدم اسے عوامی غیظ و غضب کا شکار کر سکتا ہے اور ایک درست چال اسے عالمی تنہائی سے نکال سکتی ہے۔ سب سے بڑا مضمرہ یہ ہے کہ پاکستان نے خود کو دوبارہ اس امریکی حلقہِ اثر میں فعال کر لیا ہے جہاں سے وہ گزشتہ چند برس میں دور ہوتا جا رہا تھا۔
اس شمولیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پاکستان، مشرقِ وسطیٰ کے ان اہم عرب ممالک ( سعودی عرب، یو اے ای اور قطر ) کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی کو ہم آہنگ کر رہا ہے جو اس وقت خطے کے معاشی اور سیاسی مستقبل کے اصل کھلاڑی ہیں۔ پاکستان کے لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ اپنے معاشی مفادات کو عرب دنیا سے وابستہ رکھے اور سیاسی طور پر ان سے بالکل مختلف سمت میں چلے۔
جہاں تک خدشات کا تعلق ہے، تو سب سے بڑا ڈر "امن” کے لبادے میں چھپی اس ممکنہ رعایت کا ہے جو فلسطینیوں کے بنیادی حقوق پر سمجھوتہ کر کے حاصل کی جا سکتی ہے۔ کیا یہ بورڈ واقعی غزہ کی تعمیرِ نو کرے گا یا یہ حماس اور دیگر مزاحمتی قوتوں کو سیاسی طور پر بے دخل کرنے کا ایک امریکی حربہ ہے؟ عوامی حلقوں میں یہ تشویش جائز ہے کہ کہیں "انسانی ہمدردی” کی آڑ میں غزہ کے سیاسی ڈھانچے کو اسرائیل کی سکیورٹی ضروریات کے مطابق تو نہیں ڈھالا جائے گا؟
اگر پاکستان اس عمل کا حصہ بن کر بھی فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد اور خودمختار ریاست ( جس کا دارالحکومت القدس ہو) کی آواز بلند نہیں کر پاتا، تو اس کی شمولیت محض ایک تماشائی کی ہوگی۔ مزید برآں، یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ بھارت، جو اسرائیل کا قریبی تزویراتی پارٹنر ہے، اس فورم کے پردے میں پاکستان کو ایک "غیر متعلقہ” قوت ثابت کرنے کی کوشش کرے گا۔
توقعات اور پاکستان کا کردار
اس تمام صورتحال میں مثبت توقعات کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ عالمی برادری پاکستان سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ او آئی سی (OIC)اور غیر وابستہ ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک متوازن موقف اختیار کرے گا۔ پاکستان سے یہ امید ہے کہ وہ صرف امدادی پیکجز کی بات نہیں کرے گا، بلکہ 1967ء کی سرحدوں کی بحالی اور فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی جیسے بنیادی حقوق پر زور دے گا۔
اگر پاکستان اس فورم کو استعمال کرتے ہوئے عالمی طاقتوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا راستہ تل ابیب سے نہیں بلکہ بیت المقدس سے گزرتا ہے، تو یہ اس کی ایک بڑی سفارتی فتح ہوگی۔ توقع یہ بھی ہے کہ اس فعال شرکت سے پاکستان کو درپیش دیگر مسائل، جیسے کہ کشمیر اور اقتصادی چیلنجز، پر بھی عالمی رویوں میں ایک مثبت تبدیلی آئے گی۔
اصل سوال اب یہ نہیں کہ پاکستان نے یہ قدم کیوں اٹھایا، بلکہ یہ ہے کہ اس سے کیا بچا پائے گا؟ پاکستان کی ذمہ داری اب شروع ہوتی ہے۔ اسے ایک واضح سفارتی لائن کھینچنی ہوگی کہ اس کی شرکت صرف امن، انسانی امداد اور آزاد فلسطینی ریاست تک محدود ہے۔ اس کے لیے داخلی سطح پر بھی بیانیے کی درستی ضروری ہے تاکہ عوامی جذبات حقائق پر غالب نہ آئیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بحث کو "اسرائیل کی تسلیم” کے مفروضے سے نکال کر "فلسطین کے مستقبل اور عالمی سفارتکاری” کی سطح پر لے آئیں۔ دنیا بدل چکی ہے، طاقت کے مراکز منتقل ہو رہے ہیں، مگر اصول اب بھی معنویت رکھتے ہیں۔ امتحان یہی ہے کہ پاکستان ان اصولوں کو بین الاقوامی میز پر کس طرح زندہ رکھتا ہے۔ کیا ہم صرف میز کا حصہ بنیں گے یا میز پر بیٹھ کر تاریخ کا دھارا بدلنے کی کوشش کریں گے؟ یہ سوال آنے والے دنوں میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہو گا۔





