Column

غزہ پیس بورڈ اور پاکستان

غزہ پیس بورڈ اور پاکستان
پاکستان کی عالمی سیاست میں اہمیت ہمیشہ سے تسلیم کی گئی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ اقدامات بھی اس حقیقت کو دوبارہ اجاگر کرتے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ ایک اہم سیاسی اقدام ہے، جس میں نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی سفارت کاری کی مہارت کا اظہار ہوتا ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن قائم کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پاکستان کا اس مسئلے میں شامل ہونے کا فیصلہ ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کے بارے میں بیان ایک پُرامید پیغام دیتا ہے کہ پاکستان اس بورڈ کے ذریعے غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس شمولیت کا مقصد غزہ میں انسانی حقوق کا تحفظ اور فلسطینیوں کے حقوق کا حصول ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی شمولیت سے نہ صرف غزہ کی تعمیر نو میں مدد ملے گی بلکہ وہاں کے عوام کو عزت اور وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔ یہ بات اہم ہے کہ غزہ کے عوام اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی حالت روز بروز بدتر ہوتی جارہی ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی اور طاقتور ممالک کی عدم دلچسپی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا غزہ پیس بورڈ میں شامل ہو کر اس مسئلے کے حل کی کوشش کرنا ایک نیا باب کھولنے جیسا ہے۔ پاکستان کا موقف ہمیشہ فلسطین کے حق میں رہا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان فلسطینیوں کے حقوق کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ پاکستان کی طرف سے غزہ پیس بورڈ میں شمولیت نہ صرف ایک سفارتی کامیابی ہے بلکہ عالمی امن کے لیے پاکستان کی پختہ عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ وزیراعظم کا حالیہ دورہ ڈیووس اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ملاقاتیں بھی پاکستان کی عالمی سیاست میں اہم مقام کی نشاندہی کرتی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی سطح پر آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ملاقات اور ٹرمپ کے ساتھ بات چیت نے پاکستان کی بین الاقوامی سفارت کاری کو نئی جہت دی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ نے پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور جنوبی ایشیا میں امن کی کوششوں کو سراہا۔ اس ملاقات کے دوران یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر جنگ رک جاتی ہے تو اس کے
مثبت اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا پر پڑیں گے۔ وزیراعظم کا یہ موقف کہ جنگ رکنے سے لاکھوں جانیں بچ جائیں گی، ایک بہت اہم بات ہے۔ عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف، وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ رانا ثنا اللہ کا کراچی کے حوالے سے بیان ایک اور اہم پہلو ہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ پورے پاکستان کی معیشت کراچی کی بندرگاہ، تجارتی سرگرمیوں اور یہاں کے مالیاتی اداروں پر انحصار کرتی ہے۔ کراچی کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ شہر نہ صرف ملک کا تجارتی مرکز ہے بلکہ یہاں تمام بینکوں کے مرکزی دفاتر اور ملک کی بیشتر تجارتی سرگرمیاں واقع ہیں۔ رانا ثنا اللہ نے یہ بات بھی واضح کی کہ کراچی کے مالی وسائل پورے ملک کے وسائل ہیں اور اس لیے اس شہر کی ترقی اور استحکام ملک کی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ رانا ثنا اللہ کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان کراچی کی ترقی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی طرف سے بلدیاتی قانون پر تجویز وفاق تک پہنچائی گئی ہے، جس سے کراچی کی مقامی حکومت کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ رانا ثنا اللہ کا یہ کہنا کہ وزیراعظم شہباز شریف بورڈ آف پیس پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے، جمہوری عمل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ حکومت کا یہ وعدہ کہ وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرے گی، ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمہوریت کی بنیاد پارلیمنٹ اور عوام کی رائے پر ہے اور حکومت کسی بھی اہم فیصلے سے قبل عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لے گی۔ یہ ایک جمہوری روایات کو مستحکم کرنے کی کوشش ہے جو پاکستان میں مزید سیاسی استحکام پیدا کرے گا۔پاکستان کی غزہ پیس بورڈ میں شمولیت اور عالمی سطح پر امن کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ایک مثبت اور اہم قدم ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کا عالمی موقف مستحکم ہوگا بلکہ یہ دنیا بھر میں اس کے امن کے قیام کے لیے عزم کو بھی ظاہر کرے گا۔ وزیراعظم کی خارجہ پالیسی اور رانا ثنا اللہ کا داخلی سطح پر پاکستان کی معیشت اور جمہوری عمل کے حوالے سے مثبت بیانات ایک نیا سیاسی دور شروع کرنے کی غمازی کرتے ہیں۔ پاکستان کی عالمی اور داخلی پالیسی دونوں میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ حکومت اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو۔ اس وقت جہاں غزہ کی تعمیر نو اور امن کا قیام انتہائی ضروری ہے، وہیں کراچی کی اقتصادی اہمیت بھی ملک کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ دونوں معاملات میں پاکستان کا مثبت کردار عالمی سطح پر اس کی اہمیت بڑھانے کا باعث بنے گا۔
تھرپارکر میں بچوں کی اموات
تھرپارکر کے ضلعی ہیڈکوارٹر مٹھی کے اسپتال میں غذائی قلت اور مختلف امراض کے باعث معصوم بچوں کی اموات کا سلسلہ رکتا نظر نہیں آرہا۔ گزشتہ تین ہفتے میں 45بچوں کی اموات اور 75بچوں کا اب بھی زیر علاج ہونا، اس بات کا غماز ہے کہ اس علاقے میں صحت کی سہولتوں کی کمیابی اور ضروری اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔ مٹھی اسپتال کے ایم ایس کے مطابق سردی اور غذائی کمی کی وجہ سے یہ بچے پیدائشی طور پر کم وزن اور مختلف بیماریوں کا شکار تھے۔ اسپتال کے بچوں کے وارڈ میں گنجائش کی کمی اور زائد مریضوں کا داخلہ ایک طرف، لیکن سب سے بڑا مسئلہ علاج کی عدم دستیابی اور اسپتال کی سہولتوں کی کمی ہے۔ یہ تمام عوامل اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اس سنگین مسئلے کی جانب کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اسپتال میں داخل بچوں کی حالت اور والدین کی شکایات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف اسپتال میں بستروں کی کمی ہے، بلکہ وہاں کی طبی سہولتیں بھی بہت محدود ہیں۔ جب تک اس مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچا جاتا اور غذائی کمی کے شکار بچوں کو مناسب خوراک فراہم نہیں کی جاتی، اس طرح کی اموات کا سلسلہ جاری رہنے کا اندیشہ ہے۔ سردیوں میں مٹھی جیسے علاقوں میں جہاں درجہ حرارت بہت کم ہوتا ہے، بچوں کی جسمانی قوت مدافعت پہلے ہی کم ہوتی ہے۔ ان حالات میں اگر انہیں مناسب علاج، وٹامنز اور خوراک نہ ملے، تو ان کی زندگیوں کو مزید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اس بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، مٹھی اسپتال اور دیگر مقامی صحت مراکز میں بچوں کے وارڈز میں گنجائش بڑھائی جائے تاکہ ان تمام بچوں کو سہولت مل سکے جو اس وقت علاج کے لیے اسپتال میں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، سردی اور دیگر موسمی بیماریوں سے بچائو کے لیے ویکسی نیشن اور حفاظتی تدابیر بھی لازمی ہیں۔ اس کے علاوہ، مقامی حکومت اور صحت کے حکام کو غذائی کمی کو دور کرنے کے لیے بھی فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ بچوں کو صاف اور غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ ان کی صحت بہتر ہو سکے اور وہ مختلف بیماریوں سے لڑنے کی طاقت حاصل کر سکیں۔ یہ نہ صرف حکومت کی ذمے داری ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ہمیں اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ ہمیں اس بحران کا شکار ہونے والے بچوں کی مدد کے لیے آگے آنا ہوگا تاکہ وہ بہتر زندگی گزار سکیں اور ان کی زندگیوں کو بچایا جا سکے۔غزہ پیس بورڈ اور پاکستان
پاکستان کی عالمی سیاست میں اہمیت ہمیشہ سے تسلیم کی گئی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ اقدامات بھی اس حقیقت کو دوبارہ اجاگر کرتے ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ ایک اہم سیاسی اقدام ہے، جس میں نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی سفارت کاری کی مہارت کا اظہار ہوتا ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر امن قائم کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور پاکستان کا اس مسئلے میں شامل ہونے کا فیصلہ ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کے بارے میں بیان ایک پُرامید پیغام دیتا ہے کہ پاکستان اس بورڈ کے ذریعے غزہ میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی ہر ممکن مدد فراہم کرے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس شمولیت کا مقصد غزہ میں انسانی حقوق کا تحفظ اور فلسطینیوں کے حقوق کا حصول ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کی شمولیت سے نہ صرف غزہ کی تعمیر نو میں مدد ملے گی بلکہ وہاں کے عوام کو عزت اور وقار کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کا موقع ملے گا۔ یہ بات اہم ہے کہ غزہ کے عوام اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی حالت روز بروز بدتر ہوتی جارہی ہے۔ عالمی برادری کی خاموشی اور طاقتور ممالک کی عدم دلچسپی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا غزہ پیس بورڈ میں شامل ہو کر اس مسئلے کے حل کی کوشش کرنا ایک نیا باب کھولنے جیسا ہے۔ پاکستان کا موقف ہمیشہ فلسطین کے حق میں رہا ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان فلسطینیوں کے حقوق کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔ پاکستان کی طرف سے غزہ پیس بورڈ میں شمولیت نہ صرف ایک سفارتی کامیابی ہے بلکہ عالمی امن کے لیے پاکستان کی پختہ عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ وزیراعظم کا حالیہ دورہ ڈیووس اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ملاقاتیں بھی پاکستان کی عالمی سیاست میں اہم مقام کی نشاندہی کرتی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی سطح پر آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ملاقات اور ٹرمپ کے ساتھ بات چیت نے پاکستان کی بین الاقوامی سفارت کاری کو نئی جہت دی ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرمپ نے پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور جنوبی ایشیا میں امن کی کوششوں کو سراہا۔ اس ملاقات کے دوران یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر جنگ رک جاتی ہے تو اس کے
مثبت اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا پر پڑیں گے۔ وزیراعظم کا یہ موقف کہ جنگ رکنے سے لاکھوں جانیں بچ جائیں گی، ایک بہت اہم بات ہے۔ عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف، وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ رانا ثنا اللہ کا کراچی کے حوالے سے بیان ایک اور اہم پہلو ہے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ پورے پاکستان کی معیشت کراچی کی بندرگاہ، تجارتی سرگرمیوں اور یہاں کے مالیاتی اداروں پر انحصار کرتی ہے۔ کراچی کی اہمیت اس بات میں ہے کہ یہ شہر نہ صرف ملک کا تجارتی مرکز ہے بلکہ یہاں تمام بینکوں کے مرکزی دفاتر اور ملک کی بیشتر تجارتی سرگرمیاں واقع ہیں۔ رانا ثنا اللہ نے یہ بات بھی واضح کی کہ کراچی کے مالی وسائل پورے ملک کے وسائل ہیں اور اس لیے اس شہر کی ترقی اور استحکام ملک کی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ رانا ثنا اللہ کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پاکستان کراچی کی ترقی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی طرف سے بلدیاتی قانون پر تجویز وفاق تک پہنچائی گئی ہے، جس سے کراچی کی مقامی حکومت کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ رانا ثنا اللہ کا یہ کہنا کہ وزیراعظم شہباز شریف بورڈ آف پیس پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے، جمہوری عمل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ حکومت کا یہ وعدہ کہ وہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرے گی، ایک مثبت قدم ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جمہوریت کی بنیاد پارلیمنٹ اور عوام کی رائے پر ہے اور حکومت کسی بھی اہم فیصلے سے قبل عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لے گی۔ یہ ایک جمہوری روایات کو مستحکم کرنے کی کوشش ہے جو پاکستان میں مزید سیاسی استحکام پیدا کرے گا۔پاکستان کی غزہ پیس بورڈ میں شمولیت اور عالمی سطح پر امن کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ایک مثبت اور اہم قدم ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان کا عالمی موقف مستحکم ہوگا بلکہ یہ دنیا بھر میں اس کے امن کے قیام کے لیے عزم کو بھی ظاہر کرے گا۔ وزیراعظم کی خارجہ پالیسی اور رانا ثنا اللہ کا داخلی سطح پر پاکستان کی معیشت اور جمہوری عمل کے حوالے سے مثبت بیانات ایک نیا سیاسی دور شروع کرنے کی غمازی کرتے ہیں۔ پاکستان کی عالمی اور داخلی پالیسی دونوں میں بہتری کی امید کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ حکومت اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو۔ اس وقت جہاں غزہ کی تعمیر نو اور امن کا قیام انتہائی ضروری ہے، وہیں کراچی کی اقتصادی اہمیت بھی ملک کے استحکام کے لیے ضروری ہے۔ دونوں معاملات میں پاکستان کا مثبت کردار عالمی سطح پر اس کی اہمیت بڑھانے کا باعث بنے گا۔
تھرپارکر میں بچوں کی اموات
تھرپارکر کے ضلعی ہیڈکوارٹر مٹھی کے اسپتال میں غذائی قلت اور مختلف امراض کے باعث معصوم بچوں کی اموات کا سلسلہ رکتا نظر نہیں آرہا۔ گزشتہ تین ہفتے میں 45بچوں کی اموات اور 75بچوں کا اب بھی زیر علاج ہونا، اس بات کا غماز ہے کہ اس علاقے میں صحت کی سہولتوں کی کمیابی اور ضروری اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔ مٹھی اسپتال کے ایم ایس کے مطابق سردی اور غذائی کمی کی وجہ سے یہ بچے پیدائشی طور پر کم وزن اور مختلف بیماریوں کا شکار تھے۔ اسپتال کے بچوں کے وارڈ میں گنجائش کی کمی اور زائد مریضوں کا داخلہ ایک طرف، لیکن سب سے بڑا مسئلہ علاج کی عدم دستیابی اور اسپتال کی سہولتوں کی کمی ہے۔ یہ تمام عوامل اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اس سنگین مسئلے کی جانب کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ اسپتال میں داخل بچوں کی حالت اور والدین کی شکایات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف اسپتال میں بستروں کی کمی ہے، بلکہ وہاں کی طبی سہولتیں بھی بہت محدود ہیں۔ جب تک اس مسئلے کی جڑ تک نہیں پہنچا جاتا اور غذائی کمی کے شکار بچوں کو مناسب خوراک فراہم نہیں کی جاتی، اس طرح کی اموات کا سلسلہ جاری رہنے کا اندیشہ ہے۔ سردیوں میں مٹھی جیسے علاقوں میں جہاں درجہ حرارت بہت کم ہوتا ہے، بچوں کی جسمانی قوت مدافعت پہلے ہی کم ہوتی ہے۔ ان حالات میں اگر انہیں مناسب علاج، وٹامنز اور خوراک نہ ملے، تو ان کی زندگیوں کو مزید خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ اس بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے، مٹھی اسپتال اور دیگر مقامی صحت مراکز میں بچوں کے وارڈز میں گنجائش بڑھائی جائے تاکہ ان تمام بچوں کو سہولت مل سکے جو اس وقت علاج کے لیے اسپتال میں موجود ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، سردی اور دیگر موسمی بیماریوں سے بچائو کے لیے ویکسی نیشن اور حفاظتی تدابیر بھی لازمی ہیں۔ اس کے علاوہ، مقامی حکومت اور صحت کے حکام کو غذائی کمی کو دور کرنے کے لیے بھی فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ بچوں کو صاف اور غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ ان کی صحت بہتر ہو سکے اور وہ مختلف بیماریوں سے لڑنے کی طاقت حاصل کر سکیں۔ یہ نہ صرف حکومت کی ذمے داری ہے بلکہ معاشرتی سطح پر بھی ہمیں اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا۔ ہمیں اس بحران کا شکار ہونے والے بچوں کی مدد کے لیے آگے آنا ہوگا تاکہ وہ بہتر زندگی گزار سکیں اور ان کی زندگیوں کو بچایا جا سکے۔

جواب دیں

Back to top button