منشیات اورمعاشیات

منشیات اورمعاشیات
محمد ناصر اقبال خان
عہدحاضر میں زندہ رہنا ہرگزآسان نہیں ،اس کیلئے بار بار مرنااور اپنے ہاتھو ں سے اپنی ہزاروں خواہشات کومارنا پڑتا ہے۔ مختلف معاشرتی و معاشی ناہمواریوں،بیزاریوں اورشدیددشواریوںکے باوجودہماری زندگی بہت خوبصورت ہے ،ہم محنت اورمحبت سے اس بیش قیمت نعمت کومزیدحسیں اور دلنشیںبناسکتے ہیں۔ زندگی کیا اہمیت رکھتی ہے یہ ان سے پوچھیں جواس وقت شہرخموشاں میں آسودہ خاک ہیں۔زندگی کیلئے کئی باربے رحم موت سے بھی بھڑنا اوراس کے منہ سے واپس مڑنا پڑتا ہے۔جان ہے توجہان ہے، یہ محاورہ فراموش نہیں کیاجاسکتا ۔راقم نے اپنے ’’ بچپن ‘‘ سے’’ پچپن‘‘ تک کوئی بندگلی نہیں دیکھی جہاں سے انسان کا باہر نکلنا ناممکنات میں سے ہو۔ہمارا زندگی میںکئی طرح کے ’’ چیلنجز‘‘ اور’’ چیلنجرز‘‘ ( Challengers Challenges &) سے واسطہ پڑتا ہے ، ہم ان سے سیکھتے،خودکوسینچتے اور سنبھلتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ہماری زندگی سے کئی زندگیاں وابستہ ہوتی ہیں ، ہمارے قلب کے ساتھ ماں باپ کادل بھی دھڑکتا ہے۔اپنی بیش قیمت حیات اوراپنے پیاروں کے ساتھ بھرپورپیارکریں ۔ہم بندوں کی زندگیاں معبود برحق کی امانت ہیں،اس کی حفاظت کرنا ہمارا فرض ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی اپنی یاکسی دوسرے کی زندگی نہیں چھین سکتا ،منشیات کے استعمال سے اپنے ہاتھوں اپنی زندگی بربادکرنا بھی گناہ شمار ہوتا ہے۔
موت کادوسرانام منشیات ہے ،مجھے ان افراد پرتعجب ہوتا ہے جومنشیات میں مصیبتوں سے راہ فرار تلاش کرتے کرتے اپنے ماں باپ سمیت عزیزواقارب کوبے سکون ،رنجیدہ اورشرمندہ کردیتے ہیں۔یادرکھیں کسی ناکامی ،بدنامی ،محرومی یا مایوسی کی صورت میں منشیات کا استعمال اپنے ہاتھوں اپنا استحصال کرنا ہے۔شراب سمیت منشیات کی ہرصورت انسانیت کیلئے ایک میٹھا زہر ہے۔اسلامی تعلیمات کی روسے منشیات کااستعمال مضرصحت بلکہ شجرممنوعہ ہے ، منشیات سے’’ بیزاری‘‘ کیلئے نوجوانوں میں ’’ بیداری‘‘ اشدضروری ہے۔نصاب تعلیم اورمیڈیاکی وساطت سے طلبا وطالبات سمیت نوجوان طبقات کو منشیات بارے اسلامی احکامات اوراستعمال کی صورت میں اس کے مضمرات اورنقصانات سے آگاہ کیاجائے۔ماں باپ ، علماء ،اساتذہ ، مصنف اورمنصف معاشرت کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے نوجوانوں کواس کی نحوست اورقباحت سے آگاہ کریں۔ڈراموں اورفلموں میں منشیات کے استعمال کاکوئی منظرایڈ نہ کیاجائے ۔ریاست عوامی مقامات پرتمباکو نوشی پر خاموشی ختم اورناقابل ضمانت مقدمات درج کرے کیونکہ منشیات کے استعمال سے بربادی کا سفر تمباکونوشی کے عادی افرادسے شروع ہوتا ہے۔ اب کئی قسم کی منشیات دستیاب ہیں بلکہ ہوم ڈیلیوری کی سہولت بھی موجود ہے۔لاہور سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں مقیم سیاہ فام بھی اس مذموم کام سے وابستہ ہیں۔ منشیات کی تجارت میں جدت آنے کے بعد عام آدمی انہیں شناخت نہیں کرسکتا اوربسااوقات انجانے میں ان کا استعمال شروع کربیٹھتا ہے۔منشیات کو مخصوص ادویات کی صورت میں بھی فروخت اوراستعمال کیاجارہا ہے۔ یادرکھیں آپ کاجودوست آپ کومنشیات کے استعمال کی دعوت یاترغیب دے وہ درحقیقت آپ کابدترین دشمن ہے۔منشیات کے استعمال کی کوئی بھی شکل یقینا شغل نہیں ہوسکتی۔ اساتدہ اورڈاکٹرزعلمی اور طبی اداروں کی دیواروں پرمنشیات سے بیزاری اور بیداری کیلئے مختلف اثرانگیز جملے اور جامعہ ’’ عبارت‘‘ کنندہ جبکہ منشیات کے استعمال سے ٹیک آف کرنیوالے ’’ جہازوں‘‘ کی تصاویربھی چسپاں کریں کیونکہ منشیات کی مستقل عادت سے انسان عبادت سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ تحریر وں اورتصویروں کی تحریک سے منشیات کے عادی خوابیدہ مردوزن کو جھنجوڑنا ازبس ضروری ہے۔ افسوس ماضی کے سلجھے اورصاف ستھرے لوگ بھی منشیات استعمال کرنے کے بعد مختلف مقامات پرغلاظت اورنجاست کے ڈھیر پرپڑے ملتے ہیں۔ جو عزت دار لوگ اپنی ناک پرمکھی نہیں بیٹھنے دیتے تھے ، وہ بھی اپنی جان بلکہ اپنی آن بان کومنشیات کا روگ لگانے کے بعدقابل رحم ہوجاتے ہیں جبکہ ان کے بدبودار وجود پر مکھیاں بھنبھناتی ہیں ،انہیں اس کیفیت میں ان کا کوئی اپنا بھی نہیں اپناتا۔ دُعا ہے ہمارا عزیزتودرکنار کوئی بدترین دشمن بھی منشیات کا عادی اور فسادی نہ بنے ۔
ماں باپ اپنے بچوں کی مثالی پرورش اوران کے روشن مستقبل کیلئے انہیں ضرورت سے زیادہ آزادی ہرگز نہ دیں، ضرورت سے زیادہ آزادی کے نتیجہ میں بدنصیب بچے بربادی کی تاریک راہوں پرچل پڑتے ہیں۔اگربچوںکی لگام ڈھیلی ہوتووہ بے لگام اورزندگی میں ناکام ہوجاتے ہیں۔ والدین اپنے بیٹوں اوربیٹیوں کی بہترین تعلیم وتربیت کواپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھیں اوران کی صحت وصحبت پرہرگز سمجھوتہ نہ کریں۔بچوں کی جائزضروریات اورناجائزخواہشات پوری کرتے ہوئے ان کی اِن ڈور اور آئوٹ ڈور سرگرمیوں پرگہری نظررکھیں۔ ماں باپ چوکس رہیں ،وہ دیکھیںان کے بچے کہاں اورکس طرح کے ماحول میںاٹھتے بیٹھتے ہیں۔یادرکھیں اچھوں اوربروں کی صحبت کا بچوں کی دماغی صحت اور سمت پر براہ راست اثرہوتا ہے، وہ دوسروں سے بہت کچھ سیکھتے اور متاثر ہوتے ہیں۔ ہمارے بچوں پر اچھوں کے قرب کا مثبت جبکہ بروں کی بیٹھک کا منفی اثر پڑتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے طبی اورتعلیمی ادارے بھی منشیات فروش مافیا کی دسترس سے باہر نہیں رہے ،اب اس قسم کی منشیات بھی دستیاب ہیں جس کوہرکوئی شناخت نہیں کرسکتا لہٰذاء بچوں کے بچائو کیلئے ماں باپ کی مسلسل بیداری اور پہریداری ناگزیر ہے۔ ہماری معاشرت کومنشیات کے زہر اور قہر سے بچانے کیلئے اینٹی نارکوٹکس فورس سمیت وفاقی اورصوبائی محکمے پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنا اپناکام کررہے ہیںلیکن ماں باپ سمیت شہریوں کوبھی شرپسندوںکی سرکوبی کیلئے اپنا کلیدی کرداراداکرناہوگا۔جس کسی کا کوئی عزیزیا دوست منشیات کاعادی ہے وہ حق دوستی اداکرتے ہوئے اس کی ہر قابل نفرت عادت چھڑائے ۔ منشیات مافیا اپنی معاشیات کیلئے ہمارے مستقبل کے معمارنو جوانوں اور خاندانوں کو اجاڑر ہے ہیں لہٰذاء منشیات کیخلاف جہاد کیلئے کسی اجتہاد کی ضرورت نہیں ، قانون کی حاکمیت کے حامی شہری منشیات فروشوں کے بارے میں مستند معلومات اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب کے ساتھ شیئرکریں،حکام یقینا ان کانام صیغہ رازمیں رکھیں گے۔
اینٹی نارکوٹکس فورس ڈائریکٹوریٹ کے ریجنل کمانڈر بریگیڈئیر سکندرحیات چودھری کا ویژن اور مشن صوبہ پنجاب سے ہر قسم کی منشیات کا پوری طرح صفایا کرنا جبکہ اس کے عادی فرزندان پاکستان کو بحالی مراکز کی مدد سے معاشرے کا مفید،مستعداورصحت مند شہری بنانا ہے۔ وہ مسلسل ،منظم اور موثر کارروائیوں سے منشیات فروشوں پر کاری ضرب لگارہے ہیں۔منشیات کی تیاری اور تجارت میں ملوث سماج دشمن عناصر کیخلاف زبردست کریک ڈائون جاری ہے۔ منشیات فروشوں سے بھاری مقدار میں نشہ آور مصنوعات برآمد ہونے اور سوشل میڈیا پران کی رسوائی کے باوجود انہیں ضمانت پر رہائی ملنا ایک بڑا سانحہ اور سوالیہ نشان ہے۔ منشیات فروشوں کی بروقت اورسخت سزائوں کے سلسلہ میں دوررس اصلاحات ناگزیر ہیں۔
راقم کوملی معلومات کی روسے عنقریب منشیات فروش مافیا کامحاصرہ اورمحاسبہ کرنے کیلئے صوبائی سطح پر بڑی تعداد میں رضاکاروں اور پیشہ ورمخبروں کو جدید اورخفیہ سازوسامان کے ساتھ میدان میں اتاراجا رہا ہے۔جدیدٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے منشیات کے عادی افراد کی مدد سے منشیات فروشوں تک پہنچااورانہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔اب منشیات فروشوں کیخلاف ناقابل تردیدشواہد کے ساتھ انہیں گرفت میںلیاجائے گا۔اب اینٹی نارکوٹکس فورس کے اہلکار جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تعلیمی اداروں سمیت مختلف مقامات میں منشیات کاسراغ لگاسکیں گے۔ تعلیمی اداروں کے آس پاس فروخت ہونیوالی مختلف اشیاء کے ٹیسٹ کیلئے سیمپل لیا جبکہ دکانداروں سمیت ریڑھی بانوں اورخوانچہ فروشوں کورجسٹرڈکیا جائے گا ۔ طبی ماہرین کی مشاورت سے تعلیمی اداروں میں ہرچندماہ بعد وی ڈی آر ایل ٹیسٹ کااہتمام کیا اورجو طالبعلم منشیات استعمال کرتاپایا گیا اسے مقررہ میعاد کیلئے بحالی مرکز میں منتقل کیا جائے گا۔ ماں جیسی ریاست منشیات کے عادی افرادکوبھی سینے سے لگائے اوران کی زندگی بچائے گی۔ ان کی صحت وتندرستی یقینی بنانے کیلئے مختلف شہروں میں ضرور ت کے تحت جدت سے بھرپور بحالی مراکز تعمیر ہوں گے ،جہاں سے کامیاب ٹریٹمنٹ کے بعد فارغ ہونیوالے افراد کوماہانہ بنیادوں پرٹیسٹ کاپابند کیاجائے گا اورجودوبارہ منشیات استعمال کریں گے انہیں دوبارہ بحالی مراکزمیں منتقل کردیاجائے گا ۔ریاست منشیات سے نجات کیلئے ہرراست اقدام کرے گی ۔





