ColumnImtiaz Ahmad Shad

سادگی کا امتحان اور اقتدار کی ذمہ داری

ذرا سوچئے
سادگی کا امتحان اور اقتدار کی ذمہ داری
امتیاز احمد شاد
پاکستان اس وقت شدید معاشی بحران کی زد میں ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، بے روزگاری نوجوان نسل کو مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل رہی ہے، اور متوسط طبقہ جو کبھی اس معاشرے کا مضبوط ستون سمجھا جاتا تھا، اب بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی جدوجہد کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں دو وقت کی روٹی کا بندوبست کسی نعمت سے کم نہیں رہا، جبکہ شادی جیسے بنیادی سماجی فریضے خوف، دبا اور اضطراب کی علامت بنتے جا رہے ہیں۔
اس مجموعی صورتحال میں سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ غریب ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ بناوٹ، دکھاوے اور غیر ضروری نمود و نمائش کو سماجی وقار کا پیمانہ سمجھنے لگا ہے۔ شادی بیاہ، جو سادگی، خوشی اور رشتوں کی مضبوطی کی علامت ہونا چاہیے تھا، اب مقابلہ بن چکا ہے۔ کون زیادہ مہنگا جوڑا پہنے، کون زیادہ مہمان بلائے، کون زیادہ شاہانہ انتظام کرے۔ اس دوڑ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام آدمی اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
ایسے حالات میں حکمران طبقے کا طرزِ زندگی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے افراد کا ہر عمل، ہر فیصلہ اور ہر تقریب عوامی نگاہ میں ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں قیادت سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مشکل حالات میں سادگی اور کفایت شعاری کا مظاہرہ کرے، تاکہ عوام کو نہ صرف سہارا ملے بلکہ ایک عملی مثال بھی قائم ہو۔
ان دنوں وزیراعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے کی شادی کی تقریبات اسی تناظر میں عوامی بحث کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ شادی سے قبل جاتی عمرہ میں منعقد ہونے والی مہندی کی تقریب کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔ ان مناظر کے ساتھ تقریب کے مینو کی تصاویر بھی سامنے آئیں، جن سے یہ تاثر ملا کہ ون ڈش کی سرکاری پابندی کی خلاف ورزی کی گئی اور مہمانوں کو متعدد اقسام کے کھانے پیش کیے گئے۔
یہاں سوال کسی ایک تقریب یا خاندان کا نہیں، بلکہ اصول اور قانون کی بالادستی کا ہے۔ پنجاب حکومت خود ون ڈش کی پابندی پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی دعویدار ہے۔ آئے دن خبریں سامنے آتی ہیں کہ شادی ہال سیل کر دئیے گئے، شہریوں پر جرمانے عائد کیے گئے، اور انتظامیہ نے کارروائیاں کیں۔ مگر جب یہی قانون حکمران طبقے کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو اس کی حیثیت محض ایک رسمی ضابطے تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔
یہ تاثر، چاہے درست ہو یا غلط، عوام کی دلوں میں یہ سوال ضرور پیدا کرتا ہے کہ کیا قانون صرف کمزور کے لیے ہوتا ہے؟ کیا طاقت اور اختیار قانون سے بالاتر ہو جاتے ہیں؟ اور اگر ایسا ہے تو پھر ریاست کی رٹ اور انصاف کے دعوے کس حد تک معتبر رہ جاتے ہیں؟
تقریبات میں شریک افراد کے ملبوسات اور زیورات بھی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنے۔ فیشن سے واقف حلقوں کے مطابق حکمران طبقے کے ملبوسات اور جیولری کی قیمتیں لاکھوں روپے میں تھیں۔ وزیراعلیٰ کا لباس اور زیورات بھی مہنگائی کے باعث عوامی تنقید کی زد میں آئے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی مہنگا لباس پہنے، بلکہ مسئلہ وقت اور حالات کا ہے۔
یہ سب کچھ ایک ایسے معاشرے میں ہو رہا ہے جہاں لاکھوں والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے برسوں جمع پونجی اکٹھی کرتے ہیں، قرض لیتے ہیں، زیورات بیچ دیتے ہیں، حتیٰ کہ زمینیں رہن رکھ دیتے ہیں۔ صرف اس لیے کہ کہیں معاشرہ انہیں کمتر نہ سمجھے، کہیں رشتہ دار باتیں نہ بنائیں، کہیں ’’ لوگ کیا کہیں گے‘‘ کا طعنہ نہ ملے۔
یہ سماجی دبائو ہماری اجتماعی ناکامی کا ثبوت ہے۔ مگر اس دبائو کو کم کرنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ ظاہر ہے، سب سے پہلے ان پر جو اقتدار اور اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ اگر حکمران طبقہ سادگی اختیار کرے، تو وہ محض ایک ذاتی فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک طاقتور پیغام بن جاتا ہے۔
یقیناً شادی ایک ذاتی خوشی ہے، اور ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی خوشی اپنے انداز میں منائے۔ مگر جب کوئی شخصیت عوام کی منتخب نمائندہ ہو، صوبے کی وزیراعلیٰ ہو، اور خود سادگی، کفایت شعاری اور عوامی ہمدردی کی بات کرے، تو اس کی ذاتی تقریبات بھی عوامی پیغام بن جاتی ہیں۔ اقتدار میں رہتے ہوئے نجی اور عوامی زندگی کے درمیان لکیر بہت باریک ہو جاتی ہے۔
اگر وزیراعلیٰ اپنے بیٹے کی شادی سادہ انداز میں کرتیں، ون ڈش کی پابندی پر خود عمل کرتیں، اور غیر ضروری نمود و نمائش سے اجتناب برتتیں تو یہ پورے ملک کے لیے ایک امید افزا مثال بن سکتی تھی۔ یہ پیغام جاتا کہ خوشی کا تعلق اخراجات سے نہیں بلکہ نیت اور رشتوں کی مضبوطی سے ہے۔ عام آدمی کو یہ حوصلہ ملتا کہ وہ سماجی دبائو کو رد کر کے سادہ شادی کر سکتا ہے۔
ایسی مثال سے والدین اپنی بیٹیوں کی شادیاں قرض کے بغیر کرنے کا اعتماد پاتے، نوجوان نسل یہ سیکھتی کہ کامیابی اور خوشی کا معیار مہنگے جوڑوں اور قیمتی زیورات نہیں، بلکہ ذمہ داری اور سادگی ہے۔ مگر بدقسمتی سے جو مناظر سامنے آئے، انہوں نے اس بیانیے کو کمزور کر دیا جس کا درس اکثر عوام کو دیا جاتا ہے۔
کے پاس بطور حکمران یہ ایک سنہری موقع تھا کہ وہ محض سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ سماجی قیادت کا کردار بھی ادا کرتیں۔ وہ ایسی مثال قائم کر سکتی تھیں جس کا حوالہ برسوں دیا جاتا، مگر افسوس ایسا نہ ہو سکا ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گفتار اور کردار کے درمیان فاصلہ مزید نمایاں ہو گیا۔
آج قوم کو نعروں سے زیادہ عملی مثالوں کی ضرورت ہے۔ عوام کو یہ دیکھنا ہے کہ مشکل وقت میں ان کے حکمران کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سادگی کے ساتھ یا شاہانہ طرزِ زندگی کے ساتھ۔ اگر حکمران خود کفایت شعاری اختیار کریں گے تو معاشرہ بھی اسی سمت بڑھے گا، بصورتِ دیگر مہنگے ملبوسات، قیمتی زیورات اور پرتعیش تقریبات کا یہ کلچر مزید مضبوط ہوتا جائے گا۔ اور ہمیشہ کی طرح اس کلچر کا سب سے بھاری بوجھ عام آدمی ہی اٹھاتا رہے گا۔

جواب دیں

Back to top button