
گلبرگ کے انڈیگو ہوٹل میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آ رہا ہے جس پر سوشل میڈیا پر بھرپور بحث جاری ہے۔ صارفین لاہور اور کراچی میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعات کا تقابل کرتے ہوئے فائر فائٹنگ اور ریسکیو ریسپانس پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ لاہور کے واقعے میں ریسکیو 1122 اور پولیس کی بروقت کارروائی کے باعث آگ کو ابتدائی مرحلے میں ہی قابو میں کر لیا گیا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔ گلبرگ ہوٹل میں فائر ہائیڈرینٹ کے فعال ہونے اور امدادی اداروں کی فوری رسپانس کو بھی صارفین سراہ رہے ہیں۔
اس کے برعکس کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے معاملے پر شدید تنقید سامنے آ رہی ہے، جہاں فائر فائٹنگ کا ردِعمل غیر تسلی بخش قرار دیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کے مطابق وہاں آگ پر قابو پانے میں تاخیر ہوئی جس کے باعث اب تک 70 سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ناکافی فائر سیفٹی انتظامات اور بروقت ریسپانس نہ ہونے سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔
سوشل میڈیا پر جاری اس بحث میں یہ پہلو بھی نمایاں ہو رہا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت بھی اس تقابل کو سیاسی بیانیے کی صورت میں آگے بڑھاتی ہوئی نظر آ رہی ہے، جہاں لاہور کے واقعے میں ریسکیو اداروں کی کارکردگی کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ موازنہ نہ صرف سیاسی رنگ اختیار کر رہا ہے بلکہ شہری مراکز میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور انتظامی صلاحیت کے حوالے سے سنجیدہ سوالات بھی اٹھا رہا ہے، جن پر فوری اور جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔







