سانحہ گل پلازہ: حکومتی نااہلی، نظامی ناکامی یا کسی گہرے پہلو کا شاخسانہ؟

سانحہ گل پلازہ: حکومتی نااہلی، نظامی ناکامی یا کسی گہرے پہلو کا شاخسانہ؟
تحریر: نمرہ نعیم
کراچی کے گل پلازہ شاپنگ سینٹر میں پیش آنے والا افسوسناک سانحہ محض ایک عمارت میں لگنے والی آگ یا ایک وقتی حادثہ نہیں، بلکہ یہ ہمارے پورے انتظامی نظام، ریاستی نگرانی اور اجتماعی بے حسی کا عکاس ہے۔ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور کروڑوں روپے کی املاک کے نقصان کے بعد قوم کے ذہن میں سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آخر اس المیے کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یہ محض ایک حادثہ تھا، جسے اتفاق کہہ کر نظرانداز کر دیا جائے، یا یہ حکومتی نااہلی اور نظامی کمزوریوں کا نتیجہ ہے؟ اور کیا اس واقعے کے پس منظر میں کوئی ایسا پہلو بھی موجود ہے جس پر سنجیدہ توجہ درکار ہے؟۔ اگر ہم انتظامی اور حکومتی زاویے سے اس سانحے کا جائزہ لیں تو کئی تشویشناک سوالات جنم لیتے ہیں۔ کسی بھی کمرشل عمارت کی تعمیر اور اس کے استعمال سے قبل نقشے کی منظوری، فائر سیفٹی انتظامات، ایمرجنسی راستے، فائر الارم سسٹم، اور باقاعدہ انسپکشن متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا گل پلازہ میں یہ تمام حفاظتی انتظامات موجود تھے؟ اگر نہیں، تو متعلقہ ادارے برسوں تک خاموش کیوں رہے؟ اور اگر تھے، تو پھر وہ عملی طور پر ناکام کیوں ثابت ہوئے؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ہمارے ہاں زیادہ تر کمرشل پلازے منافع کو ترجیح دے کر تعمیر کیے جاتے ہیں، جہاں انسانی جانوں کا تحفظ ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ فائر سیفٹی کے قوانین کاغذوں میں تو موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ رشوت، سفارش اور مفادات کے جال نے قوانین کو بے اثر بنا دیا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حادثات کے بعد کمیٹیاں تو بن جاتی ہیں، مگر نہ ان کی رپورٹس منظرِ عام پر آتی ہیں اور نہ ہی ذمہ داروں کو حقیقی سزا ملتی ہے۔ یہ سانحہ دراصل کسی ایک پلازہ یا ایک محکمے کی ناکامی نہیں، بلکہ پورے نظام کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ ایمرجنسی صورتحال میں فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی اداروں کی تیاری کس حد تک موثر تھی؟ اگر وسائل اور جدید آلات کی کمی تھی تو یہ بھی ریاستی ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیا ہم واقعی انسانی جانوں کے تحفظ کو سنجیدگی سے لیتے ہیں یا صرف حادثات کے بعد افسوس کا اظہار کر کے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں؟ دوسری جانب کچھ حلقے اس سانحے کے مختلف پہلوئوں پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ماضی میں ایسے واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں تجارتی مفادات، انشورنس کلیمز یا غیر قانونی تعمیرات چھپانے کے لیے آتشزدگی جیسے واقعات کو جنم دیا گیا۔ اگرچہ کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے قبل شواہد ضروری ہیں، تاہم ایسے خدشات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس واقعے کی تحقیقات محض رسمی نہیں بلکہ مکمل طور پر شفاف اور غیر جانبدار ہونی چاہئیں ۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ فوراً کسی پر الزام عائد کر دیا جائے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں تحقیقات اکثر دبا اور مفادات کی نذر ہو جاتی ہیں۔ جب سچ سامنے نہیں آتا تو عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے اور ہر سانحہ شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔ یہی بے اعتمادی معاشرے میں مزید انتشار کا باعث بنتی ہے۔ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم بطور قوم بہت جلد بھول جاتے ہیں۔ چند دن میڈیا پر بحث، چند دن سوشل میڈیا پر غصہ، اور پھر خاموشی۔ نہ ذمہ داروں کا واضح تعین ہوتا ہے، نہ متاثرین کو مکمل انصاف ملتا ہے، اور نہ ہی نظام میں کوئی بنیادی اصلاح کی جاتی ہے۔ یہی غفلت آئندہ کسی اور سانحے کی بنیاد رکھ دیتی ہے۔ سانحہ گل پلازہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا انسانی جانوں کی کوئی حقیقی قدر بھی ہے؟ کیا قوانین صرف کمزور کے لیے ہیں؟ اور کیا طاقتور ہر بار احتساب سے بچ نکلے گا؟ اگر ایسا ہی رہا تو پھر یہ واقعات حادثات نہیں بلکہ ایک ناکام نظام کی پیداوار سمجھے جائیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت محض تعزیتی بیانات سے آگے بڑھے۔ آزاد اور شفاف تحقیقات، ذمہ داروں کا تعین، سخت قانونی کارروائی اور فائر سیفٹی قوانین پر حقیقی عملدرآمد ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی شعور کی بیداری بھی ضروری ہے تاکہ غیر محفوظ عمارتوں کے خلاف اجتماعی آواز اٹھائی جا سکے۔ سانحہ گل پلازہ ایک امتحان ہے، حکومت کے لیے بھی، اداروں کے لیے بھی اور ہمارے اجتماعی ضمیر کی لیے بھی۔ اگر ہم اس امتحان میں ناکام رہے تو یاد رکھیے، اگلا سانحہ کسی اور پلازہ، کسی اور مارکیٹ یا شاید ہمارے اپنے اردگرد ہی جنم لے گا۔







