Column

پاکستان کا صنعتی و تجارتی بحران ۔۔۔ 

پاکستان کا صنعتی و تجارتی بحران

شہر خواب ۔۔۔

صفدر علی حیدری

پاکستان کی موجودہ معیشت اس وقت کسی تجربہ گاہ کا وہ منظر پیش کر رہی ہے جہاں تمام تجربات ناکام ہو چکے ہوں اور تجربہ کرنے والے اب صرف معجزے کے منتظر ہوں۔ یہ بحران محض اعداد و شمار کا الٹ پھیر نہیں، بلکہ یہ ایک جیتی جاگتی ریاست کے صنعتی ڈھانچے کی سسکیاں ہیں۔ جب ہم صنعت کی بات کرتے ہیں تو دراصل ہم اس معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی کی بات کر رہے ہوتے ہیں جو روزگار پیدا کرتی ہے، جو منڈی میں توازن لاتی ہے اور جو عالمی نقشے پر ملک کی ساکھ کو برآمدات کی صورت میں متعارف کراتی ہے۔ آج پاکستان کا صنعتی منظرنامہ ایک خاموش قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں چمنیاں دھواں چھوڑنا بھول رہی ہیں اور مشینوں کا شور بے روزگار مزدوروں کی آہوں میں دب گیا ہے۔ صنعتی زوال کے اسباب: ایک سہ جہتی المیہ پاکستان کے صنعتی زوال کو تین بڑے عنوانات کے تحت سمجھا جا سکتا ہے: لاگت میں اضافہ، مالیاتی پالیسی کا جبر، اور توانائی کا بحران۔

1۔ ٹیکسٹائل سیکٹر کی تباہی: ٹیکسٹائل پاکستان کی معیشت کا وہ ستون ہے جس پر ہماری 60فیصد سے زائد برآمدات کا دارومدار ہے۔ آج یہ شعبہ اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ جب بنگلہ دیش، ویتنام اور بھارت جیسے ممالک عالمی منڈی میں اپنی جگہ بنا رہے ہیں، پاکستان کا ٹیکسٹائل یونٹ بجلی اور گیس کے نرخوں کے بوجھ تلے دب کر بند ہو رہا ہے۔ ایک صنعت کار جو کپاس خریدتا ہے، اسے پروسیس کرتا ہے اور پھر اسے عالمی منڈی میں پیش کرتا ہے، اسے جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی پیداواری لاگت ہی بین الاقوامی فروخت کی قیمت سے تجاوز کر گئی ہے، تو اس کے پاس فیکٹری کو تالا لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا۔

2۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا انخلا اور اعتماد کا فقدان: کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیاں (MNCs) صرف سرمایہ نہیں لاتیں، بلکہ وہ ٹیکنالوجی، نظم و ضبط اور تحقیق (R&D) کا کلچر بھی لاتی ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں ہم نے دیکھا کہ فارماسیوٹیکل سے لے کر مینوفیکچرنگ تک، درجنوں کمپنیوں نے پاکستان سے اپنا بوریا بستر گول کیا۔ اس انخلا کی وجہ صرف سیاسی عدم استحکام نہیں ہے، بلکہ "پالیسیوں کا عدم تسلسل” ہے۔ جب ایک کمپنی دس سالہ منصوبہ بندی کے ساتھ آتی ہے اور اسے ہر چھ ماہ بعد نئے ٹیکسز اور نئی ریگولیٹری رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو وہ اپنا سرمایہ کسی زیادہ مستحکم ریاست میں منتقل کرنا بہتر سمجھتی ہے۔

آئی ایم ایف (IMF)اور ملکی معیشت: علاج یا بیماری؟ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا تعلق ایک ایسے مریض جیسا ہے جسے زندہ رکھنے کے لیے ہر چند ماہ بعد خون کی ضرورت پڑتی ہے، لیکن اس خون کے بدلے مریض کا جگر نکال لیا جاتا ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگرام بنیادی طور پر "مالیاتی استحکام” (Fiscal Stabilization) کے گرد گھومتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹیکس بڑھائو، سبسڈی ختم کرو اور کرنسی کو مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دو۔ بظاہر یہ تجاویز درست معلوم ہوتی ہیں، مگر ایک ایسی معیشت میں جہاں پیداواری صلاحیت پہلے ہی کم ہو، وہاں اچانک ٹیکسوں کا بوجھ صنعتوں کو کچل دیتا ہے۔ جب شرح سود (Interest Rate)کو 20فیصد سے اوپر لے جایا جاتا ہے تاکہ مہنگائی کم ہو، تو دراصل اس سے کاروبار کے لیے ادھار لینا ناممکن ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ "ڈیمانڈ” تو کم ہو جاتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ "سپلائی” کا گلا بھی گھٹ جاتا ہے۔ اسے معاشیات کی زبان میں ‘Stagflation’کا پیش خیمہ کہا جا سکتا ہے جہاں مہنگائی بھی ہو اور بے روزگاری بھی۔

معاشی ڈھانچے کی کجی: کنزمپشن بمقابلہ پروڈکشن پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے اسے "کھپت پر مبنی” (Consumption-led) بنا دیا ہے۔ ہم وہ قوم بن گئے ہیں جو آئی فون درآمد کرتی ہے، درآمد شدہ پٹرول پر گاڑی چلاتی ہے اور غیر ملکی برانڈز کے کھانے کھاتی ہے، لیکن اپنی کوئی ایسی چیز پیدا نہیں کرتی جسے دنیا خریدنے پر مجبور ہو۔ جب تک ہماری معیشت "پیداوار پر مبنی” (Production-led) نہیں ہوگی، ہم ڈالر کے ریٹ اور آئی ایم ایف کی قسطوں کے قیدی رہیں گے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زرمبادلہ کے ذخائر صرف قرضوں سے نہیں بڑھتے، بلکہ وہ تب بڑھتے ہیں جب ملک کا کسان کھیت میں اور مزدور فیکٹری میں کچھ ایسا تخلیق کرتا ہے جو سمندر پار بکتا ہو۔ آج ہمارا تجارتی خسارہ اس لیے ہے کہ ہماری درآمدات کی فہرست طویل ہے اور برآمدات کی ٹوکری خالی۔

سماجی و سیاسی اثرات: ایک لاوا جو پک رہا ہے معیشت کا اثر صرف بینکوں اور بازاروں تک محدود نہیں رہتا، یہ گھر کے چولہے اور انسان کے اعصاب پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جب ایک صنعتی یونٹ بند ہوتا ہے، تو صرف ایک مالک کا منافع ختم نہیں ہوتا، بلکہ ہزاروں گھرانوں کا چولہا بجھ جاتا ہے۔ بے روزگاری کا یہ جن جرائم، سماجی بے چینی اور ذہنی دبائو کو جنم دیتا ہے۔ آج کا نوجوان، جو ایم فل یا پی ایچ ڈی کر کے نکلتا ہے، جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کی صنعتیں اسے جذب کرنے کی سکت نہیں رکھتیں، تو وہ مایوس ہو کر ملک چھوڑنے (Brain Drain)پر مجبور ہو جاتا ہے۔ یہ انسانی سرمائے کا زیاں کسی بھی مالیاتی خسارے سے بڑا نقصان ہے۔

اصلاحاتی نقشہِ راہ: اب نہیں تو کبھی نہیں اگر ہم واقعی اس بحران سے نکلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں سطحی اقدامات (Cosmetic Measures)کے بجائے جراحی (Surgery)کی ضرورت ہے

توانائی کے نرخوں میں اصلاحات: صنعت کے لیے بجلی اور گیس کے نرخوں کو علاقائی سطح ( بنگلہ دیش اور بھارت) کے برابر لانا ہوگا تاکہ ہماری مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت کر سکیں۔

ٹیکس نیٹ کی توسیع: بجائے اس کے کہ پہلے سے موجود ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالا جائے، ہمیں ان شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا جو اب تک اس سے باہر ہیں۔ "کم شرحِ سود، زیادہ ٹیکس نیٹ” کا فارمولا اپنانا ہوگا۔پالیسی کا استحکام: ریاست کو کم از کم 10 سالہ "معاشی میثاق” (Charter of Economy) کرنا ہوگا تاکہ حکومت بدلنے سے معاشی سمت نہ بدلے۔

ایس ایم ای (SME)سیکٹر کی سرپرستی: بڑی صنعتوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو آسان قرضے اور تکنیکی امداد فراہم کرنی ہوگی۔

حاصلِ کلام: حرفِ آخر پاکستان کی معیشت اس وقت ایک چوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک راستہ وہی پرانا ہے جس پر ہم ادھار لے کر گزارا کرتے ہیں اور اپنی نسلوں کو مقروض چھوڑ جاتے ہیں۔ دوسرا راستہ کٹھن ہے مگر منزلِ مراد تک لے جاتا ہے اور وہ راستہ ہے محنت، پیداوار اور صنعتی خود انحصاری کا۔ بحیثیت استاد اور لکھاری، میرا یہ ماننا ہے کہ پاکستان کے پاس انسانی اور قدرتی وسائل کی کمی نہیں، صرف سمت کا تعین باقی ہے۔ اگر ریاست، صنعت کار اور مزدور ایک پیج پر آ جائیں اور "پیداوار” کو قومی ترجیح اول بنا لیا جائے، تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا روپیہ بھی مستحکم ہوگا اور ہماری ساکھ بھی۔ یاد رہے کہ معیشتیں صرف کتابوں سے نہیں، کارخانوں سے بنتی ہیں۔

جواب دیں

Back to top button