کالم : شہادت

کالم : شہادت
راجہ شاہد رشید
عنوان:ایوانِ بالا میں برسوں بعد اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کی نوائے حق
ایوانِ بالا میں برسوں بعد کسی نے صدائے حق بلند کی، آج آپ بھی سُنیں سینٹ سے سر بلند ہونے والی ’’ صدائے عباس‘‘ ۔ اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے عالمی طاقتوں کو للکار کر یہ ثابت کیا ہے کہ غیرت مند مسلم اقوام سر جھکا کر نہیں جیا کرتیں بلکہ باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی ہیں۔ سینیٹر راجہ ناصر عباس نے اپنے دبنگ خطاب میں کہا کہ ’’ رہبرِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنائی آلِ رسولؐ ہیں اور مولا علی حیدر کرارؓ کی اولاد میں سے ہیں، ان کی عمر قریباً پچاسی یا چھیاسی برس ہے، مگر وہ بھاگنے والے نہیں ہیں، وہ حُسینی ہیں، امام حسینؓ بھاگے نہیں تھے وہ بھی نہیں بھاگیں گے، وہ ڈریں گے نہیں میدان میں ڈٹے رہیں گے اور ہر فرعون کا مقابلہ کریں گے، ان کا مقابلہ کرنا درحقیقت پاکستان کا بھی دفاع ہے، ایک ایسی دیوار قائم ہو چکی ہے جو پاک وطن کے لیے بھی حفاظتی دیوار کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم پاکستان کی، مشرق کی بلکہ مسلم اُمہ کی حفاظت فرمائیں، انہوں نے کہا کہ ایک شخص کہتا ہے میں بہت طاقتور ہوں، اس کا نام ڈونلڈ ٹرمپ ہے جو کہتا ہے میرے پاس لا محدود ملٹری پاور ہے، میں جو چاہوں گا کروں گا، وہ کہتا ہے میں ایران پر حملہ کروں گا۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس، کیا دنیا ایسے چلے گی۔؟ یہ خطرات و دھمکیاں صرف ایران کو نہیں ہم سب کو ہیں، ہمیں اکٹھے ہو کر سٹینڈ لینا چاہیے، ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہونے کے اعتبار سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اُو آئی سی اور ہمسایہ ممالک کو دعوت دیں، سعودی عرب، رشیا، چائنہ، ترکی سمیت تمام عرب ممالک کو بلا کر سب بیٹھ کر یہ فیصلہ کریں کہ ہم کسی کو بھی اس خطے کے اندر کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے‘‘۔
راجہ ناصر عباس نسلاً جموں کے سورج بنسی ڈوگرہ راجپوتوں کی گوت پکھڑال جموال کے وہ شیر راجہ مہاراجہ ہیں جو کٹ مرنے کو تو ترجیح دیتے ہیں لیکن کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ ان کا پیدائشی تعلق پکھڑال راجگاں کے مشہور و معروف قصبہ چک راجگان گوجرخان کی ایک معزز اور معتبر قبیلے سے ہے جو اچھی ساکھ اور شہرت رکھتا ہے۔ موصوف ایک دبنگ و بہادر انسان ہیں، نظریاتی سیاستدان ہیں اور قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کو جُرات مند و جینوئن جمہوری لیڈر جانتے مانتے ہیں۔ فرماتے ہیں میں نوجوان تھا، کراچی ریلوے سٹیشن پر تھا، وہاں سے اخبار لیا تو معلوم ہوا کہ بھٹو کو پھانسی دے دی گئی ہے، میں اس سے قبل کبھی اتنا نہیں رویا تھا جتنا اس دن رویا۔ میرے خیال میں عہدِ موجود میں شاید ہی کوئی اور سیاسی لیڈر اس قدر دلیری اور بے باکی سے بات کرتا ہوگا جس انداز میں راجہ ناصر عباس بولتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ’’ میں باہر نکلتا ہوں مجھے ماریں گولی، ہم غیرت مند قوم ہیں بزدلوں کی نسل نہیں ہیں، یہ ہمیں مارنے سے ڈراتے ہیں مگر ہم امام حسین علیہ السلام کے ماننے والے ہیں، ہم قتل سے شہادت سے کیوں بھاگیں گے، شہادت تو عزت کی موت ہے، میں پینسٹھ سال کا ہو گیا ہوں اور کتنا جینا ہے، بہتر نہیں ہے کہ شہید ہو کر اللہ کے پاس جاں، عوام کے حقوق کی جنگ لڑتے ہوئے، ظلم سے ٹکراتے ہوئے، سچائی کا ساتھ دیتے ہوئے اور مظلوم عوام کے لیے آواز اٹھاتے ہوئے مرنا عزت ہے‘‘۔ شاید اسی ’’ نوائے عباس‘‘ کو دبانے کے لیے ہی علامہ راجہ ناصر عباس کے بیٹے کو گرفتار کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی اس حیدری ملنگ کے تخیل کا رخ تبدیل نہ ہوا، آج بھی ان کے سیاسی صراط اور افکار وہی ہیں جو پہلے تھے۔ حالات حاضرہ پہ گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ عدلیہ بہت اچھا کام کر رہی ہے، اسٹیبلشمنٹ کے بزرگان کہتے ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے لیکن کیا ہم سر پر قرآن رکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ ہر کسی کو اپنے حلف کی طرف لوٹنا ہوگا۔ کل اچکزئی صاحب نے کہا کہ میں نے کبھی باپ اور بڑے بھائی کا ہاتھ نہیں چوما لیکن آرمی چیف اگر اپنی ڈومین(Domin)میں چلے جائیں تو میں ان کے ہاتھ چوموں گا بلکہ ہم سارے ان کو سلیوٹ ماریں گے۔ ضروری یہ ہے کہ ہر کوئی آئین کے اندر رہ کر کام کرے، کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ بغیر کسی وجہ کے لوگوں کو اُٹھائے اور جیلوں میں ڈال دے۔
راجہ ناصر عباس کے سینے میں ایک نہیں کئی ایک راز ہیں اور نئے نرالے انکشاف بھی ہیں لیکن پھر کبھی سہی۔ انکشاف سے یاد آیا کہ کافی مدت سے برادرم و محترم حامد میر جی کے منہ سے بھی بڑے بڑے انکشافات نکل رہے ہیں بلکہ اُبل رہے ہیں، بتلاتے ہیں کہ فیض حمید کو صرف ایک سزا سنائی گئی، اس کی کرپشن داستانیں طویل ہیں، کالے کرتوت و ثبوت چہار سُو بکھرے ہیں، نو مئی کا ماسٹر مائنڈ بھی یہی ہے، بیماری کے بہانے نواز شریف کو برطانیہ بھگانے بھیجنے کا کام بھی اس نے کیا، زرداری کو بھی ملک سے باہر بھیجنے کے در پے تھا، ppکی اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی کرتا رہا لیکن ناکام رہا، اس نے ایک بزنس مین سے پانچ ارب روپے زبردستی چھینے، تیس ارب ہائوسنگ سکیم میں انویسٹ کیا اس کے علاوہ یو اے ای میں بیٹھے ایک پاکستانی بزنس مین کو لوٹتا رہا، اس نے ایک ن لیگی سینیٹر پر مقدمہ بنوا کر پیسے لیے اور پھر بعد میں جب اسی لیگی رہنما کے بیٹے کی شادی تھی تو فیض نے سینیٹر کو میسج کیا کہ فوراً پیسہ بھیجو نہیں تو تمہارے بیٹے کو شادی والے دن گرفتار کر لیا جائے گا، شادی میں شرکت کی اجازت پر اس نے 13کروڑ روپیہ زبردستی وصول کیا۔ سینیٹر کا بیٹا بھی ن لیگ کا ایم این اے ہی، ان سب کو بتانا چاہیے، نیب نے مجھ سے پوچھا تو میں ان کے کام نام تک بتا دوں گا۔ اور بھی بڑی باتیں ہیں اگلے کالم میں وضاحت اور تفصیل سے لکھوں گا۔
یوں تو ہم لوگ بلانے پہ بھی کم بولتے ہیں
پر جہاں کوئی نہیں بولتا ہم بولتے ہیں
گنگ ہوجاتے ہیں جب شعلہ نوا بھی خالد
اُس کڑے وقت میں ہم اہلِ قلم بولتے ہیں







