Column

نقل کا بڑھتا رحجان

نقل کا بڑھتا رحجان
عابد ضمیر ہاشمی
طلبہ کسی بھی ملک، قوم اور معاشرہ کا انتہائی قیمتی اثاثہ اور روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔ ملک وقوم کی تعمیر و ترقی، استحکام و عروج اور قوم کے خوابوں کی تعبیر اور تکمیل طلبہ سے ہی وابستہ ہوتا ہے، کیوں کہ طلبہ مستقبل کے معمار ہوتے ہیں اور ملک کی آئندہ تعمیر و ترقی اور استحکام کی بھاگ دوڑ انہی کے ہاتھوں میں ہوتی ہے۔ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونا سب کا حق ہے۔ کسی بھی طالب علم کی پڑھائی میں تشخیص کیلئے امتحانات لیے جاتے ہیں جس کے ذریعے اسکی قابلیت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں گزشتہ کئی برس سے امتحانات میں نقل کے رجحان میں کافی حد تک اضافہ ہو رہا ہے جو کہ ایک تشویش ناک بات ہے۔ کئی امتحانی سینٹرز میں دفعہ 144لگایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج نسل نو اعلیٰ تعلیم کے باوجود اظہار رائے، تحریرِ قلم سے قاصر ہے۔ سے سب سے بڑا نقصان ذہین فطین بچے محنت لگن کے باوجود کم، جب کہ نقل کے بل بوتے پر پاس ہونے والے اعلیٰ نمبرات لیتے ہیں جن سے محنت کرنے والے مایوس ہوتے۔ یہی بنیادی وجہ ہے کہ نقل کے رحجان نے صلاحیتوں کو زنگ آلود کر دِیا۔ نقل ایک ایسا روگ ہے، جو ملک و ملت کی جڑیں کھوکھلی کر رہا ہے، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو زنگ آلود، ان کے ارادوں کو کمزور، عزائم کو پست اور خودی کو ملیامیٹ کرکے قومی ترقی کی جڑ پر خنجر چلا دیتا ہے۔ نقل کلچر اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے اتنی ہی تیزی سے اس کے ذریعے پاس ہونے والے نوجوان معاشرے پر بوجھ بنتے جارہے ہیں۔ ان کے پاس سند تو ہوتی ہے مگر کسی کام کے اہل نہیں ہوتے، وہ ملازمت کے حصول میں بھی ناکام رہتے ہیں، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ منفی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ ہمیں ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کے لیے سب سے پہلے اپنا تعلیمی اور امتحانی نظام مضبوط بنانا ہوگا، دُنیا میں وہی قومیں کام یاب کہلاتی ہیں۔
نقل کا بڑھتا ہوا رجحان پاکستان کے تعلیمی نظام کا وہ ناسور ہے جس نے پورے تعلیمی نظام اور ڈھانچے کو ناکام اور ناکارہ بناکر رکھ دیا ہے۔ نقل کرانے کے لیے لی گئی دولت ناجائز و حرام ہوتی ہے۔
حرام غذا کھانے والے سے متعلق رسول اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’ و ہ جسم جنت میں داخل نہیں ہوگا، جس کی پرورش حرام غذا سے کی گئی ہو‘‘۔
قوم کی ترقی کا راز تعلیمی نظام میں پوشیدہ ہوتا ہے، نظام جس قدر پختہ اور بہتر قوم بھی اتنی ہی مضبوط اور ترقی یافتہ ہوتی۔ ہمارا مذہب ہمیں تعلیم حاصل کرنے، غور و فکر کرنے کی تلقین کرتا ہے، آج کے نوجوان کے پاس بڑی اسناد تو ہیں، مگر شعور، آگہی اور علم نہیں، اس کی بنیادی وجہ ’’ نقل‘‘ ہے۔
نقل سے گریڈ لینے کی صورت میں ایسے ڈاکٹرز وجود میں آتے ہیں جن کے ہاتھوں مریض موت کی وادی میں دھکیلا جاتا ہے۔ ایسے انجینئرز کی بنائی ہوئی عمارتیں زمین بوس ہو تی ہیں۔ غرض کہ ملک تمام تر شعبے میں پستی میں چلے جاتے ہیں، ایسے ہی تعلیم کا خراب معیار قوموں کی بربادی کا باعث بنتا ہے۔ اگر طالب علموں کو یقین ہو کہ امتحان شفاف ہوں گے تو وہ پڑھنے پر مجبور ہوں گے، کیوں کہ نہ پڑھنے کی صورت میں وہ ناکام ہو سکتے ہیں۔ نقل کے ذریعے پاس ہونے وا لے نوجوان معاشرے پر بوجھ بن جاتے۔ ا سے ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل دائو پر لگتا ہے۔ ہمارا ملک جن حالات سے گزر رہا ہے اور دُنیا جس برق رفتاری سے ترقی کر رہی ہے، ایسے میں ہمیں ’’ تعلیم یافتہ، باشعور، قابل‘‘ نوجوانوں کی اشد ضرورت ہے، اگر نسلِ نو تعلیم یافتہ نہیں ہوگی تو ہم کبھی ترقی کا سفر طے نہیں کر سکیں گے، معاشی طور پر مضبوط ہونا تو درکنار، جو کچھ اب تک حاصل کیا ہے اسے بھی کھونا پڑے گا۔ ملک کو ترقی یافتہ بنا نے کے لیے، تعلیمی نظام کی خامیاں دور کرنی ہوں گی، نقل کلچر کو ختم کرنا ہوگا۔
نسل نو کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ زیادہ نمبر حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو سال کے اوّل دن سے محنت اور پڑھائی کریں، اگر روز آدھا گھنٹہ بھی ایک مضمون کو دیا جائے، تو امتحان کے زمانے میں رات، رات بھر جاگ کر پڑھنے کی ضرورت پیش آئے گی اور نہ ہی نقل کرنے کی۔ دیر پا کام یابی چاہتے ہیں، تو محنت و مشقت کو اپنا شعار بنائیں، کیوں کہ قابلیت اپنا راستہ خود بناتی ہے۔ تعلیمی نصاب کو رٹہ سسٹم سے نجات دلاتے ہوئے جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے حکمت عملی وضع کی جانی چاہئے۔ ہمارے معیارِ تعلیم کی دشمن نقل اور پھر مختصر، آسان انداز میں ماڈل ٹیسٹ پیپر، خلاصہ جات، گیس پیپر، حل شدہ پرچہ جات اس کے ہاتھوں میں آجاتے ہیں جب منتخب مواد مربوط انداز میں مرتب کیا ہوا اس کو حاصل ہوجاتا ہے تو نتیجے میں علمی جستجو کا جذبہ طالب علم میں ختم ہوجاتا ہے وہ اپنی کامیابی کا انحصار ان امتحانی ٹوٹکوں پر کرتا ہے۔ کیونکہ وہ طالب علم سارا سال تعلیم سے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرتا ہے نتیجے میں یہ امتحانی ٹوٹکے اسے سمجھنے اور یاد کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں تو وہ امتحانات کے آخری ایام میں رٹے کا سہارا لیتا ہے۔ اس میں بھی وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ صرف ان سوالات کے جوابات کو رٹے کی مدد سے حافظے میں محفوظ کیا جائے جو عموماً ہر سال دہرائے جاتے ہیں عمومی طور پر ان کی تعداد دو درجن سے بھی کم ہوتی ہے اس کوشش کے نتیجے میں وہ پانچ سے چھ سوالات کے جوابات لکھ کر امتحان میں کامیابی حاصل کر لیتا ہے۔
جن مضامین میں رٹے سے کام نہیں لیا جاسکتا وہ طالب علم نقل کا سہارا تلاش کرتا ہے امتحان میں نقل دراصل علمی بددیانتی ہے اس کے منفی اثرات پورے نظام تعلیم پر مرتب ہوتے ہیں نقل کے رحجان سے لائق اور باصلاحیت طلبا کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے کیونکہ نقل کے نتیجے میں نالائق اور تعلیم میں دلچسپی نہ رکھنے والے طلبا زیادہ نمبر لے جاتے ہیں ذہین اور پڑھنے والے طالب علم اس صورتحال کا منفی اثر لیتے ہیں اور وہ بھی محنت سے جی چرانے لگتے ہیں تعلیمی سرگرمیوں میں ان کا ذوق و شوق ختم ہوجاتا ہے اس سے ہمارا پورا تعلیمی نظام متاثر ہوتا ہے۔ معاشرے کی اخلاقی اقدار زمین بوس ہونے لگتی ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستانی معاشرہ زوال کا شکار ہے بے ایمانی، ملاوٹ، جھوٹ، اقربا پروری، دولت کا ناجائز استعمال، ناجائز ذرائع سے دولت کا حصول، دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، غربت کا بڑھتا ہوا گراف۔ طلباء میں نقل کے رجحان کا ایک سبب والدین کی طرف سے بہترین گریڈ اور نمایاں کامیابی کا دبائو بھی تصور کیا جاتا ہے۔ والدین کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ سارا سال ان کے بچے علم کی کتابوں کو کتنا وقت، اہمیت اور توجہ دیتے رہے ہیں اور کتنا وقت غیر نصابی سرگرمیوں میں گزارتے ہیں۔ لیکن امتحانات قریب آتے ہی والدین طلبہ کے اعصاب پر سوار ہوجاتے ہیں اور ان سے بہترین نتائج کی امیدیں لگا لیتے ہیں۔ لیکن ظاہر ہے کہ اس عظیم مقصد کی تکمیل صرف اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب طلبہ اپنی تعلیم پر کماحقہ توجہ دیں اور دوران تعلیم ایک نیک صفت مسلمان اور ذمہ دار شہری کے جملہ اوصاف اپنے اندر پیدا کریں۔
ہر شعبہ زندگی میں ترقی اور کامیابی کیلئے علم کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ضرورت مستقبل کے معمار طلبہ پوری کرتے ہیں، اس لیے قوم کے بچوں کو صحیح تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنا ہم سب کا قومی، دینی اور اخلاقی فرض ہے۔ خدانخواستہ اگر یہ بنیاد کھوکھلی رہ گئی تو آگے چل کر ساری عمارت متاثر ہوسکتی ہے، جو شخص خود ادھورا اور علم و ادب سے کورا ہوگا، وہ بھلا ملک و قوم کی ترقی کا سہارا کیونکر بنے گا، لہٰذا طلبہ کی اچھی تعلیم سے کہیں زیادہ ان کی اچھی تربیت کی ضرورت ہے، اس لیے ضروری ہے کہ طلبہ علم و عمل کے خوگر اور پیکر ہوں۔ ان کی کامیابیاں ان کی اپنی محنت و لگن، جستجو اور جدوجہد سے عبارت ہوں۔ ان کے پاس ڈگریاں ان کی اپنی محنت اور کاوشوں کا نتیجہ ہوں تو ملک و قوم کی عمارت بلند اور مضبوط تر ہوگی۔ اس کے برعکس نقل کے بل بوتے پر حاصل کی ہوئی ڈگری مستند نہ ہوگی۔ نقل کی بہ دولت ملنے والی سند عملی زندگی میں کسی کام نہیں آئے گی اور نقل کے باعث ملنے والی ترقی، کامیابی اور کامرانی ہمیشہ کھوکھلی رہے گی۔ ہمیں حقیقی تعلیم کا حصول ممکن بنا نا ہو گا۔ جس سے معاشرہ تعلیم یافتہ، ملک و قوم کا نام روشن، ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ نقل کے بڑھتے رحجان کی حوصلہ شکنی ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

جواب دیں

Back to top button