جب حفاظتی نظام کاغذوں میں ہو، تو لاشیں حقیقت بن جاتی ہیں

جب حفاظتی نظام کاغذوں میں ہو، تو لاشیں حقیقت بن جاتی ہیں
عمران احمد سلفی
وہ چیخیں جو دھوئیں میں دب گئیں، وہ آنکھیں جو مدد کی تلاش میں اندھیرے میں پتھرا گئیں، وہ سانسیں جو آگ کے شعلوں کے بیچ ٹوٹ گئیں، اور وہ خاندان جو ایک لمحے میں اپنوں سے محروم ہو گئے ایم اے جناح روڈ کے شاپنگ پلازہ میں لگنے والی آگ صرف ایک حادثہ نہیں، ایک قیامتِ صغریٰ تھی۔ وہ لوگ جو زندہ جل گئے، وہ جو زخمی ہو کر اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں، اور وہ بدنصیب افراد جو طویل وقت تک عمارت میں پھنسے رہے، ان سب کی تکلیف کو الفاظ میں سمیٹنا آسان نہیں۔ دھوئیں سے بھری راہداریوں میں بھاگتے قدم، کھڑکیوں سے مدد کے لیے بلند ہوتے ہاتھ، اور جان بچانے کے لیے سیڑھیوں سے لگائی جانے والی چھلانگیں ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک ایسا سوال چھوڑ گئیں جس کا جواب آج بھی کوئی دینے کو تیار نہیں۔
ایم اے جناح روڈ پر واقع اس شاپنگ پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں کء قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، بہت سارے افراد زخمی ہوئے، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی، جبکہ متعدد افراد طویل وقت تک عمارت میں پھنسے رہے اور ابھی تک بھی ۔ آگ دیکھتے ہی دیکھتے سب منزلوں تک پھیل گئی، دکانیں، سامان، روزگار اور امیدیں سب کچھ راکھ میں بدلتا چلا گیا۔ مختلف اطلاعات نے اس سانحے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا۔ آٹھ فائر ٹینڈرز، اسنارکل اور واٹر باوزر کے باوجود آگ پر فوری قابو نہ پایا جا سکا، جس سے ایک بار پھر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ ہمارا نظام ایسے بڑے حادثات سے نمٹنے کے لیے کس قدر کمزور ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی اہم ہے کہ بروقت نہیں پہنچا گیا جس کی وجہ سے آگ پھیلتی چلی گئی اور اس پر قابو پانا مشکل ہوا دوسرا پانی کا ختم ہونا جدید انتظام نہیں ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہوا ایک مجاھد نوجوان فرقان شھادت کے منصب فائز ہوا
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی کراچی کے مختلف علاقوں میں واقع مارکیٹیں، مالز، گودام اور تجارتی مراکز فیکٹریاں آگ کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ اردو بازار، صدر، بولٹن مارکیٹ، لانڈھی، کورنگی بلدیہ اور دیگر علاقوں میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعات ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ بن چکے ہیں۔ ہر بار کروڑوں روپے کا نقصان ہوتا ہے، سینکڑوں دکاندار بے روزگار ہو جاتے ہیں، اور کئی خاندان زندگی بھر کے لیے اجڑ جاتے ہیں، مگر اس کے باوجود نہ کوئی مستقل حل نکالا جاتا ہے اور نہ ہی سنجیدہ احتیاطی تدابیر اختیار کی جاتی ہیں۔ ہر سال مارکیٹوں کا جلنا اب ایک معمول سا بن گیا ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ آخر آگ لگتی کیوں ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے زیادہ تر بازاروں اور شاپنگ پلازوں میں آگ لگنے کی بنیادی وجہ ناقص برقی نظام پر ڈال کر سازشی چہروں کو چھپایا جاتا رہا ہے ۔ اس سے انکار نہیں لیکن اس کی بھی ذمہ داری حکومت سندھ، میئر کراچی پر ہے پرانی اور بوسیدہ تاریں، ننگے جوائنٹس، اوور لوڈ میٹرز، غیر معیاری وائرنگ، غیر قانونی کنکشنز اور مناسب ارتھنگ کا فقدان کسی حادثے کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ کئی عمارتیں دہائیوں پرانی ہیں مگر ان کے برقی نظام کو کبھی جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ گیس لیکیج، ناقص سلنڈرز، غیر محفوظ پائپ لائنز اور آتش گیر مواد کا بے ہنگم ذخیرہ آگ کے پھیلائو کو مزید تیز کر دیتا ہے۔
بدقسمتی سے بیشتر مارکیٹوں میں فائر سیفٹی کا کوئی موثر نظام موجود نہیں۔ فائر الارم، اسپرنکلرز، اسموک ڈیٹیکٹرز، فائر ایکسٹنگوئشرز اور ایمرجنسی ایگزٹ جیسے بنیادی انتظامات یا تو موجود نہیں ہوتے یا صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہتے ہیں۔ اگر کہیں یہ آلات نصب بھی ہوں تو اکثر غیر فعال، خراب یا ناقابلِ استعمال ہوتے ہیں۔ تنگ راہداریوں، بند ایمرجنسی دروازوں اور تجاوزات نے آگ لگنے کی صورت میں لوگوں کے لیے نکلنے کے راستے مزید محدود کر دئیے ہیں، جس کا نتیجہ قیمتی جانوں کے نقصان کی صورت میں پڑتا ہے۔ اس کی زمہ داری حکومت سندھ کو قبول کرنی ہوگی اور فوری طور پر استعفیٰ دینا ہوگا عوام میں سخت غصہ ہے اور سندھ حکومت کو فارغ کرکے اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے اور انصاف دلایا جائے ۔
اس سانحے کا ایک اور نہایت افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے پاس وہ جدید آلات اور ٹیکنالوجی موجود نہیں جن کے ذریعے ہم فوری طور پر ایسی آگ پر قابو پا سکیں۔ بلند عمارتوں میں لگنے والی آگ بجھانے کے لیے جدید اسنارکلز، ہائیڈرولک لفٹس، خودکار فائر فائٹنگ سسٹمز، تھرمل کیمرے، جدید واٹر کینن اور اسموک کنٹرول ٹیکنالوجی کی شدید کمی ہے۔ فائر بریگیڈ کا عملہ محدود وسائل، پرانے فائر ٹینڈرز اور ناکافی پانی کے دبا کے ساتھ اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر فرائض انجام دیتا ہے، مگر جدید ایکوپمنٹ کے بغیر بڑے پیمانے پر لگنے والی آگ کو بروقت قابو میں لانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور آگ انسانی جانوں اور املاک کو نگلتی چلی جاتی ہے۔
افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ہر بڑے حادثے کے بعد تحقیقات کے اعلانات تو کیے جاتے ہیں مگر ان کے نتائج کبھی عوام کے سامنے نہیں آتے۔ نہ ذمہ داروں کو سزا ملتی ہے اور نہ ہی متاثرین کو مکمل انصاف۔ اگر اس واقعے میں عمارت کے مالکان، انتظامیہ، بجلی و گیس کے متعلقہ اداروں یا کسی سرکاری محکمے کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ان سب کو بھی سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذمہ دار اداروں کو قانونی طور پر پابند کیا جائے کہ وہ جانی و مالی نقصان کا ازالہ کریں، تاکہ آئندہ کوئی بھی انسانی جانوں کے ساتھ کھیلنے کی جرات نہ کرے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ شہر کی تمام پرانی مارکیٹوں اور شاپنگ پلازوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کیا جائے، برقی اور گیس نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے، تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے اور فائر بریگیڈ کو جدید آلات سے لیس کیا جائے۔ قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور باقاعدہ انسپیکشن کے بغیر ایسے سانحات کو روکنا ممکن نہیں۔عوام کی طرف سے یہ باتیں سامنے آرہی ہیں ،’’ کراچی کو فوری طور پر اسلام آباد یا پھر فوج کے حوالے کیا جائے‘‘، لوگ سندھ حکومت سے مکمل مایوس ہوچکے ہیں۔
دل خون کے آنسو روتا ہے ان خاندانوں کے لیے جنہوں نے اپنے پیارے کھو دئیے، ان زخمیوں کے لیے جو اسپتالوں میں زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور ان بے بس افراد کے لیے جو آگ اور دھوئیں کے درمیان مدد کے منتظر رہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم اگلے سانحے کا انتظار کریں گے یا اب بھی جاگ جائیں گے؟
اگر آج بھی ہم نے آنکھیں بند رکھیں تو کل پھر کوئی ماں اپنے بیٹے کی لاش پر رو رہی ہوگی، کوئی بچہ اپنے باپ کو ڈھونڈ رہا ہوگا، اور کوئی بازار پھر راکھ میں بدل چکا ہوگا۔ یہ آگ صرف عمارتوں کو نہیں جلاتی، یہ ہمارے ضمیر، ہماری غفلت اور ہمارے نظام کی ناکامی کو بھی بے نقاب کر دیتی ہے۔
اب فیصلہ تو کرنا ہوگا





