مشرق ہو یا مغرب: عورت ہر جگہ ڈیجیٹل تشدد کا شکار

نہال ممتاز:
انٹرنیٹ کو عام طور پر معلومات، تفریح اور آسان رابطے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آن لائن دنیا کے پاتال میں ایک تاریک جہنم بھی چھپی ہے۔
ہر کلک کے ساتھ خوف، دھمکیاں،ہیکینگ،بلیک میلنگ اور جنسی استحصال عمر و جنس کی تخصیص کے بغیربڑھ رہا ہے۔ تاہم خواتین اس کا اصل نشانہ ہیں ۔ مشرق ہو یا مغرب خواتین اس آن لائن دوزخ سے محفوظ نظر نہیں اتیں۔
یورپ میں خواتین آن لائن ہراساں کیے جانے، نفرت انگیز تقریر، سائبر اسٹاکنگ اور اسپائی ویئر کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نبرد آزما ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، انٹرنیٹ پر پھیلائی جانے والی 90 فیصد جعلی فحش ویڈیوز خواتین کو نشانہ بناتی ہیں، اور یہ مسئلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یونان میں 2023 سے اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق آن لائن دھمکیوں کا شکار ہونے والی خواتین کی تعداد 55 فیصد سے تجاوز کر گئی، اور سائبر اسٹاکنگ میں 70 فیصد خواتین متاثر ہوئی ہیں۔ ڈنمارک میں تصویر کی بنیاد پر بدسلوکی کے شکار نوجوانوں کی تعداد 2021 کے بعد تین گنا بڑھ گئی، اور نصف سے زیادہ یورپی ممالک نے ایسی بدسلوکی کے واقعات میں اضافے کی رپورٹ دی۔
مصنوعی ذہانت نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ ایلون مسک کی ملکیت میں چیٹ بوٹ گروک کی جانب سے خواتین کی تصاویر پر کم لباس والے ڈیپ فیک بنانے کی اطلاعات نے عوامی سطح پر تشویش بڑھا دی ہے۔ AI Forensics کے تجزیے کے مطابق، 53 فیصد تصاویر میں کم لباس والے افراد تھے جن میں 81 فیصد خواتین تھیں، جبکہ 2 فیصد میں نابالغ افراد بھی شامل تھے۔ پاکستان کی خواتین بھی اس خطرے سے محفوظ نہیں۔ یہاں بھی سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس اور دھمکی آمیز پیغامات بڑھتے جا رہے ہیں، اور اکثر لڑکیاں خوف کے باعث خاموش رہتی ہیں۔ ان کے لیے اپنی شناخت چھپانا اور رازدارانہ اکاؤنٹس استعمال کرنا معمول بن چکا ہے۔
گزشتہ پانچ سال میں تقریباً 1.8 ملین (18 لاکھ) خواتین پاکستان میں سائبر کرائم اور ڈیجیٹل تشدد کا شکار ہو چکی ہیں ، ان میں آن لائن ہراساں کیے جانے، سوشل میڈیا پر بدسلوکی اور دیگر ڈیجیٹل جرائم شامل ہیں۔
ان پانچ سالوں میں 2.7 ملین سے زائد ڈیجیٹل کرائم کی شکایات مختلف اداروں (پی ٹی اے، ایف آئی اے، پولیس وغیرہ) کے سامنے درج ہوئیں، جن میں 80% شکایات خواتین اور بچوں کی طرف سے تھیں۔
تشویشناک امر یہ ہے کہ زیادہ تر کیسز رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے کیونکہ مجرم کی شناخت یا انہیں جوابدہ ٹھہرانا آن لائن اتنا آسان نہیں۔
یہ صرف اعداد و شمار یا ٹیکنالوجی کی کہانی نہیں بلکہ حقیقی زندگی کی عورتوں اور لڑکیوں کے خوفناک تجربات کی عکاسی ہے۔ جب الگورتھمز نفرت انگیز اور جنسی مواد کو بڑے پیمانے پر پھیلاتے ہیں، نوجوانوں میں نقصان دہ خیالات اور تشدد کو معمول بنایا جاتا ہے۔ آن لائن دنیا میں حفاظت کی کمی، خواتین اور لڑکیوں کے لیے ایک مسلسل خطرے کی صورت اختیار کر گئی ہے۔
یہ واضح کرتا ہے کہ تکنیکی ترقی اگر بغیر نگرانی کے رہ جائے تو خطرناک نتائج بھی پیدا کر سکتی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ معاشرہ، حکومتیں، اور ٹیکنالوجی کمپنیاں مل کر اس خطرے کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ صرف قوانین یا پلیٹ فارم کی حدود پر انحصار کافی نہیں۔ حقیقی تبدیلی تبھی ممکن ہے جب آن لائن تشدد کے خلاف شعور، نگرانی اور ذمہ داری کو سب سے اوپر رکھا جائے۔ کیونکہ ایک محفوظ ڈیجیٹل دنیا میں ہر عورت اور ہر لڑکی کا حق ہے کہ وہ بلا خوف اپنی زندگی جئیے اور ہر کلک اس کے لیے محفوظ ہو۔







