نظریہ ضرورت

نظریہ ضرورت
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
کہتے ہیں ایک بادشاہ شکار کو نکلا۔ جنگل کے کنارے اس نے ایک درویش کو دیکھا جو درخت کے سائے تلے بیٹھا خشک روٹی کھا رہا تھا۔ بادشاہ نے فخر سے پوچھا: ’’ اے فقیر، تجھے کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا، میں بادشاہ ہوں‘‘۔ درویش مسکرایا، روٹی کا نوالہ منہ میں رکھا اور بولا: ’’ ہاں، اگر ممکن ہو تو ذرا خاموشی عطا کر دو، تاکہ میں سکون سے کھا سکوں‘‘۔ بادشاہ حیران رہ گیا۔ اس لمحے وہ سمجھ گیا کہ اقتدار، دولت اور شان و شوکت کے باوجود وہ اس درویش کے درجے تک نہیں پہنچ سکا، کیونکہ درویش کی بنیادی ضرورت پوری تھی اور بادشاہ کی روح اب بھی بے چین تھی۔
انسانی زندگی کا یہی وہ سچ ہے جسے ماہرِ نفسیات ابراہم ماسلو (Abraham Maslow) نے Hierarchy of Needs کی صورت میں بیان کیا۔ یہ نظریہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ انسان کس ترتیب سے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس ڈھانچے کی بنیاد جسمانی ضروریات سے شروع ہوتی ہے اور بتدریج خود شناسی اور خود تکمیل کی اعلیٰ سطح تک پہنچتی ہے۔ ماسلو کے مطابق انسان کا سفر پیٹ سے شروع ہوتا ہے اور مقصد پر جا کر ختم ہوتا ہے۔
قرآن مجید سورہ قریش میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ پس انہیں چاہیے کہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں، جس نے انہیں بھوک سے ( نجات دے کر) کھانا دیا۔ اور انہیں خوف سے محفوظ رکھا‘‘۔
غور کیجیے، اللہ نے عبادت سے پہلے بھوک مٹانے اور خوف ختم کرنے کا ذکر کیا۔
پہلا زینہ، جسمانی ضروریات (Physiological Needs)، اس hierarchyکی سب سے نچلی سطح پر بنیادی جسمانی ضروریات جیسے خوراک، روٹی، پانی، کپڑا، رہائش، نیند شامل ہیں۔ دُنیا میں کروڑوں لوگ ابھی پہلے زینے پر کھڑے ہیں۔ بھوک، غربت، پیاس، بیماری، مہنگائی اور بے چھت زندگی۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث لاکھوں افراد کو دو وقت کی روٹی اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔ لوگوں کی پسماندگی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ جب تک یہ بنیادی ضروریات پوری نہیں ہوتیں، انسان دیگر ضروریات کی طرف توجہ نہیں دے سکتا۔ امام غزالیؒ فرماتے ہیں ’’ جس معاشرے میں بھوک عام ہو، وہاں اخلاق وعظ سے پیدا نہیں ہوتے‘‘۔
یہی وجہ ہے کہ جب پیٹ خالی ہو تو فلسفہ، شاعری، جمہوریت اور انقلاب سب بے معنی لگتے ہیں۔ سائنس بھی یہی کہتی ہے۔ انسانی دماغ کا prefrontal cortexاُس وقت تک بہتر فیصلے نہیں کر سکتا جب تک جسمانی ضرورت پوری نہ ہو۔
دوسرا زینہ، تحفظ کی ضروریات (Safety Needs)، جن میں ذاتی تحفظ، مالی تحفظ، صحت کا تحفظ، اور خاندان کا تحفظ شامل ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے جب روم کی سڑکیں محفوظ تھیں تو فلسفہ پروان چڑھا، اور جب بغداد میں امن تھا تو علم کی شمع روشن ہوئی۔ پاکستانی معاشرے میں امن و امان کی صورتحال، معاشی عدم استحکام، اور صحت کی ناقص سہولیات لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہیں۔ بے روزگاری کا خوف، بڑھتے ہوئے جرائم، اور قدرتی آفات سے تحفظ کا فقدان افراد کو ذہنی اور جذباتی طور پر پریشان رکھتا ہے۔ خوف انسان کی تخلیقی صلاحیت کو مفلوج کر دیتا ہے۔ یہی آفاقی قانون ہے۔
ہوبز (Hobbes) کہتا ہے، ’’ خوف کے ماحول میں انسان، انسان کا بھیڑیا بن جاتا ہے‘‘۔
تیسرا زینہ، سماجی ضروریات ، تعلق اور اپنائیت (Love and Belonging Needs)ہے۔ انسان سماجی جانور ہے۔ سماجی تعلقات، دوستی، خاندان میں اپنائیت اور معاشرتی قبولیت کی خواہش شامل ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کے اس نفسا نفسی کے دولت اور طاقت پرستی کے دور میں ہم تنہا ہوگئے ہیں۔ جب رشتے کمزور ہوتے ہیں، تو انسان اندر سے ٹوٹ جاتا ہے، چاہے اس کے پاس سب کچھ ہو۔ بڑھتی ہوئی شہری آبادی میں مقابلے کے رجحان نے انفرادی زندگی اور سوشل میڈیا کے اثرات نے ان روایتی رشتوں کو کچھ حد تک متاثر بھی کیا ہے۔
چوتھا زینہ، عزت و وقار کی ضروریات (Esteem Needs)، چوتھی سطح پر خود اعتمادی، کامیابی، دوسروں سے عزت حاصل کرنا اور خود کو باوقار محسوس کرنا شامل ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انسان خود کو ’’ کچھ‘‘ ثابت کرنا چاہتا ہے۔ یہاں کامیابی، تعلیم، عہدہ اور پہچان معنی رکھتی ہے۔ پاکستانی معاشرے میں تعلیمی کامیابی، اچھی نوکری، اور مالی استحکام کو عزت کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ لوگ سماجی حیثیت اور رتبے کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ یہ ضروریات افراد کو بہتر کارکردگی دکھانے اور اپنی صلاحیتوں کو منوانے پر مجبور کرتی ہیں۔ تاہم، تعصب، میرٹ و انصاف کی پامالی ، رشوت سفارش کلچر اور امتیازی سلوک بعض اوقات بہت سے لوگوں کو اپنی عزت نفس حاصل کرنے سے روکتا ہے۔
پانچواں زینہ، خود شناسی، خود تکمیل (Self-Actualization)، اس hierarchyکی سب سے آخری اور اعلیٰ سطح پر خود شناسی یا خود تکمیل کی ضرورت ہے، جہاں انسان اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے اور اپنی زندگی کا مقصد حاصل کرتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان سوال کرتا ہے۔ ’’ میں کیوں ہوں؟‘‘، یہاں سقراط، بدھ، رومی، اقبالؒ اور سر سید ملتے ہیں۔ یہاں سائنسدان دریافت کرتا ہے، شاعر تخلیق کرتا ہے اور صوفی خود کو مٹا دیتا ہے۔
اقبالؒ نے اسی لیے کہا:
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
پاکستان میں بدقسمتی سے بہت کم لوگ اس سطح تک پہنچ پاتے ہیں، کیونکہ قوم کا زیادہ وقت پہلے دو زینوں میں ضائع ہو جاتا ہے۔ بنیادی ضروریات زندگی اور تلاش تحفظ ہی اکثریت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔ تاہم، جو لوگ ان ابتدائی مراحل کو پار کر لیتے ہیں، وہ فن، سائنس، ادب، اور سماجی بہبود جیسے شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دیتے ہیں۔ ایسے افراد معاشرے کے لیے مشعلِ راہ بنتے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنی صلاحیتیں نکھارنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ ماسلو کا ڈھانچہ پاکستانی معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہے، جو ہماری ترجیحات اور چیلنجز کو واضح کرتا ہے۔ جب معاشرے کی ایک بڑی تعداد بنیادی ضروریات کی تکمیل میں مصروف ہو تو تعلیم، صحت، اور جدید تحقیق جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ حکومت اور سماجی تنظیموں کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے عوام کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کو یقینی بنائیں تاکہ لوگ ترقی کی اگلی منزلوں کی طرف بڑھ سکیں۔ اگر بنیادی ضروریات پوری ہو جائیں تو افراد کی تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھتی ہیں اور وہ معاشرے کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس نظریے کی روشنی میں، ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے جہاں ہر فرد کو اپنی پوری صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا موقع ملے۔ ماسلو کا نظریہ دراصل ہم سے ایک سوال کرتا ہے۔ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اور کہاں جانا چاہتے ہیں؟ اگر ریاست عوام کو روٹی اور تحفظ دے دے تو یہ قوم علم، تحقیق، اخلاق اور تخلیق میں دنیا کو حیران کر سکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے، آفاقی قانون یہی ہے۔ آخر میں سوال وہی ہے جو میں آپ پر چھوڑتی ہوں۔ آپ اس hierarchy کے کس زینے پر ہیں؟ اور کیا آپ صرف زندہ رہنا چاہتے ہیں یا واقعی ’’ پورا انسان‘‘ بننا چاہتے ہیں؟ کیونکہ دراصل بادشاہ وہی ہے، جسے درویش کی طرح سکون نصیب ہو۔





