Columnمحمد مبشر انوار

غیر متوقع اقدامات

غیر متوقع اقدامات
محمد مبشر انوار
صدر ٹرمپ اپنی غیر متوقع و غیر یقینی شخصیت کے باعث ہمیشہ غیر متوقع باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں اور بالعموم اپنی ہی کہی ہوئی باتوں کے بالکل برعکس عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں، جس پر انہیں کبھی کوئی ندامت نہیں ہوئی بلکہ وہ اسے اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ ایک سیاستدان کی شخصیت بالعموم انتہائی گہری اور مدبر ہوتی ہے اور عمومی طور پر ان کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ،ان کے عمل کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے لیکن بدقسمتی سے ٹرمپ ان تمام بنیادی عوامل؍ خواص سے مبرا دکھائی دیتے ہیں ماسوائے ایک حقیقت کے کہ ان کے متعلق یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ وہ رقم کے حصول میں کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ بہرکیف اس سے قطع نظر،اپنی انتخابی مہم کے دوران ،ٹرمپ نے جو دعوے اور وعدے کئے تھے ،ان میں سرفہرست غزہ میں جاری نسل کشی کو رکوانا، دو ریاستی حل کی جانب جانا ،یوکرین میں جاری جنگ کو رکوانا اور دنیامیں امن کی مضبوط بنیاد فراہم کرنا تھا تو داخلی طور پر امریکہ کو ایک مرتبہ پھر نئے سرے سے ،ٹھوس معاشی بنیاد فراہم اور معیشت کو ازسر نو زندہ کرنا تھا۔ تاہم بنیادی مقصد عالمی سطح پر امن عالم کی راہ کو ہموار کرنا ہی تھااور اس ضمن میں ،ٹرمپ کی سب سے بڑی کامیابی اگر تصور ہو سکتی ہے تو وہ پاک بھارت کشیدگی کو فی الفور ختم کروانا تھا ،جس کے شدید ترین ہونے کے امکانات کبھی بھی رد نہیں کئے جاسکتے کہ بھارت اپنے بڑے حجم،بڑی فوج،زیادہ اسلحہ پر ہمیشہ حدسے زیادہ اعتمادکرتا ہے اور اپنے برتر ہونے کا زعم ،اسے نچلا نہیں بیٹھنے دیتا البتہ بھارت ،صرف 1971ء میں پاکستان کو زیرزمین جنگی چالیں چل کر زیر کرنے میں بمشکل کامیاب ہوپایا تھا۔ اس فتح کا غرورآج بنگلہ دیش نے پاکستان کے ساتھ ازسرنو تعلقات کو زندہ کرکے ،زمین میں ملادیا ہے او ر ایک بار پھر پاکستان اور بنگلہ دیش ،یک جان دو قالب کا منظر پیش کرتے ہوئے،بھارت کی سانسیں دوبھر کررہے ہیں کہ پاک بنگلہ دیش صرف دفاعی میدان میں ہی نہیں بلکہ کرکٹ کے میدان میں بھی ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے،بھارتی غرورو اجارہ داری کو نہ صرف اپنے بلکہ ساری دنیا کے پیروں میں روندتے دکھائی دے رہے ہیں۔ خیر بات امریکی صدر ٹرمپ کی ہو رہی تھی کہ اس ایک جنگ کے علاوہ چند دوسری جنگوں کو بھی ٹرمپ نے فوری رکوایا تھا لیکن جو اصل چیلنج ٹرمپ کو درپیش تھا،اس میں ٹرمپ آج بھی ناکام دکھائی دے رہا ہے کہ نہ غزہ میں جنگ بندی ہوئی ہے اور نہ ہی یوکرین میں روسی جارحیت کا ختم ہوا ہے بلکہ روسی جارحیت اور قبضہ میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ ان دوجنگوںکو رکوانے میں اپنی توانائی صرف کرنے کی بجائے،ٹرمپ نے اپنی سمت ایک سو اسی زاوئیے پر تبدیل کر لی ہے اور پہلے اسرائیلی پشت پناہی کرتے ہوئے،ایران پر حملے کئے،اور تقریبا براہ راست جنگ میں کود گیا ،جس کے امکانات گو کہ اب بھی موجود ہیں لیکن تاحال امریکہ ایران کے خلاف کوئی بھی حتمی اقدام اٹھانے سے بوجوہ گریزاں ہے۔ ان وجوہات کے متعلق فوری طور پر بات کرنا مناسب نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ ایران کو جس قدر تر نوالہ امریکہ سمجھ رہا تھا،اب حالات ویسے نہیں رہے اور ایران پر جارحیت کا نقصان ،امریکہ کے لئے ہی نہیں بلکہ امن عالم کے لئے بھی ہو سکتا ہے اور بہرکیف امریکہ ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے ، اس امر کا خیال ضرور رکھنا پڑے گا۔امریکہ کورجیم چینج کے کھیل سے خصوصی رغبت ہے اور وہ دنیا کے مختلف ممالک میںیہ کھیل عرصہ سے کھیلتا آیاہے اور اس کھیل میں اس کے اپنے اصول وضوابط ہیں،جو درحقیقت کوئی اصو لکوئی ضابطہ نہیں بلکہ جس طریقہ سے بھی امریکی مفادات حاصل ہوسکتا ہے،کسی اصول و ضابطے کی پرواہ کئے بغیر،حاصل کیا جائے۔ اس پس منظر میں ،امریکہ بجائے جنگیں رکوانے کے ،ایک اور متنازعہ عمل کر بیٹھا اور وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو صدارتی محل سے،اپنے مفادات کے حصول میں اغواء کرکے باقاعدہ امریکی عدالت میں پیش کردیا،اس امریکی اقدام نے ،امریکہ کے چہرے سے ایک اور نقاب کھینچ لیا ۔ بات صرف امریکی نقاب کی ہوتی تو اتنا فرق نہ پڑتا مگر اس حرکت نے ،ایک طرف روسی جارحیت کو جواز فراہم کردیا تو کل کسی وقت چین کو بھی تائیوان پر قبضے کا جواز فراہم کرے گاگو کہ چین نے ہمیشہ سے تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیا ہے اور تائیوان کو دنیا میں گنتی کے چند ممالک ہی تسلیم کرتی ہیں۔ وینزویلا کے صدر کو اغواء کرنے کے پس پردہ جو محرکات تھے،یا روسی تیل بردار جہازوں کو اپنے قبضہ میں لے کر،تیل پر ملکیت کا جو تاثر امریکہ دینا چاہتا تھا،وہ اس وقت بری طرح ناکام ہو گیا جب ان جہازوں میں سے صرف ایک جہاز امریکی ساحلوں تک پہنچ سکا جبکہ دوسرے جہاز میں موجود تیل سمندر کارزق بن کر ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہا ہے۔ سب سے نمایاں خفت کا مقام امریکہ کے لئے اتنی لعنت کمانے کے بعدملا،وہ یہ ہے کہ امریکہ تاحال وینزویلا سے ایک قطرہ تیل بھی، اپنے لئے حاصل نہیں کر پایا کہ وینزویلا کی بندرگاہوں پر کنٹرول آج بھی ،وزیر داخلہ کیبولا کا ہے اور اس نے ابھی تک امریکیوں کو ان بندرگاہوں تک رسائی نہیں دی حالانکہ اس نے امریکیوں سے تاوان کی مد میں اچھی خاصی رقم بھی بٹور لی ہے لیکن تیل کا ایک قطرہ تک امریکہ کو لے جانے نہیں دیا۔
اس کے باوجود امریکی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ گرین لینڈ میں موجود معدنی وسائل کو ہتھیانے کی غرض سے مسلسل ڈنمارک پر دبائو بڑھا رہا ہے اور کسی بھی طور گرین لینڈ پر اپنا قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اس کشمکش میں صورتحال یہ ہے کہ نیٹو ممالک، جو امریکی اتحادی ہیں، ڈنمارک کی حمایت میں اس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں لیکن ٹرمپ، اپنی خواہش میں اس قدر اندھا ہو چکا ہے کہ وہ نیٹو ممالک کی اس جرآت رندانہ کے خلاف، ان پر ٹیرف کا اطلاق کرکے ان کی زبان بندی کرنا چاہ رہا ہے۔ دوسری طرف وہ گرین لینڈ میں مقیم، چھپن ہزار باشندوں کو ایک ملین ڈالر اور امریکی شہریت کا لالچ تک دے رہا ہے کہ کسی طرح وہ اس سرزمین پر اپنا قبضہ جما سکے۔ تیسری طرف اس سے بھی عجیب و غریب پیشکش کر رہا ہے کہ وہ گرین لینڈ کا خطہ بعوض سات سو بلین ڈالر خریدنا چاہتا ہے، حیرت انگیز امر یہ ہے کہ اس خطہ کو بیچنے والے کا کسی کو کوئی علم نہیں، تو یہ پیشکش کس کو کی جارہی ہے؟ گرین لینڈ بیچنے کا دعویدار کون ہے؟ یہ رقم وصول کون کرے گا؟ ایسی ہی پیشکش غزہ امن بورڈ بناکر، ذیلی کمیٹی کی رکنیت ایک ارب ڈالر کے عوض بمدت تین سال، دنیا کے مختلف رہنمائوں ؍ ریاستوں کو کی جا چکی ہے، اس کمیٹی کو وجود میں لانے کے عوض جو رقم حاصل ہو گی، اس سے غزہ کی تعمیر نو کا پروگرام ہے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ غزہ امن پروگرام کے تحت، اگلے مرحلے میں امن فورس کی تعیناتی کو پس پشت ڈال کر، حصے بخرے نوچنے کا منصوبہ دیا گیا ہے، اور اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کمیٹی میں شرکت کے لئے، اسرائیل کو بھی دعوت نامہ دیا جا چکا ہے، یعنی مظلوم کی حفاظت کے لئے، ظالم کو رکن بنایا جارہا ہے۔ بائیڈن کو ’’ سویا ہوا بائیڈن‘‘ کہنے والا ٹرمپ نجانے کس دماغی حالت میں ہے کہ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی ہے کہ وہ کس قسم کی کمیٹی تشکیل دے رہا ہے اور اس سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسرائیل درندگی کو فی الفور ختم کیا جاتا، فلسطینیوں کو اپنی ریاست کو چلانے کے لئے نامزد کیا جاتا، اختیار ان کو دیا جاتا اور ان خاطر خواہ فنڈز فراہم کئے جاتے کہ وہ اپنی ریاست کی تعمیر نو کریں، ان کو اسرائیلی چیرہ دستیوں سے محفوظ بنانے کے اقدامات کئے جاتے، ان اقدامات کو یقینی بنایا جاتا لیکن گدھوں کی مانند، لٹے پٹے غزہ کو نوچنے کے لئے، اپنے پنجے تیز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

جواب دیں

Back to top button