چاہ بہار سے آگے جہاں

چاہ بہار سے آگے جہاں
صورتحال
سیدہ عنبرین
غلام قوموں کی غلامی کا دورانیہ طویل ہو جائے تو وہ مختلف قسم کی ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہیں، ایسے ذہنوں کے پاس ’’ تانک جھانک‘‘ اہم مشغلہ ہوتا ہے، لیکن یہ مشغلہ نہیں دراصل بیماری ہے، اس کے اسیر نظر رکھنا اپنا فرض سمجھتے ہیں، کہ آپ نے رات کیا کھایا اور کل کیا کھائیں گے۔ پہنا ہوا تو نظر آ جاتا ہے، لیکن وہ پریشان کئے رکھتا ہے جو نظر نہیں آتا، یہ معاملہ انفرادی حد تک غیر ضروری، لیکن قومی طور پر انتہائی ضروری اور وقت کی ضرورت قرار پا چکا ہے۔ آپ کے ملک کے ہمسائے میں کیا ہو رہا ہے، اس کی خبر رکھنا ضروری ہے۔
اپنے یہاں سے اکثر خبر ملتی ہے فلاں اتنے روز یا اتنے گھنٹے کیلئے آیا، اس نے دوچار اہم شخصیات سے ملاقات کی، شکار کھیلا اور چلا گیا۔ سمندر، صحرا، بیاباں، ریگستان، جھرنے اور ندیاں دنیا کے مختلف ممالک میں پائی جاتی ہیں، وہاں بھی ہر طرح کا شکار ہو گا، چرند پرند، مرغابیاں، مچھلی، ہرن حتیٰ کہ خونخوار درندے۔ کیا ہے جو کہیں اور نہیں، لیکن بھارت میں کسی غیر ملکی سربراہ کے شکار کھیلنے کی خبر نہیں ملتی، وہاں گھومنے پھرنے، جسم و جاں کی تازگی کیلئے بہت ہے، لیکن جب بھی خبر آئے گی تو یہ خبر آئے گی کہ فلاں ملک کے سربراہ آئے، ان کے وفد میں فلاں فلاں اہم شخصیات، اہم وزراء شامل تھے، انہوں نے فلاں فلاں معاملے پر گفتگو کی، فلاں پر زور دیا اور فلاں فلاں معاہدے ہوئے، جو فلاں برس تک مکمل ہو جائیں گے۔
آج کے تیز رفتار دور میں وقت کی قدر و قیمت بڑھ گئی ہے، جنہیں اس قدر کا احساس ہو چکا ہے وہ مہینوں ہفتوں اور کئی دنوں کے کام اب گھنٹوں میں نپٹاتے ہیں۔
یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زید النیہان نے پاکستان کے مختصر دورے کے بعد بھارت کا دورہ کیا۔ خطے کی موجودہ صورتحال، غزہ، یمن، سوڈان اور خاص طور پر ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی عزائم کے حوالے سے یہ دورہ بہت اہم ہے، اس کی تمام تفصیلات تو کبھی سامنے نہیں آئیں گی، دستیاب ذرائع کے مطابق دستیاب تفصیلات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ باہمی مفادات کیا کیا ہیں اور کتنے اچھے ہیں۔
یو اے ای کے صدر بھارت پہنچے تو بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے ان کا پرجوش استقبال کیا۔ مودی کو کسی بھی سربراہ کو جپھی ڈالنے کا موقع مل جائے تو منظر بہت دلچسپ ہوتا ہے، لگتا ہے کمبل ریچھ کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ۔ ملک کا وزیراعظم جب کسی کے استقبال کیلئے کشاں کشاں ایئر پورٹ پہنچ جائے تو ہر ادارے کا سربراہ وہاں پروٹوکول کے تحت موجود ہوتا ہے، سو بھارت میں بھی یہی منظر تھا۔
یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زید النیہان نے جب سے صدر کا منصب سنبھالا ہے، یہ ان کا تیسرا دورہ بھارت ہے، جبکہ مجموعی طور پر وہ پانچ مرتبہ بھارت کا دورہ کر چکے ہیں۔ مودی جناب ایم بی زیڈ کو بھائی کہہ کر بھی پکارتے ہیں، لیکن بھائی بندی وہاں چلتی ہے جہاں دونوں ملک ایک دوسرے کی ضرورت ہوں اور ایک دوسرے کے مفادات کا خیال رکھتے ہوں، ایسا نہ ہو تو معاملہ دو گھروں سے لے کر دو ملکوں کے درمیان کبھی کبھار ’’ برادران یوسف‘‘ والا بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔
بھارت کا دورہ کرنے والے وفد میں شیخ عبداللہ بن زاید جو ڈپٹی پرائم منسٹر اور فارن منسٹر ہیں۔ شیخ ممدان بن محمد جو ڈیفنس منسٹر اور کرائون پرنس دبئی ہیں، قابل ذکر ہیں۔ اس دورے میں دونوں ممالک کے مابین سٹریٹجک ڈیفنس جیسے اہم موضوع پر بات ہوئی، جس میں پروڈکشن، ٹرانسفر آف ٹیکنالوجی بحوالہ اسلحہ اہم ترین ہیں، یہ بھی جانچا گیا کہ خطے کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے دونوں ملک کہاں کھڑے ہیں اور باہمی مفادات کے حوالے سے کن کن شعبوں میں تعاون کر سکتے ہیں اور کہاں کہاں تعاون بڑھا سکتے ہیں۔ سول نیو کلیئر ری ایکٹر کا معاملہ بھی یقیناً زیر بحث آیا۔ سمال اور لارج سول نیو کلیئر ری ایکٹر اب وقت کی ضرورت بن چکے ہیں، یہ معاملہ اربوں ڈالر کا ہے، جس پر ہمیں آئندہ ماہ و سال میں پیشرفت نظر آئے گی۔ ہندوستان پٹرولیم اور یو اے ای کی کمپنی کے درمیان ایل این جی کے حوالے سے اہم ڈیل پر دستخط ہوئے ہیں۔ سپر کمپیوٹرز کی مینوفیکچرنگ کیلئے بھارت میں ایک بہت بڑا سیٹ اپ لگایا جا رہا ہے، جس کیلئے دو چیزوں کی اشد ضرورت ہے، اول تکنیکی مہارت، دوئم سرمایہ، بھارت تکنیکی مہارت میں خود کفیل ہے وہ اس شعبے میں چین سے بھی رہنمائی حاصل کرتا ہے، جبکہ ایسے منصوبوں میں خلیجی ریاستوں کی دلچسپی بھی ہے، جو کئی ارب ڈالر کا سرمایہ مہیا کر سکتی ہیں۔ بھارت اس شعبے میں بڑی تعداد میں انجینئر پیدا کر رہا ہے، جو کسی ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یو اے ای مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔ فروری 2026ء میں مصنوعی ذہانت سمٹ بھارت میں منعقد ہو رہا ہے، دنیا کی نظریں ادھر لگی ہیں۔ گزشتہ برس بھارت اور یو اے ای کے درمیان ایک سو بلین ڈالر کی تجارت ہوئی، دونوں ممالک کا اگلا ہدف اسے دو سو بلین ڈالر تک لے جانا ہے۔ ہمارے یہاں اس بات پر خوشی کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں کہ بھارت ’’ چاہ بہار‘‘ جیسے پراجیکٹ سے آئوٹ ہو گیا ہے۔ اندر کی کہانی یہ ہے کہ بھارت پر امریکی دبائو بے تحاشا ہے، لہٰذا مصلحتاً یہی فیصلہ کیا گیا کہ اس پراجیکٹ پر ہونے والی سرگرمی کچھ عرصہ کیلئے معطل کر دی جائے، تاکہ امریکی دبائو کم کرنے میں مدد مل سکے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہم پر متعدد مرتبہ سی پیک کے حوالے سے دبائو آیا تو ہم اس کے ساتھ کبھی کچھ کرتے، کبھی کچھ اور جب بھی ہم طے شدہ امور سے انحراف کرتے تو چین کی طرف سخت ردعمل آتا۔ ہم نے ماضی میں دیکھا جب بھی ایسا ہوا تو اس وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ ہنگامی بنیادوں پر چین جا پہنچتے اور مالکوں کو راضی کرتے۔ ایران اور بھارت کے درمیان اس پراجیکٹ پر چار بلین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ہو چکی ہے، جبکہ پراجیکٹ آٹھ بلین ڈالر کی لاگت سے تیار ہو گا۔ اس بندرگاہ سے سیتان چاہ بہار سے افغانستان اور پھر سینٹرل ایشیا تک تجارت کو فروغ ملے گا۔ یہ پراجیکٹ 2016ء میں شروع ہوا، اسے 2028ء تک ہر لحاظ سے مکمل ہونا ہے۔ امریکہ نے بھارت کو اس سے دوری کیلئے چھ ماہ کا وقت دیا تھا، بھارت نے دانشمندی سے کام لیا ہے، وہ امریکہ کے مڈٹرم الیکشن کا انتظار کریں گے، کچھ خبر نہیں ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کی پابندیوں سے جان چھوٹ جائے۔ یاد رہے چاہ بہار سے آگے جہاں اور بھی ہیں، ہمیں چاہیے ہم ہر رات آٹھ بجے کے ڈراموں کو ایک طرف رکھ کر کچھ ڈھنگ کے کام کریں، ترجیح تعمیر ملت اور معیشت ہونی چاہئے۔





