قومی سلامتی کا امتحان

قومی سلامتی کا امتحان
وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر ملک میں دہشت گردی کے مسئلے، اس کے اسباب اور اس کے ذمے داران پر ایک سنجیدہ قومی بحث کو جنم دیا ہے۔ قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے نہ صرف ماضی کے بعض فیصلوں کو فاش غلطی قرار دیا بلکہ کھل کر یہ سوال بھی اٹھایا کہ وہ کون سے عوامل تھے جن کی وجہ سے پاکستان ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا۔ خاص طور پر افغانستان سے دہشت گردوں کو لا کر بسانا اور سوات سے سیکڑوں شدت پسندوں کی رہائی جیسے اقدامات کو انہوں نے موجودہ صورت حال کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں شہری، سیکیورٹی اہلکار اور افسران شہید ہوئے، معیشت تباہ ہوئی، تعلیمی اور سماجی ڈھانچہ برباد ہوا۔ 2016ء تک، مسلسل اور مربوط آپریشنز کے ذریعے دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی تھی۔ یہ ایک اجتماعی قومی فیصلہ تھا جس کے ثمرات پورے ملک نے سکھ کا سانس لے کر محسوس کیے۔ تاہم یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ جب دہشت گردی پر قابو پالیا گیا تھا تو پھر وہ کون سی سیاسی یا نظریاتی مصلحتیں تھیں جن کے تحت ان عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دیا گیا۔وزیراعظم کا یہ کہنا کہ افغانستان سے ہزاروں افراد کو لا کر پاکستان میں بسانا ایک فاش غلطی تھی، حقیقت پر مبنی اظہار ہے۔ افغان طالبان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پاکستان کے سیکیورٹی مفادات کا خیال رکھیں گے، زمینی حقائق کے برعکس ثابت ہوا۔ وزیراعظم کے بقول، متعدد اجلاسوں اور سفارتی کوششوں کے باوجود افغان طالبان نے پاکستان کے تحفظات پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا، جس کا نتیجہ آج بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ سوات سے سیکڑوں دہشت گردوں کی رہائی کا سوال بھی انتہائی سنگین ہے۔ یہ فیصلہ کس نے کیا، کس کے کہنے پر کیا گیا اور اس کے ممکنہ نتائج پر کیوں غور نہیں کیا گیا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے واضح اور شفاف جوابات قوم کا حق ہیں۔ دہشت گردی جیسے ناسور کے خلاف کوئی بھی نرمی، دراصل ریاست کی رٹ کو کمزور کرنے کے مترادف ہوتی ہے۔ دشمن عناصر کے ساتھ مفاہمت کی آڑ میں کیے گئے فیصلے نہ صرف شہدا کے خون سے ناانصافی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس تاثر کو بھی رد کیا کہ وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان کوئی سرد جنگ جاری ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ صوبے میں ترقی کی رفتار، امن و امان کی صورتحال اور گورننس کے مسائل خود سوالیہ نشان ہیں۔ اگر پنجاب ترقی کرتا ہے اور دیگر صوبے پیچھے رہ جائیں تو یہ قومی ترقی نہیں ہوسکتی۔ خیبرپختونخوا ایک اسٹرٹیجک صوبہ ہے اور یہاں پائیدار امن کے بغیر نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کا خواب ادھورا رہے گا۔ بھارت کے حوالے سے وزیراعظم کے بیانات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ بھارت کی جارحیت کے جواب میں پاکستان کی دفاعی کارروائی، دشمن کے طیارے گرانا اور افواجِ پاکستان کا بھرپور ردعمل، قومی سلامتی کے حوالے سے ریاست کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے اندرونی استحکام شرطِ اول ہے۔ اگر ملک کے اندر دہشت گردی پنپتی رہے تو دشمن کو کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملتا رہے گا۔یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی اپنانے اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مثر ہم آہنگی کی بات کر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھا جائے، ذمے داران کا تعین ہو اور مستقبل میں ایسی کسی بھی پالیسی کو اپنانے سے گریز کیا جائے جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف بندوق سے نہیں جیتی جاسکتی۔ اس کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے، مضبوط خارجہ پالیسی، مثر بارڈر مینجمنٹ اور سب سے بڑھ کر قانون کی بلاامتیاز عملداری ضروری ہے۔ دشمنوں کے ساتھ آواز ملا کر پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والوں کے لیے بھی واضح پیغام ہونا چاہیے کہ آزادیِ اظہار اور ریاست دشمنی میں فرق ہے۔ آخر میں، وزیراعظم کا یہ عزم کہ ریاست دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے، ایک مثبت پیغام ہے۔ لیکن قوم اب صرف عزم نہیں، عملی اقدامات دیکھنا چاہتی ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام، سیکیورٹی فورسز اور پورا پاکستان اس بات کا منتظر ہے کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ ہو اور ایک بار پھر ملک کو امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے۔ یہ صرف حکومت کی نہیں، پوری قوم کی مشترکہ ذمے داری ہے۔
ایف بی آر میں مالی بے ضابطگیاں
قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آنے والے انکشافات ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہیں کہ پاکستان میں مالی نظم و ضبط اور احتساب کا نظام اب بھی شدید کمزوریوں کا شکار ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) جیسے اہم قومی ادارے میں مالی بے ضابطگیاں اور کسٹمز قوانین کی خلاف ورزیاں نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ کو بھی متاثر کرتی ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2010 ء سے2014ء کے دوران تاخیر سے ادائیگیوں پر سرچارج وصول نہ کرنے کے باعث کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ کسٹمز ایکٹ 1969کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے کراچی اور اسلام آباد کے کسٹمز دفاتر میں 11دن سے لے کر 385 دن تک کی تاخیر کے باوجود سرچارج عائد نہیں کیا گیا، جس سے کم از کم ایک کروڑ51لاکھ روپے کا نقصان سامنے آیا۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ غفلت، بدانتظامی اور ممکنہ ملی بھگت کا واضح ثبوت ہیں۔ مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ 13کروڑ 38لاکھ روپے کی رقم اب تک محکمانہ کارروائی کی منتظر ہے جبکہ معمولی رقم کی وصولی کی تصدیق ہوسکی ہے۔ سرکاری واجبات کی بروقت وصولی نہ ہونا براہِ راست عوامی مفاد کے خلاف ہے، کیونکہ یہی رقم صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولتوں پر خرچ ہوسکتی تھی۔اجلاس میں اضافی کسٹمز ڈیوٹی وصول نہ کیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا، جس سے 2کروڑ 55لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ پانچ مختلف کسٹمز کلیکٹوریٹس کی جانب سے درآمدات کو بغیر اضافی ڈیوٹی کلیئر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ انفرادی نہیں بلکہ نظامی نوعیت کا ہے۔ اگرچہ جزوی ریکوری کی گئی ہے، لیکن باقی رقم کی عدم وصولی بدستور سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر کی جانب سے نظام کو کمپیوٹرائزڈ کرنے اور آئندہ ایسی بے ضابطگیوں کے نہ ہونے کی یقین دہانی خوش آئند ہے، مگر ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ محض اعلانات کافی نہیں ہوتے۔ اصل ضرورت سخت احتساب، ذمے دار افسران کے تعین اور عملی کارروائی کی ہے۔ ریکوری مشکل ہے جیسے جواز قابلِ قبول نہیں، کیونکہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ یہ معاملہ اس بات کا متقاضی ہے کہ پارلیمانی نگرانی کو مزید موثر بنایا جائے اور آڈٹ اعتراضات کو رسمی کارروائی کے بجائے حقیقی اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے۔ جب تک ایف بی آر جیسے اداروں میں شفافیت اور جواب دہی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، قومی معیشت کو لاحق خطرات برقرار رہیں گے۔ عوام اب وعدوں نہیں، عملی نتائج کے منتظر ہیں۔





