کراچی پریس کلب کے خوبصورت چہرے

کراچی پریس کلب کے خوبصورت چہرے
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
بارہ جنوری کو کراچی پریس کلب میں ایک شاندار اور باوقار تقریب منعقد ہوئی۔ روزنامہ امت کے گروپ ایڈیٹر جناب سجاد عباسی کی کتاب ’’ صحافت بیتی‘‘ کی رونمائی کے موقع پر کراچی کے صحافتی، فکری اور ادبی حلقوں کی ممتاز شخصیات کی موجودگی نے اس تقریب کو یادگار بنا دیا۔ خوبصورت چہروں کی یہ آمد اس بات کا ثبوت تھی کہ آج بھی کتاب، قلم اور سچ سے وابستہ لوگ زندہ ہیں۔ یہ کتاب میں پہلے ہی پڑھ چکا ہوں اور اس پر روزنامہ جہاں پاکستان میں کالم بھی لکھ چکا ہوں۔ جناب سجاد عباسی صاحب کی اس محنت، دیانت اور تجربے کو جتنی بھی پذیرائی دی جائے کم ہے۔
ہمیں اس تقریب میں مائیک تو نہیں ملا، مگر اپنا اظہار تو کر سکتے ہیں، میری ذاتی رائے ہے کہ ہمیں اپنی گھریلو ضروریات کی فہرست میں کتاب کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ گھر کے بجٹ میں کتاب کے لیے بھی حصہ مختص ہونا چاہیے۔ اس عمل سے نئی نسل اور پورے معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ آج کا عام آدمی منفی نعروں، جھوٹے بیانیوں اور سوشل میڈیا کی بدتمیزی کے طوفان میں گھرا ہوا ہے، کتاب ہی اسے فکری طور پر محفوظ رکھ سکتی ہے۔ معلومات کی درست اور گہری رسائی انسان کی سمت متعین کرتی ہے۔
کراچی پریس کلب کے بورڈ روم میں بیٹھے ان خوبصورت چہروں کو دیکھ کر دلی خوشی ہوئی۔ ایک ہی کمرے میں کراچی کی کامیاب اور نامور صحافتی شخصیات کو سننے اور ان کے تجربات سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ جس محبت، اخلاص اور سنجیدگی سے ان شخصیات نے ’’ صحافت بیتی‘‘ کی تعریف کی، وہ واقعی جناب سجاد عباسی صاحب کے لیے ایک بڑا اعزاز تھا۔
ملک بھر کے پریس کلب صحافیوں کی تربیت گاہ سمجھے جاتے ہیں، تاہم کہیں نہ کہیں علاقائی صحافیوں کے شکوے اور شکایات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ اس کے باوجود ان خوبصورت چہروں کے خیالات اور الفاظ میرے لیے نہایت متاثر کن ثابت ہوئے۔ میری عمر کے صحافیوں اور میرے جیسے نئے قلم کاروں کے لیے ’’ صحافت بیتی‘‘ ایک امید کی کرن ہے، جو ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ دیانت دار صحافت آج بھی زندہ ہے۔
اس تقریب میں جن خوبصورت چہروں نے شرکت کی، ان میں جناب نذیر لغاری، جناب انور سن رائے، زاہد حسین صاحب، فاضل جمیلی صاحب، چودھری نصر اللہ صاحب، لیاقت صاحب، نصیر ہاشمی صاحب، چودھری امجد صاحب، عبدالجبار ناصر صاحب اور سید نبیل صاحب شامل تھے، جبکہ جناب عامر لطیف نے پروگرام کی نظامت کا حق بھرپور انداز میں ادا کیا۔ ان معزز شخصیات کی موجودگی نے تقریب کی شان دوبالا کر دی۔
میں یہ شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ ہمارے معاشرے میں اظہارِ رائے کا حق تو سب مانگتے ہیں، مگر اپنے خیالات، مشاہدات اور تجربات کو کتابی شکل میں محفوظ کرکے نئی نسل تک منتقل کرنے کا جذبہ محدود ہوتا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں تو یہ جذبہ تقریباً ناپید ہے اور صحافتی حلقوں میں بھی اس کی کمی واضح ہے۔ حالانکہ دنیا کی بڑی اقوام نے ہمیشہ کتاب اور قلم کو طاقت کا سرچشمہ سمجھا ہے۔ برطانیہ کے سابق وزیرِاعظم ونسٹن چرچل نہ صرف ایک کامیاب سیاست دان تھے بلکہ ان کی تحریر کردہ کتابوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی، حتیٰ کہ انہیں ادب کا نوبیل انعام بھی دیا گیا۔ اسی طرح نیلسن منڈیلا نے قید و بند کی صعوبتوں میں اپنی خود نوشت تحریر کی، جو آج دنیا بھر میں آزادی اور جدوجہد کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
ہمارے اپنے خطے میں مولانا ابوالکلام آزاد، فیض احمد فیض اور حبیب جالب جیسے اہلِ قلم نے شدید پابندیوں، قید و بند اور معاشی مشکلات کے باوجود قلم نہیں چھوڑا۔ ان کی کتابیں آج بھی زندہ ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ وقت کا جبر وقتی ہوتا ہے، مگر کتاب کی زندگی طویل اور اثر دائمی ہوتا ہے۔ لکھنے والا جسمانی طور پر مٹ بھی جائے تو اس کا قلم تاریخ میں زندہ رہتا ہے۔
ہمارے ہاں ایک بڑا مسئلہ روزگار کا بھی ہے۔ کتاب لکھنے کے لیے وقت، یکسوئی اور معاشی سہولت درکار ہوتی ہے، مگر حکومتی پالیسیوں نے روزگار کے حصول کو دن بدن مشکل بنا دیا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، کاغذ کی درآمد پر بھاری ٹیکس اور ڈیوٹیاں عائد ہیں۔ ایسے حالات میں کتاب لکھنا کوئی معمولی کام نہیں۔ اس کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ فیصلے کو سراہا جانا چاہیے، جنہوں نے چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے وظیفے کا اعلان کیا تاکہ والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیج سکیں۔ یہ ملکی ترقی اور معاشرتی بہتری کے لیے ایک مثبت قدم ہے، جس کی دیگر صوبوں کو بھی تقلید کرنی چاہیے۔
اگر وزیراعظم شہباز شریف مصنفین اور اہلِ قلم کے لیے بھی باقاعدہ وظیفے اور سہولیات کا اعلان کریں تو یہ ایک تاریخی اور مثالی فیصلہ ہوگا۔ قوموں کی تربیت صرف تقریروں اور نعروں سے نہیں ہوتی بلکہ عملی اقدامات سے ممکن ہوتی ہے، اور بدقسمتی سے ہمارے ہاں اسی عملی پہلو کی شدید کمی ہے۔





