تعلیم کا عالمی دن

تعلیم کا عالمی دن
مصنف:انجینئر محمد ابرار
آج ہم تعلیم کا عالمی دن مناتے ہیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تعلیم ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ تعلیم نہ صرف ایک حق ہے بلکہ معاشرے کی ترقی اور قومی خوشحالی کا مضبوط ستون بھی ہے۔ دنیا بھر میں تعلیم کو اہمیت دی جاتی ہے، مگر پاکستان میں تعلیم کی صورتحال آج بھی تشویش کا باعث ہے۔ ہمارے ملک میں شرحِ خواندگی بہت کم ہے اور ہر سال لاکھوں بچے اور نوجوان اسکول کے دروازے تک بھی نہیں پہنچ پاتے۔
پاکستان کی مجموعی شرحِ خواندگی تقریباً 60فیصد کے آس پاس ہے، یعنی ہر دس میں سے چار فرد پڑھنا لکھنا نہیں جانتا ۔ مردوں میں یہ شرح کچھ بہتر ہے مگر خواتین کی شرح خاصی کم ہے، جو معاشرے میں بہت بڑے فرق اور ناانصافی کا ثبوت ہے۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں یہ صورتحال اور بھی زیادہ خراب ہے، جہاں اسکولوں کی کمی اور تعلیم تک رسائی کا مسئلہ بہت شدت سے موجود ہے۔ اس کمزور شرحِ خواندگی کی وجوہات پیچیدہ ہیں۔ سب سے بڑی وجہ غربت ہے۔ بہت سی فیملیز اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی بجائے انہیں ملازمت یا گھر کے کاموں میں لگا دیتی ہیں تاکہ گھر کی معاشی مشکلات کا کچھ حل نکل سکے۔ بچے اسکول کے بجائے کام کرتے ہیں اور نتیجتاً وہ تعلیم سے دور رہ جاتے ہیں۔ پاکستان میں غربت اور بے روزگاری نے بچوں کو اسکولوں سے دور کر دیا ہے، جس سے ناخواندگی کا چکر مزید بڑھ رہا ہے۔
ایک اور بڑا مسئلہ تعلیمی انفراسٹرکچر کا فقدان ہے۔ بہت سے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات بھی موجود نہیں ہیں۔ صاف پانی، بیت الخلائ، بجلی اور مناسب کلاس رومز جیسی ضروریات نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کا مطالعہ کا ماحول خراب ہے۔ بعض اسکولوں کے پاس صرف ایک یا دو کلاس روم ہوتے ہیں، جس میں بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ طلبہ کو سیکھنے کے لیے سازگار ماحول نہیں ملتا اور وہ پڑھائی سے ہٹ جاتے ہیں تعلیم کی کم ترین صورتحال میں اساتذہ کی تربیت اور قابلیت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بہت سے سرکاری اور دور دراز کے اسکولوں میں اساتذہ یا تو کم تربیت یافتہ ہیں یا ان کی موجودگی ہی کم ہوتی ہے۔ کلاسوں میں باقاعدہ تعلیم نہیں ہوتی اور بچے صحیح معنوں میں سیکھ نہیں پاتے۔ جب استاد خود مضبوط نہ ہو، تو تعلیم کا مقصد بھی پورا نہیں ہو پاتا۔
ایک اور اہم وجہ ثقافتی اور سماجی رکاوٹیں ہیں، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے۔ کئی علاقوں میں لڑکیوں کو اسکول بھیجنا خاندان کے لیے مشکل سمجھا جاتا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم کو کم اہمیت دی جاتی ہے یا ان کے لیے اسکول کم دستیاب ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے صنفی تفاوت بڑھتا جا رہا ہے اور خواتین کی صلاحیتیں ضائع ہو رہی ہیں۔ اگر ہم اس صورتحال کا اثر قومی معیشت پر دیکھیں تو بصورتِ دیگر اثرات سامنے آتے ہیں۔ تعلیم یافتہ افرادی قوت ملک کی ترقی کا اہم حصہ ہوتی ہے۔ جب زیادہ لوگ ناخواندہ رہیں گے تو وہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ مقابلہ نہیں کر پائیں گے، نہ انہیں اچھی ملازمتیں ملیں گی اور نہ ہی وہ ملک کی اقتصادی ترقی میں موثر کردار ادا کر سکیں گے۔ بہت سی عالمی رپورٹس یہ کہتی ہیں کہ پاکستان جیسی معیشت کم تعلیم یافتہ آبادی کے باعث اپنے پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پیچھے رہ جائے گی اگر تعلیم کے نظام میں بنیادی اصلاحات نہ کی جائیں۔
تعلیم کا اثر صرف ملازمتوں یا معیشت تک محدود نہیں رہتا۔ تعلیم کے بغیر لوگ صحت، سیاست، اور سماجی شعور میں بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ناخواندہ افراد بیماریوں، عوامی مسائل، اور اپنے حقوق سے متعلق معلومات کم رکھتے ہیں۔ وہ اپنے خاندان اور کمیونٹی کے مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے میں بھی غیر موثر رہتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں معاشرتی تقسیم، غربت، اور مجرمانہ سرگرمیاں بڑھ سکتی ہیں جو ایک ملک کے لیے سنگین خطرات ہیں۔ حکومت پاکستان نے قانون میں تعلیم کا حق شامل کیا ہے، مگر عملی جہت میں یہ حق پوری طرح نافذ نہیں ہو سکا۔ آئین کے تحت تعلیم مفت اور لازمی ہے، مگر بہت سی جگہوں پر اس قانون پر عمل درآمد کا فقدان ہے۔ ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت ترقیاتی بجٹ میں تعلیم کو مناسب ترجیح نہیں دیتی۔ پاکستان کی تعلیم پر ہونے والی مجموعی اخراجات کی شرح بہت کم ہے، جو جی ڈی پی کے ایک چھوٹے حصے سے بھی کم ہے، جبکہ عالمی ادارے اس کے چار گنا خرچ کی سفارش کرتے ہیں۔ کم بجٹ کی وجہ سے اسکولوں کی حالت نہیں سدھرتی اور تعلیم کا معیار بہتر نہیں ہو پاتا۔ کئی بار حکومت نے مختلف پروگرام بھی شروع کیے ہیں، مگر ان کی پالیسی مستقل نہیں رہتی۔ جب ایک حکومت ختم ہوتی ہے تو پالیسیز بدل جاتی ہیں اور تعلیم کے بہت سے منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ اس عدم استحکام نے تعلیمی نظام کو کمزور کیا ہے۔ اگر پختہ پلاننگ اور مالی استحکام نہ ہو تو تعلیم کے شعبے میں بہتری ممکن نہیں۔
آخر میں، تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے سب سے اہم عنصر بھی۔ ایک ملک کی طاقت تعلیم یافتہ عوام میں چھپی ہوتی ہے۔ اگر ہم نے آج تعلیم پر سنجیدہ قدم نہ اٹھایا تو آنے والی نسلیں بھی انہی مسائل کا شکار رہیں گی۔ ہماری معیشت ترقی نہیں کرے گی، ہمارے نوجوان بے روزگار رہیں گے، اور ہم عالمی ترقی کے تقاضوں سے پیچھے رہ جائیں گے۔
آج جب دنیا تعلیم کا عالمی دن منا رہی ہے، تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم خود، اپنے خاندان اور اپنے ملک کی تعلیم میں کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تعلیم کو صرف اسکول کی چار دیواری تک محدود نہ سمجھا جائے بلکہ ایک قومی مشن بنایا جائے جس میں ہر بچہ، ہر لڑکی اور ہر نوجوان تعلیم تک رسائی حاصل کر سکے۔ یہی پاکستان کا اصل مستقبل ہے۔





