ہمارے پلے اور کچھ نہیں

ہمارے پلے اور کچھ نہیں
صورتحال
سیدہ عنبرین
جاری ماہ و سال میں دو شخصیات منظر پر چھائی ہوئی ہیں، ایک تو امریکی صدر ہیں، دوسرے ان کے انتہائی قریب پاکستان کے وزیراعظم ہیں، دونوں میں بہت سی باتیں، صلاحیتیں مشترک نظر آتی ہیں، دونوں دل کی بات بغیر کسی لگی لپٹی کے ٹھاہ کر کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔ دونوں کسی سے نہیں ڈرتے۔ بہت بہادر ہیں، کسی کی پروا نہیں کرتے اور کسی بھی قسم کی مخالفت کو اہمیت نہیں دیتے۔ جو بہتر سمجھتے ہیں کر گزرتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی مخفی صلاحیتیں ان کے پہلے دور میں سامنے نہیں آئیں۔ عین ممکن ہے انہوں نے جان بوجھ کر انہیں اپنے دوسرے دور کیلئے چھپا کر رکھا ہو، وہ خوب جانتے ہیں کہ امریکی آئین میں حکومت کی تیسری باری نہیں ملتی، لہٰذا وہ اس باری میں وہ کچھ کر دکھائیں گے جو دنیا کو حیران کر دینے کیلئے کافی ہو گا۔ دنیا بے شک ان کے اقدامات کو احمقانہ کہتی رہے، ٹرمپ سب کچھ کر کے جا چکا ہو گا، دنیا سانپ کے گزرنے کے بعد لکیر پیٹتی رہے گی۔ وزیراعظم پاکستان جناب شہباز شریف بھی اپنے پی ڈی ایم عبوری دور میں کچھ زیادہ کارنامے انجام نہیں دے سکے تھے۔ عین ممکن ہے انہوں نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح اپنی صلاحیتوں کو چھپا کر رکھا ہو اور یہ فیصلہ کیا ہو تو وہ اپنی دوسری باری میں کریز سے نکل کر کھیلیں گے اور ہر گیند کو بائونڈری کے پار پہنچائیں گے، بلکہ کوششیں کریں گے کہ ان کے شاٹ سٹیڈیم سے باہر جا کر گریں۔ جناب شہباز شریف کو ایک لحاظ سے ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل ہے، انہیں تیسری باری مل سکتی ہے، وہ اپنے بہتر کھیل کے زور پر تیسویں باری بھی لے سکتے ہیں، ہمارے آئین میں کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔ گو ان کے ریٹائرڈ ہرٹ کی افواہیں بھی ہیں۔
جناب شہباز شریف کے بارے میں والہانہ محبت کے اظہار کے بعد امریکی صدر نے انہیں غزہ پیس بورڈ میں شامل ہونے کی پیشکش کی ہے، جسے اسلامی دنیا میں حیرت اور پریشانی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ حیرت بھارت اور بھارتی لابی میں ہے، جبکہ پریشانی بعض اسلامی ممالک میں ہے، جنہیں اسرائیل کی خواہش پر ذرا پیچھے رکھا جا رہا ہے، حالانکہ وہ آگے آگے رہ کر ٹرمپ خاندان کے ساتھ ذاتی اور خاندانی تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں، ان میں انڈونیشیا کی بے تابیاں قابل دید ہیں۔ غزہ پیس بورڈ میں کون نہیں جانا چاہتا، بیشتر کی نظر غزہ میں امن قائم کرنے کے حوالے سے اقدامات پر کم اور وہاں تعمیر نو کے منصوبوں اور ٹھیکوں پر زیادہ ہے۔ مال پانی دیکھ کر منہ پانی سے بھرے ہوئے ہیں۔ وائٹ ہائوس کی طرف غزہ پیس بورڈ میں شامل کئے گئے افراد پر نظر ڈالیں تو نیتں واضح ہو جاتی ہے۔ میجر جنرل جیسپر جیفرز عالمی استحکام کے کمانڈر مقرر کئے گئے ہیں۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو، ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف بورڈ آف پیس میں شامل کئے گئے ہیں۔ آریے لایٹ سٹون اور جوش گرون بام بورڈ کے سینئر مشیر مقرر کئے گئے ہیں، ان کے علاوہ نکولے ملادنیوف کو بورڈ آف پیس کا ایگزیکٹو رکن مقرر کیا گیا ہے۔ برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر، مارک روون، اجے بانگا اور رابرٹ گبریل بھی بورڈ آف پیس کا حصہ ہیں۔ ایک غزہ ایگزیکٹو بورڈ بھی بنایا گیا ہے، جس میں مسلمان، اسرائیلی اور بعض دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل ہیں، ان میں ترکیہ سے وزیر خارجہ ماکان فیدان، قطری سفارتکار علی الثواڈی، مصری انٹیلی جنس چیف جنرل احسن رشید اور متحدہ عرب امارات کی وزیر ریم الہاشمی شامل ہیں، جبکہ اسرائیل سے تعلق رکھنے والی اہم متمول کاروباری شخصیت یاکیر گابے اور نیدر لینڈز کے سابق نائب وزیراعظم سیکرڈ کاگ بھی قابل ذکر ہیں، یہ کمیٹی میں اہم حیثیت رکھتے ہیں، سب سے حیرت انگیز تقرر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کا ہے، جنہیں غزہ بورڈ آف پیس میں شامل کیا گیا ہے، ان کی کیا حیثیت ہے، وہ کیوں اس بورڈ کا حصہ بنائے گئے ہیں، تو ایسے درجنوں سوالوں کا جواب ہے کہ وہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے طاقتور صدر کے ’’ جوائی‘‘ ہیں۔ ان کے تقرر سے آپ کو اندازہ ہو جانا چاہئے کہ صرف پاکستان میں نہیں امریکہ جیسے ماڈرن اور ترقی یافتہ ملک میں بھی ’’ جوائی پائی‘‘ کو اہم مقام حاصل ہے، لہٰذا اگر پاکستان اپنے جوائی کی خاطر صدارت کرتے ہیں، اس کے آرام و آسائش کا خیال رکھتے ہیں، اس کی جائز و ناجائز فرمائش پوری کرتے ہیں، تو کوئی احسان نہیں کرتے۔ امریکی صدر بھی یہ سب کچھ کرنے پر مجبور ہے، جیرڈ کشنر کے غزہ بورڈ میں شامل ہونے سے ایک اور بات بھی واضع ہوتی ہے کہ امریکی جوائی بھی اپنے امریکی سسر کو تھلے لگا کر رکھتے ہیں، پاکستانیوں کو خواہ مخواہ میں بدنام کیا جاتا ہے۔ استحکام فورس حماس کو غیر مسلح کرے گی، جبکہ غزہ بورڈ کے ذمے داری میں غزہ کی تعمیر نو کا کام ہے، جو مرحلہ وار شروع ہو گا۔ پورا غزہ اور ملحقہ علاقہ کھنڈر بن چکا ہے، ملبہ اٹھایا جائے گا، جس کا اربوں ڈالر کا ٹھیکہ کسی یتیم مسکین ملک کی یتیم مسکین کمپنی کو دیا جائے گا، پھر پلاٹوں کی بندر بانٹ ہے، اہم علاقے امریکی، برطانوی اور ان کی لابی کے ممالک بالخصوص اسرائیلی سرمایہ کاروں کو دیئے جائیں گے، جو غزہ کو ٹورسٹ ریزارٹ میں تبدیل کریں گے۔ ملبہ اٹھانے، صفائی ستھرائی اور گرائونڈ کو لیول کرنے کے بعد تعمیر نو شروع ہو گی۔ ملٹی سٹوری عمارتیں، سیون سٹار ہوٹل، ساحل پر سہولتیں، مہنگے ترین رہائشی اپارٹمنٹ، دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں، شرابیں، رقص گاہیں سب کچھ غزہ میں مہیا کرنے کا منصوبہ ہے اور یو اے ای کا رش غزہ کی طرف موڑنے کیلئے یہاں ایک جدید ایئر پورٹ کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔ ٹورسٹ کو غزہ لانی لے جانے کیلئے آپ جدید فیری سروس بھی چلتی ہوئی دیکھیں گے۔ غزہ منصوبے کی تعمیر نو کیلئے فنڈز مہیا کرنا اسلامی متمول ملکوں کی ذمہ داری لگائی ہے، جبکہ ہر طرح کا منافع امریکی اور اسرائیلی و برطانوی لابی کے حصے میں آئے گا۔
غزہ میں آپ کو دنیا کی ہر چیز ملے گی، جو زندگی کیلئے ضروری ہے، اگر کچھ نظر نہیں آ رہا تو آزاد ریاست فلسطین کا ذکر کہیں نہیں ملتا، یہ کہاں ہو گی، اس کی حدود کیا ہوں گی۔
غزہ تعمیر نو کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ غزہ پیس بورڈ میں شمولیت کیلئے ہم جیسے فقیر ملک سے بھی ایک ارب ڈالر کی فرمائش کی گئی ہے، ہم ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کیلئے آئی ایم ایف کے سامنے حالت رکوع میں سال بھر کھڑے رہتے ہیں، پھر کہیں ہمیں یہ مدد ملتی ہے، وہ بھی امریکی اشارے کے بعد اور سو قسم کے ٹیکس لگانے کے بعد۔ بہتر ہو گا مانگے گئے ایک ارب ڈالر کے بدلے میں جے ایف 17تھنڈر طیارے ہی انہیں دے دیں اور تو ہمارے پلے کچھ نہیں، جو ہم سر اٹھا کر بیچ سکیں۔





