سانحہ گُل پلازہ، 26افراد جاں بحق

سانحہ گُل پلازہ، 26افراد جاں بحق
ہفتے کی شب کراچی کے معروف شاپنگ مال، گل پلازہ، میں لگنے والی آگ نے نہ صرف شہر بلکہ پورے ملک کے عوام کو ہلاکر رکھ دیا۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع اس شاپنگ مال میں رات قریباً سوا دس بجے آگ بھڑک اٹھی، جو قابو پانے کے لیے کی جانے والی ابتدائی کوششوں کے باوجود بڑھتی ہی چلی گئی۔ فائربریگیڈ اور ریسکیو 1122کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور خطرناک حالات کے باوجود امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں، لیکن آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اتوار کو عمارت کے دو حصے منہدم ہوگئے اور متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔ ریسکیو 1122کے چیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد جلال الدین شیخ کے مطابق، آپریشن کے دوران پانچ مختلف مقامات پر بیک وقت سرچ آپریشنز جاری تھے، جبکہ ایک خصوصی ٹیم آگ بجھانے اور کولنگ کے عمل میں مصروف تھی۔ ملبہ اتنا بھاری اور خطرناک تھا کہ آپریشن کو مرحلہ وار اور انتہائی مہارت کے ساتھ انجام دینا پڑا۔ متعدد لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، تاہم کچھ کو مختلف مقامات سے حصوں کی شکل میں نکالا گیا، جس کی وجہ سے حتمی تعداد کی تصدیق ممکن نہیں۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں اب تک 26افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے، جن میں 40سالہ کاشف ولد یونس، 55سالہ فراز ولد ابرار اور 25سالہ فرقان ولد شوکت علی شامل ہیں جبکہ کئی لاشیں ناقابل شناخت ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق لاپتا افراد کی تعداد 59ہے اور ان کی تلاش جاری ہے۔ زخمی ہونے والے افراد میں 22کو سول اسپتال اور برنس سینٹرز میں طبی امداد فراہم کی گئی، جن میں دو فائر فائٹرز بھی شامل ہیں۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں احمد نے بتایا کہ عمارت کا ڈھانچہ انتہائی خستہ حال ہے اور کسی بھی وقت گرنے کا خطرہ ہے۔ اسی وجہ سے فائر فائٹنگ محدود کردی گئی ہے اور صرف ملبہ ہٹانے کا عمل جاری ہے۔ ریسکیو ٹیمیں ٹارچز اور خصوصی آلات کی مدد سے زندہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں اور امدادی کارروائیاں 40گھنٹے سے زیادہ جاری ہیں۔ ملبہ ہٹانے اور مزید لاشیں نکالنے کے لیے 15سے 17 دن لگنے کا امکان ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے موقع پر جا کر متاثرین کی صورتحال کا جائزہ لیا اور جاں بحق افراد کے ورثاء کے لیے امداد کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ تاجروں کے مالی نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا اور ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی ٹیموں کی کوششوں کو بروئے کار لایا جائے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ مُراد علی شاہ سے رابطہ کرکے سانحے پر افسوس کا اظہار کیا جبکہ صدر مملکت آصف زرداری نے متاثرین کو ہر ممکن مدد و تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بھی متاثرہ جگہ کا دورہ کیا اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا۔ حادثے کی شدت اور انسانی جانوں کے ضیاع نے سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ شہر کے مرکزی تجارتی مراکز میں حفاظتی اقدامات ناکافی تھے، جس کا نتیجہ نہ صرف مالی نقصان بلکہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آیا۔ ریسکیو اور فائر بریگیڈ ٹیمیں انتھک کوششوں کے باوجود محدود وسائل اور خستہ حال عمارت کے سبب متاثرین کو بچانے میں محدود رہ گئیں۔ ایدھی فانڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا کہ امدادی ٹیمیں انسانی جانیں بچانے کے لیے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر کام کررہی ہیں اور عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بھی ریسکیو اور طبی سہولتیں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ واقعہ کی نوعیت اور جاں بحق افراد کی تعداد نے یہ بات واضح کردی ہے کہ کراچی میں تجارتی مراکز کی حفاظت کے حوالے سے موجودہ انتظامی نظام ناکافی ہے۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ ایک المناک یاد دہانی ہے کہ شہری زندگی کی حفاظت میں کمی اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی انسانی جانوں کے لیے کتنی مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ سانحہ نہ صرف ریسکیو اور فائر فائٹنگ کے عمل کی ناکامی بلکہ انتظامیہ کی بروقت تیاری اور حفاظتی اقدامات کی سنگین کمزوریوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ گل پلازہ آتشزدگی نے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ اگر شہر کے تجارتی اور عوامی مراکز میں حفاظتی اقدامات فوری طور پر موثر نہ بنائے گئے تو مستقبل میں بڑے انسانی نقصانات کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ لاپتا افراد کی تلاش، متاثرہ تاجروں کی مالی امداد اور متاثرہ عمارت کے ملبے کی صفائی کے عمل کو شفاف اور موثر بنایا جائے۔ ریسکیو، پولیس، فائر بریگیڈ، میونسپل اور وفاقی اداروں کو مشترکہ طور پر فوری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔ یہ سانحہ کراچی کے عوام، تاجروں اور حکومتی اداروں کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے کہ شہری زندگی کی حفاظت اور حفاظتی اقدامات کو ہر حال میں ترجیح دینی ہوگی۔
شائننگ انڈیا کا دعویٰ بے نقاب
امریکی جریدے فارن افیئرز کے تازہ تجزیے کے مطابق بھارت کا خود کو امریکا کا مضبوط ’’ اسٹرٹیجک ستون‘‘ قرار دینے کا دعویٰ اب مشکوک نظر آرہا ہے۔ مئی2025ء میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پیش آنے والے تصادم نے واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں موجود کمزوریوں کو بے نقاب کردیا اور بھارت کی اعتبار پذیری پر سوالیہ نشان لگا دیا۔ جریدے کے مطابق پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ثالثی کردار کو خوش آمدید کہا جب کہ بھارت نے اسے مسترد کیا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی سفارتی اور عسکری کامیابیوں کا بار بار ذکر اور پاکستانی قیادت کے ساتھ مثبت تعلقات نے بھارت کو عالمی سطح پر سفارتی طور پر کمزور کر دیا۔ اس واقعے نے بھارت کی کہانی سازی اور خود کو مضبوط شراکت دار ثابت کرنے کی کوششوں کو چیلنج کیا۔ مزید برآں، امریکی صدر نے بھارت کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے پر دستخط نہیں کیے اور بھارتی برآمدات پر اضافی محصولات عائد کیے، جس سے دو طرفہ تعلقات مزید متاثر ہوئے۔ ماہرین کے مطابق، اگر بھارت معمولی اختلافات پر امریکا سے فاصلے اختیار کرتا ہے تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد شراکت دار نہیں۔ پچیس سالہ تعلقات کی کمزوری اور انا پر مبنی رویے نے اس شراکت داری کے ادارہ جاتی خلا کو واضح کیا۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ جنگ بندی درحقیقت بھارتی درخواست پر امریکی ثالثی سے ممکن ہوئی، لیکن بھارت اسے تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔ اصل مسئلہ ثالثی نہیں بلکہ بیانیے پر مکمل قابو پانے کی بھارتی خواہش ہے۔ بھارت ایک طرف امریکی ثالثی کو رد کرتا ہے اور دوسری جانب چین کے مقابلے میں غیر مشروط حمایت چاہتا ہے، جو ایک واضح تضاد ہے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام صرف برابری، شفاف اور حقیقت پسندانہ تعلقات سے ہی ممکن ہے۔ بھارت کی موجودہ سفارتی پوزیشن، جو زیادہ تر بیان بازی اور بیانیے پر منحصر ہے، اس کی بین الاقوامی اعتبار پذیری کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ اسٹرٹیجک دعوے صرف بیانیے سے قائم نہیں رہ سکتے، انہیں عملی نتائج سے ثابت ہونا ضروری ہے۔ پاکستان کے ساتھ جنگ بندی اور امریکی ثالثی کے بعد بھارت کو یہ سبق لینا چاہیے کہ دیرپا تعلقات کے لیے حقیقی اور قابل اعتماد کردار اپنانا لازمی ہے۔





