Column

ایف بی آر میں اصلاحات کے لیے تجاویز

ایف بی آر میں اصلاحات کے لیے تجاویز
تحریر : شکیل امجدصادق
ایف بی آر (FBR)میں اصلاحات کے لیے تجاویز کا مقصد ٹیکس نظام کو آسان، شفاف اور موثر بنانا ہے، جس میں ٹیکس دہندگان کو سہولت، پیچیدگیاں ختم کرنا، ٹیکس چوری روکنا، اور امیر طبقے پر ٹیکس بڑھا کر محصولات میں اضافہ شامل ہے؛ یہ تجاویز ٹیکس قوانین میں غیر ضروری پیچیدگیاں ختم کرنے، کاروبار میں آسانی، اور ٹیکس نظام میں غیر جانبداری لانے پر زور دیتی ہیں، جیسے کہ ٹیکس چھوٹ مرحلہ وار ختم کرنا اور بڑی کمپنیوں کے کیسز کی جوریڈیکشن کو بدلنا ہے.وفاقی ادارہ محصولات ( ایف بی آر) کسی بھی ریاست کی معاشی خودمختاری اور مالی استحکام کا بنیادی ستون ہوتا ہے، کیونکہ قومی آمدن کا بڑا حصہ ٹیکس کے ذریعے ہی جمع کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ایف بی آر کو یہ اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے، مگر عملی طور پر یہ ادارہ طویل عرصے سے انتظامی کمزوریوں، کرپشن، پیچیدہ قوانین اور عوامی عدم اعتماد جیسے مسائل کا شکار چلا آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ ان حالات میں ایف بی آر میں جامع اور دیرپا اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ ایف بی آر کی بہتری کے لیے سب سے پہلا اور بنیادی قدم شفافیت کا قیام ہے۔ ٹیکس اسسمنٹ، آڈٹ، ریفنڈ اور ریکوری جیسے حساس مراحل میں انسانی مداخلت کم کر کے ڈیجیٹل اور خودکار نظام نافذ کیا جانا چاہیے۔ جب تمام کارروائیاں آن لائن، دستاویزی اور ٹریس ایبل ہوں گی تو نہ صرف بدعنوانی میں کمی آئے گی بلکہ ادارے کی ساکھ بھی بہتر ہوگی۔
ٹیکس نظام کی پیچیدگی بھی ایف بی آر کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ ہے پاکستان میں ٹیکس قوانین عام شہری کے لیے ناقابلِ فہم ہیں، جن میں بار بار ترامیم کاروباری طبقے کو بددل کر دیتی ہیں۔ ایک سادہ، واضح اور مستقل ٹیکس پالیسی ترتیب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، جس میں چھوٹے تاجروں، تنخواہ دار طبقے اور نوآموز کاروباروں کو سہولت دی جائے تاکہ وہ رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں۔ ٹیکس بیس میں توسیع کے بغیر ایف بی آر کی کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی۔ اس وقت زرعی شعبہ، ریئل اسٹیٹ، ہول سیل و ریٹیل تجارت اور غیر رسمی معیشت کا بڑا حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ ان شعبوں کو مرحلہ وار اور منصفانہ انداز میں نظام کا حصہ بنایا جائے تاکہ ٹیکس کا بوجھ محدود طبقے پر نہ پڑے اور معاشی انصاف قائم ہو۔
ایف بی آر کے عملے کی تربیت، احتساب اور مراعاتی نظام بھی اصلاحات کا اہم جزو ہے۔ افسران کو جدید مالیاتی علوم، ڈیجیٹل ٹولز اور ٹیکس اخلاقیات کی تربیت دی جائے۔ اس کے ساتھ ایک سخت مگر غیر جانبدار احتسابی نظام متعارف کرایا جائے تاکہ اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکا جا سکے۔ دیانت دار اور کارکردگی دکھانے والے افسران کے لیے انعامات اور ترقی کا واضح نظام ہونا چاہیے۔ ٹیکنالوجی کا مثر استعمال ایف بی آر کی صلاحیت میں انقلابی اضافہ کر سکتا ہے۔ نادرا، بینکوں، بجلی و گیس کمپنیوں اور دیگر اداروں کے ڈیٹا کو آپس میں منسلک کر کے ٹیکس چوری کی نشاندہی ممکن ہے۔ ڈیٹا اینالیٹکس اور جدید سافٹ ویئر کے ذریعے پوشیدہ آمدن کو سامنے لایا جا سکتا ہے، جس سے محصولات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ایف بی آر کو سیاسی مداخلت سے پاک ایک خودمختار ادارہ بنانا بھی نہایت ضروری ہے۔ ٹرانسفر پوسٹنگ اور پالیسی فیصلوں میں سیاسی اثر و رسوخ ادارے کی پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اگر ایف بی آر کو آزاد اور خود مختار حیثیت دی جائے تو فیصلے میرٹ اور قومی مفاد کی بنیاد پر کیے جا سکیں گے۔
ٹیکس دہندگان کے ساتھ ایف بی آر کے رویے میں تبدیلی بھی ناگزیر ہے۔ خوف، چھاپوں اور ہراسانی کے بجائے سہولت، رہنمائی اور تعاون کا رویہ اپنایا جائے۔ آن لائن پورٹلز، ہیلپ ڈیسک اور ٹیکس سہولت مراکز کو فعال بنا کر عوام کے لیے ٹیکس ادائیگی آسان بنائی جائے تاکہ اعتماد بحال ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس شعور کی بیداری ایک دیرپا حل ہے۔ تعلیمی نصاب، میڈیا، مذہبی خطبات اور سماجی مہمات کے ذریعے یہ شعور اجاگر کیا جائے کہ ٹیکس دینا قومی فریضہ ہے۔ جب تک معاشرے میں ٹیکس کلچر فروغ نہیں پاتا، اصلاحات وقتی ثابت ہوں گی۔نظام کو آسان بنائیں تاکہ عام آدمی اور کاروباری افراد کو ٹیکس فائلنگ اور دیگر معاملات میں دشواری نہ ہو.ملکی و غیر ملکی بڑی کمپنیوں کی جوریڈکشن مختلف ٹیکس دفاتر میں منتقل کی گئی تاکہ کارکردگی بہتر ہو۔ ٹیکس نظام میں شفافیت لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں.ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ ٹیکس قوانین میں غیر ضروری پیچیدگیاں ختم کی جائیں.ٹیکس چھوٹوں اور استثنیٰ کے مرحلہ وار خاتمے کی تجاویز پر عمل کیا جائے تاکہ ٹیکس کا دائرہ وسیع ہو.ٹیکسیشن میں غیر جانبداری کے اصول پر عمل یقینی بنایا جائے۔
امیر طبقے پر ٹیکس بڑھانے کی تجاویز پر غور کیا جائے تاکہ معیشت میں برابری آئے۔ ایف بی آر کی بنیاد نوآبادیاتی دور کے نظام پر ہے، اس لیے اس میں جدید تبدیلیوں کی ضرورت ہے تاکہ یہ عوامی فلاح اور ملکی معیشت کے لیے موثر ہو۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایف بی آر کی اصلاح محض ایک ادارے کی بہتری نہیں بلکہ قومی معیشت کی بحالی کا سوال ہے۔ شفافیت، سادگی، ٹیکنالوجی، احتساب اور عوامی اعتماد کے امتزاج سے ہی ایف بی آر کو ایک موثر، باوقار اور عوام دوست ادارہ بنایا جا سکتا ہے، جو پاکستان کو معاشی استحکام اور خود کفالت کی راہ پر گامزن کر سکے۔

جواب دیں

Back to top button